1 573

یکساں نصاب تعلیم کا نفاذ اہم پیش رفت

وزیر اعظم عمران خان نے اقتدار سنبھالتے ہی ملک میں یکساں نصاب تعلیم کے نفاذ کی خواہش کا اظہار کیا تھا، انہوں نے اسے”ایک قوم ایک کتاب” کا نام دیا تھا۔ نصاب کو ترتیب دینے سے لے کر نفاذ تک کا سفر آسان نہیں تھا، اس راہ میں متعدد مشکلات آئیں، کورونا کی وجہ سے یکساں نصاب تعلیم کا نفاذ کافی مشکل ہو گیا، جبکہ پرائیویٹ تعلیمی اداروں اور پبلشر نے بھی کم وقت میں یکساں نصاب تعلیم کے نفاذ پر تحفظات کا اظہار کیا تھا، یوں مختلف وجوہات اور عومل کی بنا پر یکساں نصاب تعلیم کا نفاذ تعطل کا شکار ہوتا رہا، حکومت تین سال کی مسلسل جدوجہد کے بعد ماہرین تعلیم، سرکاری و پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے سربراہان اور پبلشرز کے ساتھ مشاورت سے ان کے تحفظات دور کرنے میں کامیاب ہوئی ہے اور اب یہ خواب پورا ہونے جا رہا ہے کیونکہ وفاقی حکومت کی طرف سے یکم اگست سے ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں یکساں نصاب تعلیم کے نفاذ کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ یکساں نصاب تعلیم کے نفاذ کے بعد پسماندہ اور غریب طبقہ سے تعلق رکھنے والے طلباء کو بھی آگے بڑھنے کے یکساں مواقع میسر آ سکیں گے، کیونکہ اس سے پہلے ملک میں جو تعلیمی نظام رائج تھا اس میں انگلش میڈیم اور اردو میڈیم کی واضح تفریق کے باعث صرف امراء کے بچوں کیلئے ہی آگے بڑھنے کے مواقع تھے، اس کے برعکس جب ہم ترقی یافتہ ممالک کے نظام تعلیم کا جائزہ لیتے ہیں تو وہاں پر شہریوں کیلئے آگے بڑھنے کے یکساں مواقع نمایاں طور پر دکھائی دیتے ہیں، اس کے برعکس پاکستان جیسے دیگر پسماندہ ممالک میں یہ سوچ پائی جاتی ہے کہ کچھ لوگ پیدا ہی حکمرانی اور قیادت کیلئے ہوئے ہیں، اسی لئے انہیں تعلیم کے بہتر مواقع دیئے جاتے ہیں تاکہ وہ احسن انداز سے حکمرانی کر سکیں۔ وزیراعظم عمران خان اس سوچ کے خلاف کھڑے ہوئے ہیں اسی لئے انہیں سخت مزاحمت کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے اور جو کام آج سے تین سال پہلے ہو جانا چاہئے تھا بڑی مشکلات کے بعد اب ہو پایا ہے، جس مافیا نے یکساںنصاب تعلیم کے نفاذ میں مشکلات پیدا کی ہیں، وہ مافیا اب بھی اس کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کرے گا، دو تین مضامین کے علاوہ باقی مضامین اردو میں ہیں، اس سے ان طلبا کو بہت فائدہ ہو گا جو ذہین تو تھے مگر انگریزی کی وجہ سے پیچھے رہ جاتے تھے، انگریزی ناواقفیت کے وجہ سے بچوں کی تخلیقی صلاحیتیں متاثر ہو رہی تھیں، اب جب بچوں کو ان کی مادری زبان یا قومی زبان میں تعلیم دی جائے گی تو ان کی تخلیقی صلاحتیں ابھر کر سامنے آئیں گی، کیونکہ انہیں انگریزی سیکھنے کیلئے اضافی محنت اور سمجھنے میں دقت کی وجہ سے رٹے نہیں لگانے پڑیں گے۔ یکساں نصاب تعلیم کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ کوئی مخصوص کتاب پڑھانے پر تعلیمی اداروں کو مجبور نہیں کیا گیا ہے بلکہ ان کیلئے ایک طریقہ کار بنایا ہے جس پر عمل کرنا تعلیمی اداروں کے لئے ضروری ہے، یعنی وزارت تعلیم کی ہدایات کی روشنی میں تعلیمی ادارے اپنی مرضی کی کتاب بھی نصاب میں شامل کر سکتے ہیں لیکن وزارت تعلیم کی عائد کردہ حدود سے باہر نکلنے کا اجازت نہیں ہو گی۔ تحریک انصاف کی حکومت نے یکسان نصاب تعلیم تو نافذ کر دیا ہے کیا یہ بہتر نصاب تعلیم بھی ثابت ہوگا؟ اس بارے فی الحال کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا، کیونکہ پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی طرف سے یہ کہا جا رہا ہے کہ وہ اس سے پہلے دنیا کا بہترین نصاب پڑھا رہے تھے جبکہ حکومت کی طرف سے جو نصاب انہیں دیا گیا ہے وہ پہلے نصاب کے مقابلے میں معیار کے اعتبار سے بہت پیچھے ہے، تاہم یکسان نصاب تعلیم کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہو گا کہ سرکاری تعلیمی اداروں کا معیار تعلیم بہتر ہوگا اور جو والدین اپنے بچوں کو پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں پڑھانے کی سکت نہیں رکھتے ان کیلئے آسانی ہو جائے گی کیونکہ پرائیویٹ تعلیمی ادارے اپنے نصاب کی وجہ سے برتری کا اظہار کرتے تھے جو اب نہیں رہے گا۔ تحریک انصاف کی حکومت کو یکساں نصاب سازی کا کریڈٹ جاتا ہے، یہ حکومت کی اہم کامیابی ہے، یکساں نصاب تعلیم کے نفاذ کے بعد سرکاری تعلیمی اداروں کی طرف طلباء کے رجوع میں اضافہ ہو گا،کیونکہ سرکاری تعلیمی ادارے سستا ذریعہ تعلیم ہیں اس لئے اب سرکاری تعلیمی اداروں کی کارکردگی پر توجہ دینی ہو گی ، یکساں نصاب تعلیم کا تمام صوبوں میں نفاذ آسان نہیں ہو گا، خیبرپختونخوا میں نئے تعلیمی نصاب کا نفاذ حکومت کے اعلان سے قبل ہی جولائی 2021ء کو ہو چکا ہے، پنجاب میں اس پر عمل آسانی سے ہو جائے گا، کیونکہ ان دو صوبوں میں تحریک انصاف کی حکومت ہے، بلوچستان میں بھی اتحادیوں کی مدد سے آسانی سے نفاذ ہو جائے گا مگر سندھ میں چونکہ پاکستان پیپلزپارٹی کی حکومت ہے تو وفاقی حکومت کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، حکومت نے یکساں نصاب تعلیم کے نفاذ کا اعلان تو کر دیا ہے، مگر کیا پرائیویٹ تعلیمی ادارے اور عوام بھی اسے قبول کر لیں گے؟ یہ اہم ہے اور اس پر غور کیا جانا چاہئے۔