2 554

پانچ اگست ،یوم استیصال

پاکستان کے عوام آج پانچ اگست کو بھارت کی طرف سے کشمیر کی شناخت اور تشخص پر آخری وار کے دوبرس پورے ہونے کے موقع پر یوم استیصال منارہے ہیں۔اس دن بھارت نے اپنی برسوں کی منصوبہ بندی کو حتمی شکل دیتے ہوئے کشمیر کی بچی کھچی شناخت اور نیم مردہ قوانین کی قبا کو تار تار کر دیا تھا اور بھارت اپنے مکروہ سامراجی عزائم کے ساتھ کھل کر سامنے آیا تھا ۔وہ عزائم جو ارمان بن کرستر برس سے بھارتیوں کے سینوں میں مچل رہے تھے اور وہ اس راہ پر آہستہ روی کے ساتھ چلتے جا رہے تھے ۔دوبرس قبل عالمی اور علاقائی حالات کو موافق دیکھ کر مودی نے اس طویل المیعاد ایجنڈے پر عمل درآمد کردیا تھا ۔مودی نے2014میں پہلی بار برسر اقتدار آتے ہی اس جانب سفر شروع کیا تھا اور یہ اشارے دینا شروع کئے تھے کہ وہ آئین کے آرٹیکل 370کے خاتمے کے معاملے پر دوبار ہ بحث کریں گے۔نریندر مودی کے دفتر میں تعینات ایک اعلیٰ عہدیدار نے کھل کر کہہ دیا تھا کہ نئی حکومت دفعہ370پر ازسرنو بحث کا آغاز کرے گی کیونکہ اس دفعہ نے ملک کو فائدے کی بجائے نقصان پہنچایا ہے۔مودی کے اعلیٰ عہدیدار کے اس بیان پر عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی نے تو سخت جواب دیا مگر پاکستان کی طرف سے مکمل خاموشی اپنائی گئی۔ یہ وہ وقت تھا جب پاکستان میں سرے سے کوئی وزیر خارجہ ہی نہیں تھا اور پاکستان کی طرف سے اس معاملے کو اہمیت ہی نہیں دی گئی جس سے شہ پاکر مودی اس سمت میں آگے بڑھتا گیا ۔پاکستان کی طرف سے ظاہر کیا جانے والا ردعمل مودی کے وہم وگمان میں نہیں تھا اگر ایسا ہوتا تو مودی یہ فیصلہ کرنے سے پہلے کئی بار ضرور سوچتا ۔عین ممکن ہے کہ کئی عرب ملکوں نے بھی مودی کو یہ یقین دلایا ہوگا کہ وہ پاکستان کو ایک حد سے زیادہ ردعمل دکھانے نہیں دیں گے اور پاکستان کے ردعمل کو سنبھال لیا جائے گا یہی وجہ ہے کہ پانچ اگست کے بعد کئی عرب سفارت کار اور کارندے پاکستان کو صبر وشکر کی تلقین کرنے کے لئے اسلام آباد کے چکر کاٹتے رہے مگر پاکستان نے ان سفارشو ں کو قبول نہیں کیا اور پرامن انداز سے جوابی حکمت عملی تیار کی ۔گزشتہ برس عمران خان اسمبلی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اہل کشمیر کو یہ پیغام بھی دے گئے تھے کہ پاکستان کشمیر یوں کے ساتھ کھڑا ہے ۔یہ الفاظ دیگر کشمیریوں کے ساتھ وہ سلوک ہر گز نہیں کرے گا جو عرب دنیا نے فلسطینیوں کے ساتھ کیا ۔یعنی ہاتھ پائوں باندھ کرانہیں یکا وتنہا اسرائیل کے آگے چھوڑ دیا ۔ایک ایک کرکے عرب ریاستیں فلسطینیوں کی پشت سے ہٹتی چلی گئیں ۔اس عمل کا آغاز کیمپ ڈیوڈ سمجھوتے سے ہوا جب فلسطینیوں کے کاز کے سب سے سرگرم عرب ملک مصر نے عرب لیگ کو نظر انداز کرکے اسرائیل کے ساتھ بقائے باہمی کا معاہدہ کر لیا ۔اس معاہدے کا عنوان ”سب سے پہلے میری جان” تھا یعنی مصر نے فلسطین کاز کو خدا حافظ کہہ کر اپنے جامے میں سمٹنے اور محدود ہونے کا فیصلہ کر لیا تھا ۔جس جان کو بچانے کے لئے انورالسادات نے کیمپ ڈیوڈ معاہدہ کیا تھا وہ بھی بچ نہ پائی اور ایک ناراض مصری کی سنسناتی گولی نے ان کا کام تمام کیا۔مصر کے فلسطینیوں کی پشت سے ہٹنے پراسرائیل نے سُکھ کا پہلا سانس لیا۔عالم تنہائی میں انہوںنے اسرائیل کے ساتھ خود سپردگی کا معاہدہ کیا جسے اوسلو معاہدہ کہا جاتا ہے ۔یاسر عرفات نے اس معاہدے کے بعد پاکستان کو پیغام بھیجا کہ یہ ہمارا عالم مجبوری کا فیصلہ ہے اسے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے مترادف نہ سمجھا جائے اور براہ مہربانی اسرائیل کو تسلیم کرنے کی بجائے فلسطینی کاز کی حمایت جاری رکھیں۔فلسطین اور کشمیر کے تنازعات ایک ساتھ شروع ہوئے اور اسرائیل نے فلسطین کو انچوں اور گزوں میں یوں ہضم کیا کہ آج دنیا کے نقشے سے فلسطین کو محدب عدسے سے تلاش کرنا بھی ممکن نہیں رہا ۔1948میں فلسطین جس رقبے پر مشتمل تھا وہ سکڑ تا چلا گیا اور اسرائیل پھیلتا اور وسعت اختیار کر تا رہا ۔یہاں تک کہ اکہتر برس بعدفلسطین ایک نقطہ اور اسرائیل ایک دائرہ ہے ۔دنیا نے اس عمل کا جس ڈھٹائی اور بے رحمی سے نظار ہ کیا وہ بھی تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے۔کشمیر میں امریکہ اور بھارت نے پاکستان کو قدم قدم پر ”کیمپ ڈیوڈ ”طرز کے جال میں پھنسانے کی کوشش کی ۔امریکہ کے شروع کردہ پیس پروسیس اور تمام تجاویز کا مرکزی خیال یہی تھا کہ کشمیر پر ”سٹیٹس کو ”معاہدے کی شکل دی جائے ۔وادی کشمیر بھارت کے قبضے میں رہے ۔ پاکستان آزادکشمیر اور گلگت پر قناعت کرے اور اللہ اللہ خیر سلا۔پاکستان کو ترغیب ،تحریص اور دھونس سمیت ہر طریقے سے اس مقام تک لانے کی کوشش کی ۔دوبار یعنی نوازشریف اور مشرف کے ادوار میںتو پاکستان کی ہیئت مقتدر ہ نے اس حل کوبزور طاقت ناکام بنایا۔اس کا مطلب یہ تھا کہ پاکستان جموں وکشمیر کی مسلم اکثریتی آبادی کو بھارت کے حوالے کرنے سے انکاری تھا یا ایسے کسی کاغذ پر دستخط کرنے کے دبائو کی مزاحمت کرتا رہا۔اس حرف انکار کی قیمت پاکستان کو بدترین دہشت گردی کی صورت میں چکانا پڑی ۔پاکستان نے اچھے دنوں کے انتظار میں یہ مشکل وقت کاٹ لیا مگر امن اور ترقی کے نام پر بھارت کے ساتھ” کیمپ” ڈیوڈ طرز کا سمجھوتہ کرنے سے صاف انکار کیا ۔جب پاکستان کو کسی معاہدے اور سجھوتے تک لانے میں ناکامی ہوئی توچار وناچار بھارت نے پانچ اگست کا یک طرفہ قدم اُٹھالیا ۔دو برس سے پاکستان اس فیصلے کی مزاحمت کر رہا ہے ۔مزاحمت کے انداز اور رفتار پر دورائے ہوسکتی ہیں مگر مزاحمت کے وجود اور حقیقت سے انکار سورج کو اُنگلی کے پیچھے چھپانے کے مترادف ہے ۔پاکستان اگر آج جنگ چھیڑ دے تو یہ لوگ دوسرے دن پاکستان پر امن دشمنی کا الزام عائد کرکے امریکی این جی اوز سے امن پروجیکٹس کے نام پر ڈالر لے کر امن کے حق میں مظاہرے کرنے اور موم بتیاں جلانے میدان میں نکلیں گے ۔سو یہ طبقہ لاعلاج عارضوں کا شکار ہے اور مایوسی کی اتھاہ گہرائیوں میں گم اور غلطاں ہے ۔جس دن پاکستان وادی کشمیر کو ذہنی اور عملی طور بھارت کے حوالے کرکے مصر کا کردار ادا کرے گا اس دن اس ملک کی آئیڈیولوجی اور جغرافیہ دونوں اپنا جواز کھودیں گے ۔خوش آئند بات یہ ہے کہ پاکستان کے سوچنے سمجھنے والے لوگ اور ادارے اس حقیقت کو پوری طرح سمجھ چکے ہیں۔