p613 400

صحت اور تعلیم دونوں ضروری

کورونا وائرس کے ڈیلٹا ویریئنٹ کے پھیلائوکے باوجود تمام صوبوں اور وفاق کا تعلیمی سرگرمیاں بحال رکھنے پر اتفاق اگرچہ سابقہ فیصلوں سے متصادم اور مشکل فیصلہ لگتا ہے لیکن معروضی حالات میں اب تعلیمی اداروں کو مزید بند رکھنا ممکن نہیں اس امر کا ادراک کرتے ہوئے ہی تمام صوبوں نے تعلیمی سرگرمیاں بحال رکھنے پر اتفاق کیاگیا۔اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ تعلیمی اداروں میں ایس او پیز کو سختی سے یقینی بنایا جائے گا۔ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے بتایا کہ بچے سکولوں میں50فیصد حاضری کے ساتھ آئیں گے، یونیورسٹیاں بھی کھلی رہیں گی، وزراء اپنے اپنے صوبوں میں یونیورسٹیوں میں اساتذہ اور عملے کی ویکسی نیشن کرائیں امتحانات بھی اپنے شیڈول کے مطابق ہوں گے۔ تعلیمی اداروں کے حوالے سے اگلا اجلاس25اگست کو ہوگا،25اگست کوصحت کے حوالے سے ایشوز کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔امر واقع یہ ہے کہ کورونا کے باعث گزشتہ ایک سال سے زائد عرصے سے ملک میں تعلیم کا سلسلہ معطل اور متاثر ہے جسے مزید جاری رکھنے کی اس لئے گنجائش نہیں کہ موجودہ حرج کو رفع کرنا اور اس کمی کو پورا کرنے کی کوئی صورت نہیں۔اب یہ امر ضروری ہو گیا ہے کہ بچوں کی صحت کا خیال رکھتے ہوئے ان کی تعلیم و تربیت بارے سنجیدگی اختیار کی جائے جس طرح دیگر شعبوں میں احتیاطی تدابیر کو روندا جاتا ہے کوشش کی جائے کہ کم از کم تعلیمی اداروں میں اس کا خیال رکھا جائے اور احتیاطی تدابیر کی پابندی یقینی بنائی جائے تاکہ خدانخواستہ ایسے حالات سے بچا جا سکے جس کے نتیجے میں مجبوراً تعلیمی اداروں کو بند اور تعلیم کا عمل ایک مرتبہ پھر معطل کرنے کی نوبت آئے۔
پرچہ آئوٹ ہونے کی پوری تحقیقات کی ضرورت
طالب علموں کے امتحانی مراکز پہنچنے اور ہال میں بیٹھنے کے بعد سوشل میڈیا پرآنے والے پرچے کو آئوٹ قرار نہ دینے کی گنجائش ضرور ہے لیکن اس کے باوجود اس کا مقررہ وقت سے پندرہ بیس منٹ قبل افشاء کیسے ہوا اس کی تحقیقات کی ضرورت ہے اس حوالے سے فرسٹ ائیر کے جاری امتحان میں کیمسٹری کے پرچے کا سوالنامہ وقت سے پہلے سوال نامہ سوشل میڈیا پر شیئر ہونے پر پشاور تعلیمی بورڈ نے تحقیقات کا آغاز کرتے ہوئے اس سلسلے میں ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ کو درخواست جمع کرادی ہے ذرائع نے بتایا کہ قبل ازیں بھی اس قسم کا واقعہ پیش آیا تھا جس کی تحقیقات کو ایف آئی اے کے حوالے کیا گیا تھا اسی طرح کی تحقیقات کونتیجہ خیز بنانے پر کم ہی توجہ دی جاتی ہے اور اسے ضابطے کی کارروائی اور وقتی طور پر نمائشی اقدام کے زمرے میں رکھنے کا رواج ہے جس کی گنجائش نہیں ہونی چاہئے۔ گزشتہ روز کے واقعے کے بعد یہ دوسراپرچہ ہے جومبینہ طور پر آئوٹ ہوا ہے کہیں نہ کہیں کسی حوالے سے اس نظام میں کوئی ایسی خامی ضرور ہے جس کا فائدہ اٹھایا جارہا ہے سمجھ سے بالاتر امر یہ ہے کہ اگر کسی نے پرچہ آئوٹ کرکے اس سے استفادہ کیا ہے یا مبینہ طور پر رقم کمائی ہے تو وہ اس کا افشاء کیوں کرے گا؟صورتحال اور وجوہات جو بھی ہوں ان واقعات کی تحقیقات اور ملزمان سامنے لائے جائیں خاص طور پر بورڈ کے حکام کو مشتبہ شخص خود اپنے ارد گرد تلاش کرنے کی زیادہ ضرورت ہے۔
ایس او پیز کی کھلی خلاف ورزی
کورونا کی چوتھی لہر میں تیزی کے باوجود حکومتی طور پر اقدامات کی سنجیدگی پر نظر ڈالیں تو خود حکومت کٹہرے میں نظر آتی ہے امر واقع یہ ہے کہ پبلک ٹرانسپورٹ کی جانب سے ایس او پیز پر پابندی نہیں کی جارہی ہے ۔ ویگن ، بی آر ٹی بسیں اور دیگر گاڑیاں مسافروں سے بھری ہوتی ہیں ٹرانسپورٹرز50کے بجائے 100فیصد سواریاں بٹھانے سے باز نہیں آتے۔ جن کے خلاف حکام کارروائی سے گریزاں ہیں۔ اگر ایس او پیز پر عملدرآمد مقصود ہے توحکومت اور انتظامیہ کی جانب سے ذمہ دارانہ کا مظاہرہ کرنا ہو گابصورت دیگر عوام سے توقع ہی عبث ہے کم از کم بی آر ٹی میں ہی ایس او پیز کی پابندی کرائی جائے تو غنیمت ہو گی۔
لاحاصل جرگہ
گرینڈ قبائلی جرگہ میں متفقہ طور پر فاٹا انضمام کو مسترد کرتے ہوئے قبائلی عوام کی امنگوں کے مطابق ان کے مستقبل کا فیصلہ کرنے اور25 ویں آئینی ترمیم کو واپس لینے کے مطالبات کا کوئی جواز نہیں اور نہ ہی14ستمبر2021کو اسلام آباد کے جناح کنونشن ہال میں گرینڈ قبائلی جرگے کے انعقاد کے اعلان کاکوئی جواز بنتا ہے کیونکہ اس حوالے سے عرضے تک مشاورت اور جرگے ہو چکے ہیں اور قبائلی عوام کی اکثریت کی جانب سے عندیہ ملنے کے بعد ہی ترمیم کر دی گئی ہے جس کی واپسی مشکل اور اس کا امکان بھی معدوم ہے۔قبائلی زعماء اس طرح کے کار لاحاصل کی جدوجہد کی بجائے اگر علاقے کے عوامی مسائل کے حل اور علاقے کی ترقی کے لئے حکومت پر دبائو ڈالنے کے لئے اجتماعات کا انعقاد کریں تو زیادہ بہتر ہو گا۔