3 454

پولیس اور دہشت گردی کی حالیہ لہر

گزشتہ روز روزنامہ مشرق نے خیبر پختونخوا پولیس کے حوالے سے یوم شہداء کا ایڈیشن شائع کیا۔ اس میں شہید افسر عابد علی کی تصویر دیکھی تو ذہن میں آندھیاں سی چلنے لگیں۔ ایک ایک کرکے تمام شہداء کی تصویریں ان کی آوازوں کے ساتھ دماغ کے پردوں سے ٹکرانے لگیں۔ شہید عابد علی کے ساتھ زندگی کی پہلی ملاقات برادرم عمران بخاری کی توسط سے روزنامہ مشرق کے رپورٹنگ روم میں ہی ہوئی تھی۔ اس کے علاوہ شہید ملک سعد، شہید صفوت غیور، شہید خان رازق، شہید اقبال مروت، شہید کالام خان، شہید ہلال حیدر، شہید خورشید خان ‘ شہید طاہر داوڑ مطلب ڈیڑھ ہزار کے لگ بھگ ایک طویل فہرست ہے۔ شہداء میں نوشہرہ سے تعلق رکھنے والی اہلکار شازیہ بی بی کا ذکر بھی یہاں ضروری ہے۔ جب صحافت کا آغاز کیا تھا اس وقت اندازہ نہیں تھا کہ مذکورہ بالا پولیس افسران کے ساتھ زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پر آمنا سامنا ہوگا اور پھر وہ شہید کر دیئے جائیں گے۔ میرے لئے اس طویل کہانی کا آغاز محرم کے مہینے سے ہی ہوا تھا۔ شہید ملک سعد سے صبح محرم کی سیکورٹی کے حوالہ سے بات ہوئی۔ انہوں نے کہا صدر کے دورہ کے موقع پر ملتے ہیں۔ ان دنوں مرحوم صحافی سہیل قلندر اغوا ہوئے تھے اس لئے روز ہی ملک سعد سے بات ہمارا معمول تھی۔ شام کو انہوں نے صدر کا دورہ کرنا تھا۔ میں نے کال کی تو انہوں نے کال نہیں اٹھائی۔ رات کے ساڑھے آٹھ بج گئے۔ تھوڑی دیر بعد خبر ملی کہ قصہ خوانی میں دھماکہ ہوا ہے۔ جلد ہی خبر ملی کہ خان رازق شہید ہو چکے ہیں۔ ایک قیامت تھی۔ جائے وقوعہ اندھیرے میں ڈوب چکا تھا۔ تھوڑی ہی دیر میں ملک سعد کے شہادت کی خبر بھی مل گئی۔ ساری رات رپورٹنگ کرتے گزری۔ صبح صادق کے وقت گھر لوٹتے ہوئے دیکھا تو شہر کی ساری سڑکیں ویران تھیں۔ ایسے لگ رہا تھا کہ جیسے شہر یتیم ہو گیا تھا۔ پولیس اہلکار ایسے نظر آرہے تھے کہ جیسے سڑک پر صرف سائے لہرا رہے ہوں۔ پشاور پولیس کا سربراہ شہید ہو چکا تھا۔ پختونخوا پولیس اور میرے لئے یہ ایک طویل جنگ کا آغاز تھا۔ پشاور شہر تین اطراف سے حملوں کی زد میں تھا۔ تین اطراف میں قبائیلی علاقے پشاور کو گھیرے ہوئے تھے۔ ایک طرف درہ آدم خیل دوسری طرف خیبر اور تیسری طرف مومند کا علاقہ تھا اور ان علاقوں میں عسکریت پسندوں نے ڈیرے ڈال دیئے تھے۔ چونکہ پولیس ہی کسی بھی شہر کی حفاظت کی پہلی اور آخری دیوار ہوتی ہے اس لئے عسکریت پسندوں نے آغاز ہی اس دیوار کی سب سے مضبوط اور بنیادی اینٹ سے کیا۔ملک سعد کے بعد یکے بعد دیگرے تمام افسران ماتھے پر شہادت کی تمنا لئے آگے بڑھتے رہے۔ میں نے یہ بھی دیکھا کہ حملہ آور کی اطلاع ملتے ہی صفوت غیور ہمیں چھوڑ کر ایسے اٹھے کہ جیسے وہ اسی کا انتظار کر رہے تھے۔ پھر یہ بھی خبر آئی کہ صدر میں ہی ایک خودکش حملہ میں ان کی شہادت ہوچکی ہے۔ کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ پشاور پر جو گزری اگر یہ افسران نہ ہوتے تو پھر کیا حالت ہوتی۔ میرا ذاتی طور پر یہ ماننا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ان شہدا ء کا سب سے بڑا کارنامہ وہ تجربہ ہے جو جان دے کر انہوں نے اپنے آنے والے پولیس جوانوں کے لئے چھوڑا ہے۔ شہری جنگ میں جو شاید دنیا کی مشکل ترین جنگ ہوتی ہے پختونخوا پولیس کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ میری موجودہ انسپکٹر جنرل آف پولیس معظم جاہ انصاری سے درخواست ہی ہوگی کہ اگر کوئی پولیس میوزیم ہے تو بہت اچھی بات ہے یہ میری لاعلمی ہو گی جو مجھے پتا نہیں تھا لیکن اگر نہیں ہے تو فوری طور پر اس کے قیام کی کوشش کی جائے۔ وزیر اعلیٰ محمود خان سے بھی گزارش ہے کہ وہ پولیس میوزیم کے قیام میں اپنا کردار ادا کریں۔ اس میوزیم میں اس پوری جنگ میں جو جو ہوا اس حوالہ سے اشیا، وڈیوز، سی سی ٹی ویز، آڈیوز، اخبارات کے تراشے، شہداء کی تصویریں، ان کے زیر استعمال اشیا،ان کی تحریریں، گاڑیاں ہر اس یاد کو محفوظ کیا جائے جو اس دھرتی پر پختونخوا پولیس پر گزری ہے۔ یہ آنے والی نسلوں کے لیئے سرمایہ ہوگا۔ابھی بھی دیر نہیں ہوئی۔ ہم ایک بار پھر ایک نئی جنگ کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ خدشات ہیں کہ یہ جنگ پرانی جنگ سے زیادہ بدنما ہوگی۔ افغانستان کی بگڑتی صورتحال اور پولیس اہلکاروں کے ٹارگٹ کلنگ کی حالیہ لہر اس بات کی غمازی کررہی ہے کہ سب کچھ ٹھیک نہیں اور آنے والے دنوں میں دہشت گردی کا عفریت ایک بار پھر سر اٹھائے گا۔پولیو کی ڈیوٹی پر مامور اہلکاروں کی خصوصی تربیت کی جائے۔ اس حوالہ سے پاک فوج کی خدمات بھی حاصل کی جاسکتی ہیں۔پولیو ڈیوٹی کے دوران ان اہلکاروں کی حالت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں سخت گرمی میں وہ بسا اوقات پیدل ہی ڈیوٹی سرانجام دے رہے ہوتے ہیں اور لگتا ایسے ہے کہ خود ان کو گارڈز کی ضرورت ہے۔ اس طرح وہ کھلے عام شکار کے لئے دستیاب ہوتے ہیں جو کہ ظلم ہے۔ اب اگر افغانستان کی صورتحال بگڑتی ہے تو ہمارے نئے ضم شدہ اضلاع میں تھانوں کی جو صورتحال ہے یا ان کے پاس جو لاجسٹکس ہیں وہ قطعی اس جنگ کے قابل نہیں ہیں۔ اب تک تو پاک فوج موجود تھی لیکن ظاہری بات ہے آپریشن کے بعد جب عسکریت پسند افغانستان چلے گئے تو پاک فوج بھی بارڈر تک ہی محدود ہو چکی ہے۔ اس لئے اب کی بار اگر دہشت گرد مہاجرین کی شکل میں یا عام پاکستانی کی شکل میں بارڈر کراس کرکے اپنی پرانی پناہ گاہوں میں واپس آتے ہیں تو ان سے نمٹنا پولیس کے لیئے ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہوگا۔ اب تو سابقہ فاٹا کے اضلاع بھی پختونخوا میں ضم ہوچکے ہیں وہ ایک نیا چیلنج خیبر پختونخوا پولیس کو درپیش ہے۔ پولیس شہدا کو یاد رکھنے کا مقصد صرف خراج تحسین پیش کرنا نہیں ہوتا بلکہ ہمیں ان کی قربانیوں سے سیکھنا بھی ہے۔ جب سیکھنا ہے تو ظاہری بات ہے کہ انہوں نے کیا کیا تھا اس کا ریکارڈ ہونا چاہئے یا اس پر کام کرنا چاہئے۔ آگے دن مزید کٹھن ہیں اگر امن ہی نہیں ہوگا تو سیاحت اور کاروبار چلے یہ ناممکن ہے اس لئے صوبائی حکومت کو ترجیحی بنیادوں پر فنڈز پولیس کو فراہم کرنے ہوں گے۔ ان کی تنخواہوں کا جائزہ لینا ہوگا، ہتھیار، ٹیکنالوجی، تربیت، گاڑیاں، عمارتوں پر توجہ دینی ہوگی۔ ورنہ آنے والے سالوں میں چار اگست پر لگے بینرز میں شہداء کی تعداد اور تصویروں کا اضافہ ہی ہوگا اور کچھ نہیں۔