Mashriqyat

مشرقیات

آج کی مشرقیات استحصال اور استیصال کے الفاظ بارے سوچا تھا یہ خشک اور علمی موضوع ہے اس لئے صرف اس طرف توجہ دلانے پر ہی اکتفا ہے بہرحال یوم استحصال کشمیر اور یوم استیصال کشمیر میں سے کونسا صحیح ہے اس پر حکومت اور میڈیا تھوڑی سے علمی تحقیق کرے تو مناسب ہو گا۔ اب چلتے ہیں اپنے موضوع کی طرف ۔نچ پنجابن نچ اور نچ مجاجن نچ کی بحث عرصہ قبل چلی تھی اور ہمارے بعض دوستوں کو نچ پنجابن نچ کا طنز یہ استعمال بہت بھاتا بھی رہا ہے حالانکہ اچھے برے ناچنے گانے والے اور دور جدید کی اصطلاح میں ڈانس پارٹی کرنے والے ہر جگہ ہوتے ہیں خیبر پختونخوا میں ھیجڑے نچانے کا رواج کچھ زیادہ ہی ہے ان سے دوستی اور قتل کے واقعات بھی کم نہیں یقین نہیں آتا تو کسی دن ہشتنگری کے اس پلازے کے سامنے لمحہ بھر کو رک کر دیکھیں لوگ تو لوگ پولیس موبائل بھی وہیں کھڑی ہوتی ہے تازہ خبر ہے کہ پشاور میں ڈانس پارٹیاں عروج پر ہیں جس میں ملازمت پیشہ اور کالج کی لڑکیاں بھی تین چار گھنٹوں میں تیس ہزار کمانے لگی ہیں ہزار روپے فی ڈانس کوئی معاوضہ ہی نہیں یہاں ایک کندھے مٹکانے پر لاکھوں نچھاور ہوتے ہوں گے دلچسپ بات یہ ہے کہ پشاور پولیس کے سربراہ نے اس کی تردید نہیں کی البتہ نگرانی کی بات ضرور کی ہے جس سے اگر یہ مطلب لیا جائے کہ پولیس نگرانی کرکے یعنی تحفظ دے کر اپنا حصہ وصول کرتی ہے تو بے محل نہ ہوگا ممکن ہے یہ بابائے مشرقیات کی بدگمانی ہو جس کے لئے وہ کافی بدنام بھی واقع ہوئے ہیں۔ یاددش بخیر ایک پتلے سوکھے آئی جی کے پی ہوا کرتے تھے خیبر پختونخوا کے ان کو باقاعدہ شکایت کی گئی مہربان نے شکایت ملنے پر Noted کا کمال کا مسیج بھی کیا اے ایس پی کی قیادت میں چھاپہ بھی پڑا مگر دھندہ بند نہ ہوسکا۔سی سی پی او کے نمبر شکایات پر کمپلینٹ کی تو دھندہ باز کو بتا دیا گیا کہ تمہاری شکایت کس نے کی ہے یہ پولیس کا ایک چہرہ ہے بے بسی کا بھی اور بے حسی کا بھی ۔ جو لوگ نچ پنجابن نچ پر طنز کیا کرتے تھے وہ اب خیبر پختونخوا میں ان ڈانس پارٹیوں کے بارے میں کیا کہیں گے ۔ خیبر پختونخوا کثیر اللسانی و کثیر الثقافتی معاشرہ ہے افسوس یہاں کے حوالے سے کسی ایک کی طرف انگشت نمائی مناسب نہیں کیونکہ اب تو یہاں کا سارا معاشرہ ہی ٹک ٹاک بن گیا ہے ان ڈانس پارٹیوں پر سی سی پی او اگر صرف نگرانی کے فریضے سے اگر آگے بڑھ کر ایک آدھ نمائشی چھاپہ ہی ماریں اور تماش بینوں و تماشا بننے والیوں کو تھوڑا ڈسٹرب ہی کریں تو کارکردگی شمار ہوگی اس سے زیادہ کی توقع نہیں ان تلوں میںتیل ہو تو بندہ توقع رکھے نا ۔ ان ڈانس پارٹیوں میں نشہ عام ہونے کا تذکرہ ہے ممکن ہے دیگر لوازمات بھی جڑے ہوں اس سے زیادہ کی بدگمانی بھی ٹھیک نہیں۔پرانے پاکستان میں صوبے میں ڈانس پارٹیاں کم از کم نہیں ہوتی تھیں یا پھر چھپ چھپا کے ہوتی تھیں اب یہ عام ہو رہی ہیں قبل اس کے کہ پورا معاشرہ ٹک ٹاک بن جائے اسے ٹھیک ٹھاک رکھنے کی کوشش تو کیجئے ۔ کیوں کیا خیال ہے؟ کچھ غلط تو نہیں کہا۔