درست فیصلے کے قانونی راستے اہم ہیں

تبدیلی کا مطلب صرف یہی نہیں کہ تبدیلی کی خواہش کے وقت سے پہلے ہوتے ہر ایک عمل سے چھ الگ کر گزرنے کو ہی تبدیلی کہا جائے گا۔ معاشروں میںتبدیلی سوچ کی تبدیلی ہوا کرتی ہے اور اگر تبدیلی اثبات کی علمبردار ہو تو معاشرے میں یہ سمجھ پیدا ہو جاتی ہے کہ جہاں جہاں معاشرے کی سمت درست نہ ہو ‘ تبدیلی صرف انہی جگہوں پر درکار ہوتی ہے ۔ کبھی بھی کسی معاشرے میں خواہ وہاں بگاڑ کتنا ہی قدم جمائے ہوئے کیوں نہ ہو۔ اس حد تک کہ معاشرے پر قابض نہیں ہوتا کہ ہر ایک ادارے اور ہر ایک سوچ کو 360 کے زاویے پر تبدیل کر دینے کی ضرورت ہو۔ بگاڑ کہیں کم کہیں زیادہ ہوتا ہے اور اگرمعاشرے میں تبدیلی کا مآخذ حکومت ہو جیسے آج کل پاکستان میں ہے تو اس بصیرت کا ہونا انتہائی اہم ہے محض اس لئے کہ اس حکومت سے پہلے ادارے اسی سمت میں چل رہے تھے ان کا رخ موڑ دینا اور یہ سمجھنا کہ پہلے رخ درست نہ تھا کوئی اچھی بات نہیں۔
ہنری کسنجر نے لکھا تھا کہ اب انقلاب کا مزاج بدل چکا ہے اور یہ تبدیلی انقلاب فرانس کے زمانے میں آئی۔ اب لیڈروں کے مزاج سے انقلاب کے مزاج کا تعین ہوتا ہے۔ پاکستان میں ہم جس انقلاب کے خواہاں ہیں اس کا عالم بھی کچھ مختلف نہیں لیکن اس سب کے ساتھ یہ سمجھنے اور کھلے دل و دماغ سے تعین کرنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان میں کیا سب کچھ ہی غلط ہو رہا تھا یہ حکومت نو آموز بھی ہے اور دو دہائیوں سے اپوزیشن میں بھی رہی ہے ۔ یہ ابھی تک اسی بچپنے کا شکار ہیں۔ پاکستان گنجلک حالات اور جغرافیے کا ملک ہے ۔ اس کے باہر معاملات کی جو ابتری ہے وہ اس کے درون بھی اثر پذیر ہے اور پھر یہ بھی تعین کرنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان کا مستقبل کیا ہو گا۔ اس ملک کو ہم سرمایہ کارانہ نظام کی طرف لے کر جانا چاہتے ہیں یا مسئلہ کچھ اور ہے ۔ پاکستان ایک زرعی ملک رہا ہے اسے صنعتی ملک میں تبدیل کرنے کی خواہش گزشتہ حکومت میں شدید تھی لیکن یہ تناسب تلاش کرنا بہت اہم ہے کہ پاکستان میں کس حد تک زراعت پر انحصار کرنا چاہئے اور کس حد تک صنعتوں پر توجہ دی جانی چاہئے ۔پاکستان کی ترقی کے لئے ایک درست تناسب کا تلاش کیا جانا بہت اہم ہے ۔ زراعت اور صنعت مل کر ہی پاکستان کو معیشت کی پرپشانی کے اس دور سے نکال سکتی ہیں ۔ اس حکومت کی سمت درست ہے لیکن تجربہ نہ ہونے کے باعث انہیں کئی مشکلات کا سامنا ہے ۔ حکومت کے تین سالوں نے کافی کچھ سکھایا ہو گا لیکن ایک بات ابھی تک واضح نہیں ہو سکی کہ پاکستان میں کئی ادارے ایسے ہیں جو غریب عوام کی خدمت سے وابستہ ہیں۔ انہیں مکمل منافع کمانے والے اداروں میں تبدیل کرنا ممکن ہی نہیں۔ اپنے ذاتی خیالات سے چند لمحے کو مبرا ہو کرانہیں یہ سمجھنے کی کوششیں کرنی چاہئے کہ جیسے تمام سیاست دان کرپٹ نہیں اس طور سارے بیورو کریٹ بھی کرپٹ نہیں اور بیورو کریسی کو مسلسل اس ملک کو چلانے کی تعلیم دی جاتی ہے جو یقیناً کسی نو آموز کو نہیں ہوتی۔ اس بات کو اپنی صحیح صحت کے ساتھ سمجھ لینا بہت اہم ہے ۔ درست ٹیم کا انتخاب کرنا ضروری ہے اور درست سمت کا بھی محض اس بات کا اعادہ کرنا کہ ہم بے ایمانی قطعی نہیں کریں گے ہی کافی نہیں۔ اس ملک کو نقصان پہنچانے کے لئے اتنا ہی بہت ہے کہ نہایت ایمان داری کے ساتھ غلط سمت میں اس ملک کو لے کر چلا جائے یا پھر فیصلے صرف تعصبات کی بنیاد پر ہوں یا ذاتی پسند و ناپسند کی بنیاد پر۔ اگر اس حکومت کو سرمایہ کاری کا نظام پسند ہے تو ممکن ہے کہ اس وقت اس غریب ملک کے لوگوں کے لئے یہ نظام درست نہ ہو۔ ہر ایک شئے اور ادارہ نہ تو قومیایا جانا درست ہے ارو نہ ہی اس کا کارپوریٹ کے حوالے کر دینا ۔ سوچ سمجھ کر فیصلے کی ضرورت ہے جو کہ شاید موجودہ ٹیم کے لئے ایک خاص حد سے زیادہ کرنا اس لئے ممکن نہیں کہ ان کی نیت درست ہو سکتی ہے لیکن یبورو کریسی کے خلاف ان کا تعصب بھی بہت زیادہ بڑھا ہوا ہے اور پھر ان کی پسند ناپسند بھی درست نہیں۔ ملک کے کئی ادارے محض اس وجہ سے تباہ ہو جائیں گے کہ مفادات کا کھیل موجودہ حکمرانوں کو سمجھ ہی نہ آئے گا اور جب تک سمجھ آئے گا اس وقت تک نیب دروازوں پر دستک دے رہی ہوگی۔
میں ان لوگوں میں سے ہوں جو اکثر ہی خوش گمان رہتے ہیں۔ چاہتے ہیں کہ یہ ملک کامیابی کی منازل طے کرے لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ خواہش اور حقیقت میں بہت فرق ہوا کرتا ہے ۔ ہم چاہتے ہیں کہ یہ ملک ترقی کرے لیکن اس ملک کی ترقی کا راستہ ہی اگر معلوم نہ ہو تو کوئی کیا کرے ۔ ایک کے بعد ایک افسوسناک صورتحال سے سامنا رہتا ہے اور سبق کوئی نہیں سیکھتا ۔ اب بھی اگر یہ حکومت اس ملک کے حوالے سے یہ نہیں سیکھ سکی کہ اس ملک میں ایمان داری کے لئے فضا مناسب نہیں رہی لیکن اسکا یہ قطعی مطلب نہیں کہ لوگ ایمان دار نہیں اور انہیں تلاش نہیں کیا جا سکتا تو پھر یہ انتہائی افسوسناک بات ہے ۔ پاکستان انہی لوگوں کی وجہ سے قائم و دائم ہے لیکن ان لوگوں کی تعداد اب بہت کم ہو چکی او وہ بھی انتہائی خاموشی سے کسی تاریک کونے میں اپنی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں کیونکہ ان میں سے کوئی اگر کسی غلط پالیسی کے خلاف آواز اٹھائے تو اسے خاموش کرنے کے لئے صرف بدعنوان عناصر ہی نبرد آزما نہیں ہوتے بلکہ ہمارے ایماندار حکمران بھی شامل ہو جاتے ہیں کیونکہ انہیں چاپلوسی بہت پسند ہے ۔ ان کے ذہن میں کوئی بات آجائے تو ان کی بات پر من وعن لبیک کہنے والے لوگ بہت پسند ہیں کیونکہ ان کا خیال ہے کہ چیزوں اور معاملات کے بگاڑ کی درستگی تو بہت ہی آسان ہے ۔ درستگی کا فیصلہ آسان ہوتا ہے اس فیصلے پر قائم رہنا بہت مشکل عمل ہے اور پھر حکومتی معاملات میں یہ بات سمجھ لینا بہت ضروری ہے کہ ہر ایک درست فیصلے پر عملدرآمد کا ایک قانونی راستہ ہے ۔ درست فیصلہ صرف اس راستے کے ہی نتیجے میں درست رہتا ہے اور یہ بات ہی سب سے اہم ہے۔