مشرقیات

کہا جاتا ہے کہ پہلے تولوپھر بولو مگر ہمارے ہاں اس کا کم ہی رواج ہے تولا تو بہت جاتا ہے مگر باتوں کو نہیں ۔ باتوں کو تولنے کے لئے تولہ ماشہ تک کا خیال رکھنا پڑتا ہے اب تو گرام کا دور ہے اور ڈیجیٹل ترازو بھی دستیاب ہے اس لئے صحیح ناپ تول آسان بھی ہے اور مشکل بھی مشکل اس طرح سے کہ پنکھا بھی بند کرکے تولیں گے کہ ترازو بڑا حساس ہے۔ڈی جی ریڈیو پاکستان عاصم کچھی کی ریڈیو کی ڈیجیٹلا ئزیشن کی بات بس ان کے نام سے حرف ”ھ” نکالنے کے مساوی ہے ۔ ریڈیو کی عظمت رفتہ کی بحالی کی بات بھی”پکی” نہیں مشکل کچھ بھی نہیں لیکن احمد فراز ‘ رضا ہمدانی ‘ فارغ بخاری ‘ زیتون بانو’ اجمل خٹک ‘محسن احسان ‘پروفیسر طہٰ خان ‘ ہمایون ہما ‘فقیرحسین ساحر ‘ حمید اصغر ‘ مشتاق شباب ‘ گلزار احمد ‘ ڈاکٹر لطف الرحمان ‘ غلام محمد ‘غلام محمد قاصر’عنایت اللہ (گل لالہ) سیدرحمان شینو ‘اسماعیل شاہد ‘قاضی ملا ‘ عثمان دائودزئی اور دیگر جواہر گراں مایہ کہاں سے لائیں؟ ملنے کے نہیں نایاب ہیں یہ۔اں کے بغیر عظمت رفتہ کی بحالی ممکن ہی نہیں بابائے مشرقیات کے مطابق یہ دعویٰ ہی غلط ہے کہ جو عظمت چلی جائے اسے کوئی واپس لاسکتا ہے عظمت واپس لانے کی تو بات ہو سکتی ہے اس کی مؤنث کی نہیں۔ اب تو ہر جگہ پستی ہی پستی کا دور دورہ ہے ۔کچھی کا ایک اور کچا کام یہ ہے کہ وہ ریڈیو پاکستان کی اراضی فروخت کرنے لگے ہیں ریڈیو پاکستان کے پاس جی ٹی روڈ پر بڑی وسیع اراضی موجود ہے جہاں اگنے والی گھاس کی فروخت ہو تو خاصی آمدن ہوگی اسکی فروخت اور کمرشل استعمال حساس معاملہ ہے ریڈیو پاکستان کے پشاور سٹیشن کے خوبصورت سبزہ زار ہی اس کی پہچان ہیں یہاں اگر چند ٹکوں کے لئے کوئی لنٹر ڈالا جائے تو کیا موزوں ہو گا ایسا ممکن بھی نہیں یہاں تو ریڈیو پاکستان کی عمارت کے اندر آس پاس کے”زبردست” گاڑی کھڑی کرنے کو سیکورٹی رسک قرار دیتے ہیں کمرشل سرگرمیاں کہاں سے شروع ہو سکتی ہیں ریڈیو پاکستان کی عظمت رفتہ کو ایک طرف رکھیں اس کی ڈیجٹلائزیشن کو خواب سمجھیں یا حقیقت اس سے قطع نظر ریڈیو پاکستان کے ان خدمت گاروں کے چیک تو بروقت ملا کریں جو بہت تھوڑے معاوضے پر برسوں سے ریڈیو کی صدا بند نہیں ہونے دے رہے ہیں۔ لطیفہ یہ بھی ہے کہ ایک وکیل صاحب کو ایک دن کا معاوضہ ملا جسے انہوں نے اکائونٹ میں جمع کرایا تو وہ پورا چیک بنک کی کٹوتی سے کم نکلنے پر بنک والوں نے ان کے اکائونٹ سے سو روپے مزید کاٹ لئے اسے کہتے ہیں لینے کے دینے پڑ گئے وکیل صاحب چیک جمع ہی نہ کراتے سو روپے تو نہ کٹتے اب آپ ہی بتایئے ریڈیو بارے کچھی کی بات کچی ہے کہ پکی۔ بندہ بات کرے تو کچھ سوچ سمجھ کر کرے گھر کے بھیدی ہی لنکا ڈھاتے ہیں ڈی جی اگر اپنے دورے میں اور کچھ کرنے میں تہی دست تھے تو کم از کم چیک ہی مقامی طور پر ایشو کرواتے کہ آرٹسٹوں کی ایک دن کی دیہاڑی تو بچ جاتی ورنہ شیخ رشید جیسے وزیر اطلاعات بھی ٹیکس کا مسئلہ حل نہ کروا سکے البتہ آخری بار معاوضوں میں واجبی اضافہ انہوں نے ہی کیا تھا اس کے بعد خیر خیریت ہے۔