Edariya

سلامتی کونسل کی صدارت بھارت کو دینے کے پس پردہ عزائم

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت بھارت کو ایک ایسے وقت میں ملی ہے، جب افغانستان میں طالبان کی بہت تیزی کے ساتھ کابل کی جانب پیش قدمی جاری ہے اور اس سے قبل امریکہ اپنی فوج کو افغانستان سے کوئی واضح روڑ میپ دیے بغیر واپس بلا چکا ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق افغانستان کے زیادہ تر حصے میںاب گھمسان کی جنگ جاری ہے اور اقوام عالم اس صورت حال پر شدید پریشان ہے۔ بھارت نے 8اگست کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایک ہنگامی اجلاس کی پہلی بار صدارت کی ،جس کے ایجنڈے میں میری ٹائم سکیورٹی (بحری امور) کے علاوہ افغانستان کی موجودہ صورت حال کو بھی ایجنڈے میں شامل کیا گیا تھا۔ مگر بھارت نے اپنی پہلی صدارت میں ہی یہ ثابت کر دیا کہ وہ اس منصب کی اہلیت ہی نہیں رکھتا،کیوں کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں افغانستان کی صورت حال کی وضاحت کے لیے پاکستان کو مدعو نہ کرنا سلامتی کونسل کے قوانین کی خلاف ورزی ہے،جس کا بھارت مرتکب ہو چکا ہے۔ اس پر اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے کہا کہ پاکستان نے طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے، اسی وجہ سے پاکستان نے افغانستان سے متعلق سلامتی کونسل کے اجلاس میں شرکت کی درخواست کی تھی لیکن بھارت کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے پاکستان کو ہی مدعو نہیں کیا گیا۔ یاد رہے کہ افغانستان کے نمائندے کو اجلاس میں تقریر کی اجازت دی گئی،جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا رکن ہی نہیں۔منیر اکرم نے مزید کہا کہ افغانستان میں موجود مسلح گروہ امن نہیں دیکھنا چاہتے۔ یہ وہ حقیقت ہے جس سے افغانستان کی حکومت اور بھارت دونوں آنکھیں چرا رہے ہیں۔اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفیر منیر اکرم نے پاکستان کے خبر رساں ادارے اے پی پی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ سلامتی کونسل میں انڈین صدارت پر پاکستان اپنی توجہ مرکوز رکھے گا، ہم بھارت کی صدارت سے ہرگز فکر مند نہیں ہیں۔بھارت کی طرف سے سلامتی کونسل کے اجلاس میں نہ بلانے پر پاکستانی مندوب نے سلامتی کونسل کے صدر کو خط بھیج دیا ہے جس میںیہ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اگر این جی او کو سلامتی کونسل اجلاس میں بلایا جا سکتا ہے تو پاکستان کو کیوں نہیں؟منیر اکرم نے خط میں یہ بھی لکھا کہ دو عشروں سے افغانستان کی صورتحال سے متاثر پاکستان کو اجلاس میں بلانا چاہیے تھا، سلامتی کونسل میں بھارتی سربراہی کی وجہ سے شفافیت کی امید نہیں ۔اس سلسلے میں پاکستانی دفتر خارجہ نے بھی بیان جاری کیا ہے۔پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ چوہدری نے کہا ہے کہ انہیں امید ہے کہ بھارت سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران غیر جانبدار اور اصولوں کے مطابق اپنا کردار ادا کرے گا۔
طرفہ تماشہ یہ بھی ہے کہ دوسری جانب افغانستان طالبان کی سپلائی لائن اور انفرا سٹرکچر کوختم کرنے میں مدد کے لیے پاکستان سے کہہ رہا ہے کہ فوری طور پر کچھ کیا جائے۔سلامتی کونسل کے اجلاس میں شامل افغان مشن نے سلامتی کونسل سے طالبان کے حملے فوری بند کروانے کے لیے تمام سفارتی، سیاسی اور مالی دبائو استعمال کرنے کا مطالبہ بھی کر دیا ہے۔اجلاس میںدو یورپی ممالک جو ویٹو پاور کے حامل ہیں انہوں نے ویٹو پاور چین سے مختلف رائے کا اظہار کیا۔ برطانوی مندوب نے کہا کہ طالبان نے جنگ کے ذریعے حکومت قائم کی تو ہم تسلیم نہیں کریں گے جبکہ فرانس کی جانب سے طالبان کے حالیہ اقدامات کی مذمت کی گئی، مگر چینی مندوب نے کہا کہ افغان صورتحال کا سیاسی حل ڈائیلاگ کے ذریعے ہی ممکن ہے، امریکا اور نیٹو ممالک نے ہاتھ جھاڑ کر سلگتے مسائل کا جو انبار پیچھے چھوڑ دیا ہے وہ ہی مسئلے کی اصل جڑ ہے۔
11 اگست کو دوحہ قطر میں ہونے والے اجلاس کی میزبانی روس کر رہا ہے۔جس میں میزبان ملک نے افغانستان کی صورت حال سے متعلق فعال شراکت داروں کو مدعو کیا ہے۔ اجلاس کے شرکاء میں پاکستان، امریکا اور چین شامل ہیں ۔اس اجلاس میں شرکت کے لیے بھارت نے روس کی منتیں کیں کہ اُسے بھی شراکت دار کی حیثیت سے مدعو کیا جائے مگر روس نے اس اجلاس کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے بھارت کی درخواست پر کوئی توجہ نہ دی،اس پر بھارت نے پینترا بدلا کہ اگر مجھے نہیں بلانا تو پھر پاکستان کو بھی مدعو نہ کیا جائے، مگر ایسا نہ ہو سکا۔ افغانستان کے لیے روسی صدر کے خصوصی مندوب ضمیر قبولوف کی جانب سے بھارت کو مذاکراتی عمل سے باہر رکھنے کے بارے میںجو وضاحت دی گئی، اس کو نئی دہلی نے قبول نہیں کیا، کیوں کہ روسی مندوب نے واضح کیا تھا کہ فی الحال افغانستان میں بھارت کا کوئی کردار نہیں ہے،البتہ افغانستان میں امن کے بعد بھارت افغانستان کی ترقی کے لیے اپنا کردار شوق سے ادا کر سکتا ہے، فی الحال بھارت کا طالبان پر کوئی اثرورسوخ نہیں ہے۔ افغانستان پر مذاکرات میں پاکستان سمیت صرف انہی ممالک کو مدعو کیا گیا ہے جو ہر دو جانب اپنا اثرورسوخ رکھتے ہیں۔ اس غم وغصے میں بھارت نے پاکستان کو سلامتی کونسل کے اجلاس سے باہر رکھنے کی جو گھٹیا حرکت کی ،وہ خود کو اور امریکہ کو خوش کرنے کے لیے تو ٹھیک ہو سکتی ہے لیکن اقوام عالم کے سامنے بھارت کے قد میں کمی ضرور واقع ہوئی ہے۔