Shadray

کورونا مریضوں کی جان بچانے والے انجکشن کا بحران

خیبر پختونخوا میں اداروں کی عدم توجہ کے باعث سرکاری ہسپتالوں میں کورونا سے متاثرہ مریضوں کی جان بچانے والے انتہائی اہم انجکشن ”ایکٹمرا” کی قلت پیدا ہو گئی ہے، اطلاعات کے مطابق اسٹاک میں صرف 30انجکشن رہ گئے ہیں جو صرف 15مریضوں کے لیے کافی ہوں گے،انجکشن کی قلت کو ختم کرنے کے لیے اگرچہ متعلقہ کمپنی کو آرڈر تو دے دیا گیا ہے تاہم ایک ماہ سے قبل انجکشن کی فراہمی ممکن نہیں ہو سکے گی، اس دوران اگر کورونا مریضوں کی حالت بگڑتی ہے تو انہیں بچانے کے لیے انجکشن موجود نہیں ہوںگے۔
امر واقعہ یہ ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت ایک طرف خیبر پختونخوا میں صحت پلس انصاف کارڈ فراہم کرکے مفت علاج کی سہولت کی دعویدار ہے جب کہ دوسری طرف انتہائی اہم اور جان بچانے والی ادویات کا فقدان ہے۔ سرکاری ہسپتالوں میں ادویات کی قلت معمول کی بات سمجھا جاتا ہے، حالانکہ ادویات کی خریداری اور دستیابی یقینی بنانے کے لیے بجٹ مختص ہوتا ہے تاکہ عوام کو علاج کی مفت سہولیات فراہم کی جا سکیں، اس مقصد کے لیے ہر ہسپتال میں پورا ڈیپارٹمنٹ کام کرتا ہے ، مگر ڈیپارٹمنٹ کی لاپرواہی کی انتہا دیکھئے کہ جس انجکشن کی قلت پیدا ہوئی ہے، وہ اہم ہونے کے ساتھ ساتھ نہایت مہنگا بھی ہے، ایک انجکشن کی قیمت 55ہزار سے زائد ہے ، جو پاکستان میں آسانی سے دستیاب بھی نہیں ہوتا، ہیلتھ ڈائریکٹوریٹ اسے سوئٹزر لینڈ سے درآمد کرتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ عوام کو ضرورت پڑنے پر انجکشن پاکستان سے دستیاب ہو سکتا ہے اور نہ ہی وہ خریدنے کی سکت رکھتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ پرواننشل کنٹرول سیل اور میڈیسن کوارڈی نیشن کونسل (ایم سی سی) ہر سال جون جولائی میں ادویات کی ایک لسٹ جاری کرتے ہیں، اس لسٹ کو سامنے رکھ کر ہر ضلع کے ہسپتال اپنے طور پر ادویات کی خریداری یقینی بناتے ہیں اور اس بات کا خیال کیا جاتا ہے کہ ہسپتال میں 6ماہ کی ادویات کا اسٹاک موجود ہو تاکہ درآمد میں مشکل آنے کی صورت میں بحران کا سامان نہ کرنا پڑے، مگر خیبر پختونخوا کے ہسپتالوں میں اس بات کا خیال نہیں رکھا گیا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ادویات کی قلت میں جو ڈیپارٹمنٹ اور اہلکار ملوث ہیں ان کے خلا ف کڑی کارروائی عمل میں لائی جائے اور جان بچانے والے انجکشن سمیت تمام ادویات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔
قبائلی اضلاع میں پولیو اہداف کا سو فیصد حصول
قبائلی اضلاع میں پولیو مہم اہداف کا سو فیصد حصول خوش آئند ہے۔ چند سال پہلے تک بندوبستی اضلاع کی نسبت ضم شدہ اضلاع میں پولیو مہم اور اہداف کا حصول آسان نہ تھا مگر اب قبائلی اضلاع نے بندوبستی علاقوںکو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے ، یہ عمل جہاں قبائلی اضلاع کے حوالے سے خوش آئند ہے وہاں پر بندوبستی اضلاع کے لیے خطرہ کی گھنٹی بھی ہے، کیونکہ جب تک پولیو زدہ علاقوں میں سو فیصد اہداف کا حصول ممکن نہیں ہوتا ہے تب تک پاکستان سے پولیو کے خاتمے کا خواب پورا نہیں ہو سکے گا۔ حکام کو اس طرف خصوصی توجہ دینی چاہیے کیونکہ پوری دنیا میں افغانستان اور پاکستان دو ہی ممالک ہیں جنہیں پولیو زدہ قرار دیا جا رہا ہے، طبی ماہرین کے نزدیک پاکستان کے اکثر علاقے پولیو سے محفوظ ہیں، تاہم جن علاقوں میں افغانستان کے لوگوں کا آنا جانا زیادہ ہے، وہاں پر پولیو کے کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں، چونکہ پورے ملک میں بالخصوص پختونخوا میں افغان مہاجرین رہتے ہیں اور ان کا افغانستان بھی جانا آنا رہتا ہے اس لیے پورے ملک میں پولیو مہم کا اعلان کیا جاتا ہے تاکہ پولیو کے پھیلائو کو روکا جا سکے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ جس طرح قبائلی اضلاع میں پولیو اہداف کا سو فیصد حصول یقینی بنایا گیا ہے ، پورے صوبے میں بھی اسی طرح پولیو اہداف کا حصول یقینی بنایاجائے تاکہ پاکستان پولیو سے پاک ملک بن سکے۔
بنیادی مراکز صحت کو فعال بنانے کا اہم فیصلہ
خیبر پختونخوا کی صوبائی حکوت نے بنیادی مراکز صحت کو چوبیس گھنٹے فعال رکھنے اور رورل ہیلتھ سنٹرز کے کنٹریکٹ میں توسیع کا فیصلہ کیا ہے۔ صوبے کے عوام تک صحت کی سہولیات کی یکساں فراہمی کے لیے ضروری ہے کہ دور دراز اور پسماندہ علاقوں میںصحت کے بنیادی مراکز قائم کیے جائیں تاکہ عوام کو معمولی امراض کے لیے اپنے قریب ترین مرکز صحت سے ہی علاج کی سہولیات میسر ہو سکیں، اس کا اہم فائدہ یہ بھی ہوگا کہ گائوں دیہات میں بسنے والے لوگوں کو معمولی مرض کے لیے شہر کا سفر نہیںکرنا پڑے گا اسی طرح شہری آبادی میں اگر گھر کے قریب علاج کی سہولت ہونے کی وجہ سے عوام بڑے ہسپتالوںکا رخ نہیںکریں گے تو بڑے ہسپتالوں پر مریضوں کا بوجھ کم پڑے گا جس سے ان کی کارکردگی متاثر نہیں ہو گی۔ متعدد ترقی یافتہ ممالک میں صحت کے حوالے سے یہ ماڈل رائج ہے کہ عوام اپنے طور پر بڑے ہسپتال سے رجوع نہیں کر سکتے ، بنیادی مرکز صحت مریض کی حالت کو دیکھ کر ہسپتالوںکا تعین کر کے ”ریفر” کرتے ہیں، اس کے برعکس اگر کوئی مریض اپنے طور پر ہسپتال سے رجوع کرتا ہے تو ضلعی سطح کے ہسپتال اسے دوبارہ یونین کونسل سطح کے ہسپتال کو بھیج دیتے ہیں کہ جب آپ کا علاج گھر کے قریب ہو سکتا ہے تو دور جانے کی ضرورت کیا ہے، اس ماڈل کو پاکستان میں بھی آزمایا گیا لیکن اس پر عمل نہیںہو سکا، کیونکہ ہمارے ہاں بنیادی مراکز صحت پر علاج کی سہولیات نہ ہونے اور عملہ کی جانب سے تعاون نہ کیے جانے کی بنا پر لوگ از خود بڑے ہسپتالوں کا رخ کرتے ہیں، جہاں پر اچھے ڈاکٹرز اور علاج کی دیگر سہولیات میسر ہوتی ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ بنیادی مراکز صحت میں عوام کو وہ تمام سہولیات فراہم کی جائیں جن کی وجہ سے وہ بڑے ہسپتالوںکا رخ کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔
٭٭٭