کیا عمران خان عوامی جذبات سے آگاہ ہیں؟

معراج محمد خان پاکستان پیپلزپارٹی کے بانی ارکان میں شامل تھے۔ وہ ذوالفقار علی بھٹو کے قریبی ساتھی رہے ہیں۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ جب پاکستان پیپلزپارٹی اپنے ارتقا کے اہم دور سے گزر رہی تھی تو بدین سے آگے سجاول کے گاؤں میں ایک بڑا جلسہ تھا جس میں ذوالفقار بھٹو اور دیگر رہنماؤں نے تقاریر کیں۔
معراج محمد خان کا کہنا ہے کہ بھٹو صاحب جوش میں تقریر کر رہے تھے اور کہہ رہے کہ یحییٰ خان تم میرے ساتھ کرکٹ کھیلو گے تو میں تمہارے ساتھ کرکٹ کھیلوں گا، تم ہاکی کھیلو گے تو میں بھی ہاکی کھیلوں گا، میں پہلا گول تمہارے اوپر کرتا ہوں۔ انہوں نے یہ کہہ کر چکر لگایا تو وہ خود کو سنبھال نہ سکے اور نیچے گر گئے۔ مجمع اس پر ہنس پڑا۔
جب شام کو واپس آئے تو بھٹو صاحب نے سب ساتھیوں کو بلایا اور ان سے پوچھا کہ کس کی تقریر سب سے اچھی تھی۔ معراج محمد خان نے انہیں کہا کہ آپ سب سے اچھے مقرر ہیں تو ذوالفقار بھٹو نے کہا کہ نہیں تمہاری تقریر بہترین تھی لیکن یہ بات یاد رکھنا کہ لوگ کل کو تمہاری تقریر بھول جائیں گے، میرا گرنا بھی انہیں یاد نہیں رہے گا لیکن میری ایک بات وہ کبھی نہیں بھولیں گے۔
معراج محمد خان نے پوچھا کہ کون سی بات نہیں بھولیں گے تو بھٹو صاحب نے کہا کہ میں نے اپنی تقریر میں وعدہ کیا ہے کہ میں اقتدار میں آ کر بے زمین لوگوں کو 14 ایکڑ زمین دوں گا۔ یہ بات انہیں ہمیشہ یاد رہے گی۔ تم کئی سالوں بعد اس گاؤں میں جاؤ گے تو لوگوں اس کا ذکر کریں گے۔
معراج محمد خان کا کہنا ہے کہ میں کافی عرصے بعد اس گاؤں گیا تو حیران رہ گیا کہ سب لوگ یہی بات پوچھ رہے تھے کہ کیا واقعی انہیں 14 ایکڑ زمین مل سکے گی۔
اس واقعہ سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ بھٹو صاحب عوامی نفسیات سے غیرمعمولی آگہی رکھتے تھے۔ انہوں نے جب پہلی زرعی اصلاحات کی تھیں تو معراج محمد خان نے انہیں ناکافی قرار دیا تھا۔ بھٹو صاحب نے انہیں چین کے وزیراعظم چواین لائی کا خط دکھایا جس میں انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کو مشورہ دیا تھا کہ باصلاحات میں جلدی نہ کرنا بلکہ اس عمل کو بتدریج کرنا بہتر ہے۔ بھٹو صاحب نے معراج محمد خان کو کہا کہ اصلاحات کا پہلا فیز ہم مکمل کر چکے ہیں، 1977 کے انتخابات کے بعد مکمل اصلاحات نافذ کریں گے۔ مگر قدرت نے انہیں یہ موقع نہ دیا۔
دنیا کے کسی بھی رہنما کے حالات زندگی دیکھے جائیں تو یہ بات سامنے آئے گی کہ ان کی انگلیاں عوام کی نبض پر تھیں، وہ جانتے تھے کہ اس مخصوص دور میں عوامی خواہشات کیا ہیں۔ انہیں علم تھا کہ سماج کے اجتماعی لاشعور میں کون سی حسرتیں پیوست ہیں اور کیا کیا خواہشیں ابل رہی ہیں۔ وہ انہی حسرتوں، تمناؤں اور خوابوں کا اپنی تقاریر میں ذکر کرتے تھے اور جواب میں عوام سے جی بھر کر محبتیں وصول کرتے تھے۔
قائد اعظم محمد علی جناح نے اپنی سیاسی زندگی کا بڑا حصہ ہندو مسلم اتحاد کے لیے صرف کیا۔ اس وقت تک متحدہ بھارت کے مسلمانوں میں یہ امید موجود تھی کہ ہندو اکثریت میں ہونے کے باوجود انہیں ان کے جائز حقوق دیں گے۔ وقت کے ساتھ ساتھ ہندوؤں کی اصلیت سامنے آتی گئی اور مسلمانوں کو علم ہو گیا کہ متحدہ ہندوستان میں ان کے وجود کو مستقل خطرات لاحق رہیں گے۔
قائداعظم اپنے ذاتی تجربات کے ذریعے انہی نتائج پر پہنچے اور جب عوامی خواہشات اور اس عظیم رہنما کی سیاست بصیرت اکٹھے ہوئے تو مسلمان اپنے لیے الگ مملکت کے حصول میں کامیاب ہو گئے۔
ہمارے سامنے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا عمران خان عوامی خواہشات سے آگاہ ہیں؟ کیا وہ جانتے ہیں کہ عوام اس وقت کیا چاہتے ہیں؟ اگرچہ مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ دی ہے جسے کم کرنا وقت کی بڑی ضرورت ہے، تاہم اس کے ساتھ ساتھ بہت سے ایسے مسائل ہیں جن پر عمران خان نے عوامی جذبات کی نمائندگی کی ہے۔ جب وہ ریاست مدینہ کا ماڈل پیش کرتے ہیں تو جدید فلاحی ریاست کا تصور پیش کر رہے ہوتے ہیں جس میں مغرب کی نقل نہیں ہو گی بلکہ اس کی بنیادوں میں ہمارے مذہبی تصورات کارفرما ہوں گے۔
اس کے ساتھ ساتھ امریکہ کے سامنے ڈٹ کر بات کرنا، امت مسلمہ کا ذکر کرنا، احساس پروگرام کے تحت محروم طبقے کی مدد کرنا اور پناہ گاہیں تعمیر کرانا جیسے اقدامات بھی اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ وزیراعظم عوامی جذبات و احساسات سے آگاہ ہیں۔ انسان ہمیشہ پیٹ کے ذریعے نہیں سوچتا بلکہ وہ بڑے آدرش کے لیے بھوک پیاس اور فاقہ کشی بھی برداشت کر لیتا ہے۔
اگلے عام انتخابات اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ خان صاحب نے عوامی جذبات کو کس قدر سمجھا ہے۔ اگر انہیں ایک بار پھر کامیابی مل جاتی ہے تو یہ پاکستانی تاریخ کا پہلا موقع ہو گا جب ایک حکومت کو عوام مسلسل دوسری بار منتخب کریں گے۔ یہ اس بات کا بھی ثبوت ہو گا کہ ان کی انگلیاں عوام کی نبض پر ہیں۔