Idariya

خطرات کی نئی لہر

ایک ہی دن صوبے کے مختلف علاقوں سے رپورٹ ہونے والے واقعات سے حالات کی خرابی اور آمدہ دنوں میں سکیورٹی پر مامور سول اور عسکری اداروں کی ذمہ داریوں میں اضافے اور عوام کے تحفظ کے لئے مزید ا قدامات کی ضرورت کا احساس ہونے لگا ہے ایک ہی دن رپورٹ ہونے والی خبروں کے مطابق شمالی وزیرستان کے علاقے دیواگر میں چوکی کو نشانہ بنایا یا افغان سرحد سے دہشت گردوںکی فائرنگ سے تین جوان زخمی ہو گئے۔ لاہور میں سی ٹی ڈی کے آپریشن میں تین افغان دہشت گرد ہلاک ہو گئے خود کش جیکٹ اور دستی بم برآمد ہوئے۔ کوئٹہ میں ایک ہی دن میں دو بم دھماکے ہوئے بم دھماکہ میں دو پولیس اہلکاروں شہید اور اکیس زخمی ہو گئے ڈیرہ میں پولیس فائرنگ تبادلہ میں خطرناک دہشت گرد ہلاک کر دیئے گئے مزید کتنے واقعات رپورٹ نہ ہوتے ہوں خفیہ اداروں کی کارروائیاں ویسے بھی ظاہر نہیں کی جاتیں یہ تمام حالات اس امر کا ثبوت ہیں کہ ملک میں خطرات کی ایک نئی لہر اٹھ رہی ہے سیکورٹی کے بڑھتے خطرات کے باعث صوبہ بھرمیں سیکورٹی الرٹ جاری کردیاگیاہے اور پولیس اوردوسرے اہلکاروں کو حفاظتی انتظامات کرنے اور غیر ضروری نقل وحمل سے اجتناب کا حکم جاری کردیاگیا ہے اعلامیہ کے مطابق ڈیوٹی پر آنے اورجانے واے اہلکاروردی کی بجائے سادہ لباس استعمال کریں گے۔ان حفاظتی اقدامات کے ساتھ ساتھ خیبر پختونخوا میں طویل عرصے بعد صوبہ بھر میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنزکابھی آغاز کردیا گیاہے ٹارگٹڈ آپریشنز کا فیصلہ اعلیٰ سطحی سیکورٹی اجلاس میں کیا گیا سکیورٹی ذرائع کے مطابق سیکورٹی صورتحال کے پیش نظر صوبہ بھر میں روزانہ کی بنیاد پر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ مردان ‘چارسدہ اور لکی مروت میں گزشتہ ہفتے آپریشنز بھی ہوئے بھی۔ خفیہ آپریشنز فورسز کی معاونت سے کئے جائیں گے دریں اثناء امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر اضلاع کے مختلف یونٹس سے سیکورٹی فورسز کے دستوں کو اہم ٹارگٹڈ آپریشنزکے لئے طلب کیا گیا ہے جو صوبے کے مختلف اضلاع میں پولیس اور دیگر آپریشنل فورسز کے ہمراہ مشترکہ کارروائیوں میں حصہ لیں گے۔ سیکورٹی کی صورتحال پر تشویش کا اظہار اور عوام میں عدم تحفظ کا احساس فطری امر ہے تاہم اطمینان کا حامل امر یہ ہے کہ سیکورٹی کو درپیش خطرات کا نہ صرف بروقت ادراک کر لیا گیا بلکہ اعلیٰ ترین سیاسی وعسکری قیادت کے اجلاس میں اہم فیصلوں کے بعد ان پرعملی طور پر عملدرآمد کا بھی آغاز کر دیا گیا ہے ایک طویل جدوجہد کے بعد ہماری پولیس اور سکیورٹی کے اداروں کو بس چھ ماہ ہی سستانے کا موقع ملا تھا کہ اب دوبارہ متحرک ہونا پڑا قبل ازیں کے حالات اور موجودہ صورتحال میں ایک واضح فرق البتہ یہ ہے کہ قبل ازیں دہشت گردوں کے مضبوط و فعال نیٹ ورک اس وقت کے قبائلی علاقہ جات میں ان کی کمین گاہیں تربیت کے مراکز کی محفوظ موجودگی اور دہشت گردوں کی جانب سے آئے روز مختلف اور نت نئی چالیں چلنے اور پولیس و سکیورٹی کے اداروں کی اس وقت کی غیر معمولی حالات سے نمٹنے کی عملی تربیت کا پوری طرح نہ ہونا یہاں تک کہ ضروری ہتھیاروں اور آلات تک کی بھی کمی تھی اس کے باوجود بڑی قربانیاں دے کر مادر وطن اور ہموطنوں کا جس طرح تحفظ کیا گیا وہ کوئی پوشیدہ امر نہیں ہم سمجھتے ہیں کہ ان حالات کے مقابلے میں اس وقت کے حالات اگرچہ واجبی سے ہیں لیکن نہ معلوم دشمن ممالک کی ایجنسیاں کس وقت کیا چال چلیں اور ملک کی اٹھتی معیشت سے ان کو خاص طور پر جو تکلیف لاحق ہے اس پر خدانخواستہ کس قسم کا وار کیا جائے اس کے پیش نظر عوامی تحفظ کے ساتھ ساتھ خاص طور پر سی پیک اور اس سے متعلق امور پر مزید توجہ اور حفاظتی اقدامات میں مزید بہتری اور سختی لانے پر توجہ کی ضرورت ہے عوامی سطح پر بھی شور اجاگر کرنے عوامی مقامات اور بی آر ٹی بسوں اور سٹیشنز پر حفاظتی اقدامات سخت اور یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ عوامی تعاون کے حصول کے لئے عوام سے قریبی رابطہ حالات کا تقاضا ہے جس پر توجہ سے مشتبہ افراد کی نشاندہی اور ان کے خلاف بروقت کارروائی میں بڑی مدد مل سکتی ہے۔