Shadray

مال مفت دل بے رحم

خیبر پختونخوا پولیس کے سابق ایڈیشنل ا نسپکٹرجنرل آف پولیس آپریشنز کی جانب سے چھ سرکاری گاڑیوں کے بے جااستعمال سمیت 25اہلکار و ملازمین رکھنے کا انکشاف ایک حادثے کی مرہون منت ہے جو نہ ہوتا تو شاید یہ معاملہ بھی متعلقہ حکام کے علم میں نہ لایا جاتا۔مراسلہ کے مطابق سابق ایڈیشنل انسپکٹر جنرل کے آرڈر پر چارجولائی2021کو گاڑی اسلام آباد منگوائی گئی تھی اور واپسی پر راستے پر اٹک کے مقام پر گاڑی حادثے کا شکار ہوئی جس میں ایک پولیس کانسٹیبل جاں بحق ہوگیا تھا جبکہ گاڑی جو سرکاری ڈیوٹی پر نہیں تھی کو بھی شدید نقصان پہنچا تاہم متعلقہ آفیسر نے اپنے اعلیٰ حکام کو اس حادثہ سے آگاہ نہیں کیا ۔ مراسلے میں کہا گیا ہے کہ اس معاملے کو ہوم ڈیپارٹمنٹ کے نوٹس میں لایا جا رہا ہے تاکہ اس حوالے سے ضروری کارروائی کی جاسکے ۔ سرکاری گاڑیوں کا غلط استعمال اور استحقاق نہ رکھنے کے باوجود بعض سرکاری ملازمین کا سرکاری گاڑی اور پٹرول کا استعمال معمول کی بات ہے مختلف محکموں کے ساتھ پراجیکٹ کی گاڑیاں الگ سے زیر استعمال رکھنا بھی کوئی راز کی بات نہیں حکومت نے گاڑی کی بجائے تنخواہ میں اضافہ کا جو فیصلہ کیا تھا اس حوالے سے عملی اقدامات کا علم نہیں بہرحال پولیس کے ایک افسر کی جانب سے سرکاری گاڑیوں کا جس طرح استعمال ہوا اور عملے کو جس طرح چا کر بناکر رکھا گیا اب معاملہ تحریر ی صورت میں متعلقہ حکام کے علم میں لایا جا چکا ہے ۔ہمارے تئیں پہ مشتے نمونہ ازخروارے ہے جس سے حکومت اور متعلقہ حکام کو اس امر کا اندازہ ونا چاہئے کہ کس طرح مال مفت دل بے رحم کا مظاہرہ معمول کی بات ہے سارے نہیں تو بعض کے بارے میں یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ اس طرح کی کئی مثالیں تلاش کرنے پر مل سکتی ہیں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کو چاہئے کہ وہ فوری طور پر سرکاری گاڑیوں کی تعداد اس کے حقیقی اور حقداروں کی طرف سے استعمال ناجائز استعمال اور ا ضافی گاڑیوں کے استعمال بارے تفصیلی رپورٹ طلب کریں اور جہاں جہاں بے قاعدگی سامنے آئے متعلقہ افسر کے خلاف کارروائی اور ان سے ریکوری کی جائے ۔ محولہ واقع میں پولیس سربراہ کی جانب سے معاملے کو دبانا اور متعلقہ حکام کے علم میں نہ لانا اعانت اور شریک جرم ہونے کا مصداق امر ہے اس لئے ان سے بھی باز پرس ہونی چاہئے جو مسئلہ سامنے لایا گیا ے اسے دبانے کی بجائے اس کی جامع تحقیقات اور پوری تفصیلات معلوم کرنے کے بعد سخت کارروائی اور ریکوری لازمی ہونی چاہئے تاکہ دوسرے عبرت پکڑیں۔
ملازمین نہیں ‘ا فسران کے خلاف کارروائی کیجئے
محکمہ بلدیات خیبرپختونخوا کے مطابق صوبہ بھر میں ٹی ایم ایز کے درجہ چہارم سٹاف کی بڑی تعداد افسروں اور دیگر افراداعلیٰ سرکاری شخصیات کے گھروں میں کام کررہی ہے جس کے بعد محکمہ بلدیات نے تمام ٹی ایم ایز کو ہدایت کی تھی کہ ایسے ملازمین کو ڈیوٹی پر طلب کیا جائے تاہم اب محکمہ بلدیات نے احکامات پر عمل درآمد نہ کئے جانے پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اگر فوری طور پر مذکورہ ملازمین اپنے اپنے ٹی ایم اے میں حاضر نہ ہوئے تو انہیں گھوسٹ ملازمین تصور کیا جائیگا، اسی طرح ان ملازمین کیخلاف ٹی ایم اوز کو تادیبی کارروائی کرنے کی ہدایت بھی کردی گئی ہے محکمہ بلدیات کے مطابق اگر ٹی ایم اوز نے ان ملازمین کے خلاف تادیبی کارروائی شروع نہ کی تو ٹی ایم او کیخلاف محکمہ کارروائی کا آغاز کرے گا۔محکمہ بلدیات کے اعلیٰ حکام نے تکلف سے کام لیا ہے اس لئے کہ درجہ چہارم کے ملازمین اپنی مرضی سے کسی کے گھر کام نہیں کرتے جن کے گھر کام کرتے ہیں وہ بااثر لوگ ہیں ان کی بجائے جنہوں نے ان کو وہاں کام کرنے کی اجازت دی ہے اصل کارروائی ان کے خلاف ہونی چاہئے جو ملازمین حاضر نہیں ہو رہے ہیں ان کو اگرمحکمے کے افسران واپس بلا لیں تو ان کو اپنی اصل ڈیوٹی پر واپسی پر کوئی اعتراض نہ ہو گا بہتر ہو گا کہ ان سرکاری ملازمین کو ذاتی کاموں کے لئے استعمال کرنے والوں اور بھجوانے والوں کے خلاف یکساں کارروائی کی جائے اور آئندہ کے لئے اس طرح کے عمل کا سدباب کیا جائے۔
بی آر ٹی ‘ خلاف حقیقت دعویٰ
بی آر ٹی مرکزی راہداری روٹس پر مزید بسوں کی شمولیت خوش آئند اور شدید رش کو کم کرنے کا حامل ہو گا۔ ترجمان ٹرانس کے مطابق بی آر ٹی آپریشنز میں روٹس اور بسوں کی تعداد کا تعین ایک منظم اور جامع حکمت عملی کے تحت کی جاتی ہے ہم سمجھتے ہیں کہ بی آر ٹی کے ترجمان کا دعویٰ بالکل خلاف حقیقت ہے امر واقع یہ ہے کہ بی آر ٹی کی بسیں جمعہ اور ہفتہ کے روز کم کردی جاتی ہیں اور ہفتے کے روز مرکزی روٹ کی ایکپریس بس اور مال آف حیات آباد تک چلنے والی بسیں بند کر دی جاتی ہیں فیڈر روٹس پر بسیں پندرہ منٹ کے وقفے سے چلتی ہیں جس کے باعث سخت رش اور مسافروں کو طویل انتظار کرنا پڑتا ہے یہ کونسی حکمت عملی ہے کہ مرکزی روٹ کی دو بسیں سرے سے بند کرکے سارا لوڈ سنگل روٹ پر ڈالا جائے بہتر ہوگا کہ بی آر ٹی کے حکام دعوے کی بجائے حقیقی معنوں میں حکمت عملی اختیارکریں اور مسافروں کو شدید مشکلات اور رش سے بچائیں مرکزی روٹ پر مناسب وقفے اور فیڈر روٹ پر معمول کے مطابق روزانہ بسیں چلانا ہی بہتر حکمت عملی ہوگی۔
لیبر قوانین کی سنگین خلاف ورزی
صوبائی حکومت کی طرف سے کم از کم21 ہزار روپے ماہانہ اجرت کی پالیسی پر ضلع ملاکنڈ میں عملی جامہ پہنانے کیلئے کوئی بھی ادارہ موجود نہ ہونا لمحہ فکریہ ہے مستزاد یہ حقیقت بھی قابل توجہ ہے کہ ، نجی اداروں سمیت بعض سرکاری اداورںمیں بھی مقررکردہ اجرت سے کم پر ملازمین کام کرنے پر مجبور ہیں ضلع میں بیشتر اداروں میں ملازمین کی ای او بی آئی رجسٹریشن کا کوئی انتظام نہیں اور نہ ہی متعلقہ ادارہ کے ذمہ دار اس طرف توجہ دیتے ہیں۔حکومت نے کم سے کم اجرت میں ا ضافہ کرکے اس پر عملدرآمد کا جو دعویٰ کیا تھا اب یہ ان کا امتحان ہے یہ صرف ضلع ملاکنڈ کی صورتحال نہیں بلکہ پورے صوبے میں اسی طرح کی صورتحال ہے جس کانوٹس لیا جائے جانا چاہئے حکومتی احکامات پر عملدرآمد میں اب مزید تاخیر نہ کی جائے۔