Shadray

وزیراعلیٰ کا درست اقدام

جنگلات کے تحفظ کو اپنی حکومت کی سب سے اہم ترجیح قرار دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ اسپر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے مکھنیال کے جنگلاتی رقبے کی زمینوں کی خرید و فروخت اور وہاں پرغیر قانونی تعمیرات میں ملوث عناصر کے خلاف بلاتفریق کارروائی عمل میں لانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ چاہے کوئی کتنا بھی بااثر ہو اسے نہیں چھوڑاجائے گا۔صوبے میں جنگلات کی بے دریغ کٹائی اور جنگلاتی رقبے پر قبضہ اور جنگلات کے رقبے پر تجاوزات سے صرف نظر کا وتیرہ ان عناصر کے لئے ہر دور میں حوصلہ افزائی کا باعث رہا ہے ۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے مکھنیال کے جنگلات بارے غفلت برتنے پرسرکاری اہلکاروں کے خلاف جو راست اقدام کیا ہے اس کی ضرورت عرصے سے محسوس کی جارہی تھی ہم سمجھتے ہیں کہ اس واقعے کو مشتے نمونہ ازخروارے گردانتے ہوئے وزیر اعلیٰ کو پورے صوبے کے جنگلات کے رقبے اور تصرفات و تجاوزات کے قیام بارے صوبے کے تمام اضلاع کے محکمہ جنگلات کے افسران سے رپورٹ طلب کرنی چاہئے اور اس رپورٹ کی روشنی میں بلا امتیاز کارروائی کرنی چاہئے ۔ یہ صرف کسی ایک علاقے تک محدود نہیں بلکہ قبرستانوں کی طرح جہاں بھی موقع ملے جنگلات کی کٹائی ‘ جنگلات کو آگ لگانے اور قبضہ کرنے کا عمل جاری ہے ۔جس کی روک تھام کئے بغیر جنگلات کا تحفظ ممکن نہیں وزیر اعلیٰ نے جو سخت حکمنامہ محولہ واقعے کے حوالے سے جاری کیا ہے اور سرکاری ملازمین کے خلاف جس نوعیت کی سخت کارروائی کی ہے اس کی مزید مثالیںقائم کرنے کی ضرورت ہے۔
داخلوں سے محروم طلبہ اور سیکنڈ شفٹ
صوبے کی موجودہ اور اس سے قبل کی دونوں حکومتوں کی ترجیحات میں تعلیم نمایاں رہا ہے جبکہ ماضی کی حکومتیں بھی تعلیم کی ترقی اور ترجیح کی دعویدار ہی ہیں لیکن اس کے باوجود تعلیمی ادارے خواہ وہ پرائمری مڈل ہائی اور ہایئر سیکنڈری سکولزہوں یا پھر کالج طلبہ کی اکثریت کو داخلوں اور تعلیم کے حصول میں مشکلات ہی سے دوچار ہونا پڑا ہے یہ سلسلہ بدستور جاری ہے ہمارے نمائندے کے مطابق خیبر پختونخوا میں نئے کالجز کی عدم تعمیر کی وجہ سے میٹرک کے بعد طلبہ کے لئے سرکاری سطح پر تعلیم جاری رکھنا مشکل ہوگیا ہے تمام اضلاع کے سرکاری کالجز میں محدود نشستوں کے نتیجے میں رواں تعلیمی سال بھی ہزاروں طلبہ داخلوں سے محروم ہونے کا خدشہ ہے ۔ امر واقع یہ ہے کہ فیسیں اور دوسرے اخراجات برداشت نہ کرنے کے باعث بہت سے طلبہ تعلیم کو خیر باد کہہ دیتے ہیں سرکاری کالجز میں کم نشستوں کی وجہ سے میرٹ ہائی ہوتا ہے جس کے باعث سرکاری سکولز سے فارغ ہونے والے صرف 40فیصد تک طلبہ سرکاری کالجز میں داخلہ لے پاتے ہیںیہ مجموعی صورتحال کا ایک جائزہ تھا بلاشبہ صوبہ بھرمیں تعلیمی اداروں کی کمی ہے لیکن اگر صوبائی دارالحکومت پشاور کا جائزہ لیا جائے تو یہاں کے مقامی طلبہ کوتعلیمی اداروں میں ہائی میرٹ کے باعث داخلے کے مواقع اور بھی کم ملتے ہیں صوبائی دارالحکومت اور صوبے کا سب سے بڑا شہر ہونے کے باوجود یہاں تعلیمی اداروں کے قیام اور کالجوں میں دوسری شفٹ شرع کرنے کے مواقع ہونے کے باوجود اس حوالے سے تساہل سمجھ سے بالا تر امر ہے سرکاری کالجوں کے برعکس بعض نجی کالجوں میں سیکنڈ شفٹ کی کلاسیں ہوتی ہیں۔ محکمہ تعلیم کو صورتحال کے پیش نظر صوبہ بھر میں ہائیر سیکنڈری سکولوں کی تعداد دوگنا کرنے اور کالجوں میں سیکنڈ شفٹ جلد سے جلد شروع کرنے کی اپنی ہی تجویز اور اعلان پر عملدرآمد میں مزید تاخیرکا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے۔
حکام اور ٹھیکیدار کے خلاف کارروائی کی جائے
شکردرہ میں زیر تعمیر کروڑوں روپے کے میگا پراجیکٹ تڑلے پل کا افتتاح سے پہلے ہی زمین بوس ہونا غیر معیاری کام اور ملی بھگت کا واضح ثبوت ہے پل تعمیر کا کام آخری مراحل میں تھا اور افتتاح کے لئے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کی آمد متوقع تھی لیکن موسلادھار بارش کے بعد پل کا درمیانی حصہ گر گیاپل کا افتتاح آمدورفت شروع ہونے سے قبل نہ گرتا تو قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کا اندیشہ تھا پل کے ٹینڈر ہونے سے لیکر ٹھیکیدار کے بلیک لسٹ ہونے اور ٹھیکیدار کی تبدیلی اور موجودہ حادثہ تک کا سارا عمل ہی سختی سے نوٹس لینے اور تحقیقات و تادیب کا متقاضی امرتھا جس میں غفلت کا ارتکاب نہ کیا جاتا اورمعاملات کا بروقت نوٹس لیا جاتا تو یہ نوبت نہ آتی اس پر متعلقہ حکام کے خلاف غفلت برتنے پر سخت کارروائی ہونی چاہئے جبکہ پل کے گرنے اور ناقص میٹریل کے استعمال پر ٹھیکیدار کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے اور سرکاری خزانے سے ضیاع شدہ رقم ان سے وصول کی جائے۔
چینی کے بحران کا خدشہ
عوام ابھی دوائوں کی قیمتوں میں ا ضافے کے نتائج بھگتنے پر تیار نہیں تھے چینی کی قیمتوں اور چینی کا بحران سر اٹھانے لگا صوبائی دارالحکومت پشاور میں چینی ناپید ہونے لگی اور قیمتوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے اگر ستمبر کے آخر تک چار لاکھ ٹن شکر درآمد نہ ہو سکی یعنی پاکستان نہ پہنچ سکی تو ایک اور بحران سر اٹھائے گا۔ کتنے افسوس کا مقام ہے کہ ایک زرعی ملک میں جہاں شکر بھی اضافی پیدا ہوتی تھی اس ملک میں چار لاکھ ٹن شکر درآمد کی جائے شکر کا بحران پیدا کرتے ہوئے درآمد کا اعلان ہوتا ہے اور بحران کے دوران چھپائی ہوئی شکر بازار میں لا کر اسے درآمد شدہ قرار دے کر زیادہ رقم وصول کی جاتی ہے۔خیبر پختونخوا حکومت کو معاملے کا نوٹس لیکر عوام کو چینی کے بحران سے نجات کے لئے بروقت اقدامات کرنا چاہئے۔توقع کی جانی چاہئے کہ صوبائی حکومت اس بحران کا بروقت نوٹس لے گی اور صوبے میں چینی کی قلت پیدا کرکے مہنگا کرنے والے عناصر کی کوششوں کو بروقت اقدامات کے ذریعے ناکام بنایا جائے گا۔