دستبرداری ؟

آج یہ سوال بے معنی سا ہو کر رہ گیا ہے کہ عالمی طا قتیں یا ایک عالمی قوت دنیا سے کیا چاہتی ہیں ، اور سب سے زیا دہ مصیبت اور مشکل میں اس چاہت کی وجہ کو ن گھیرا ہو اہے ایک طائرانہ نظرڈالنے سے احساس ہو جاتا ہے کہ اصل کھیل کیاہے سوویت یونین کے پارہ پارہ ہوجانے کے بعد تو کوئی بات ڈھکی چھپی نہیں رہی ہر سو مسلمان ہی ہدف ہے اس کی وجہ کیا ہے وہ یہ ہے کہ مسلمان اپنے دین کے مطا بق ایک مخصوص زندگی بسر کرنے کا پابند ہے جو صیہو نیو ں کے لیے قابل قبول نہیں ہے اور مذہب کے نا تے دیگر اقوام کے لیے بھی نا گوار ہے ، عقائد اور اپنی ہئیت کے لحاظ سے دین اسلام ایک آفاقی دین ہے اور وہ کسی خطہ یا قوم تک محدود نہیں جیسا کہ بعض اقوام اس نقطہ کی بناء پر محدود ہیں ، چنا نچہ ان قوتوں کو ایک ہی راستہ نظر آتاہے کہ وہ ساری دنیا کو مغربی تہذہب میں ڈھا ل دیں اور اس طرح اپنے مفادات کو تحفظ دیدیں ، اوریہ دباؤ وہ ہر خطہ میں ڈالتے ہیں ، پاکستان کے ساتھ بھی ایساہی سلوک کیا جا تا ہے جب پاکستان ایک اسلا می ریاست کے طور پر دنیا کے نقشے پر ابھرا تب سے ان قوتوں کی کاوشیں چلی آرہی ہیں چنا نچہ چھبیس سال تک پاکستان میں کوئی آئین رائج نہیں کر نے دیا جب بھی کوئی قدم اس طرف بڑھایا گیا توا س کو سبو تاژ سازشوں کے ذریعے کر دیا گیا ، مخلص لیڈر شپ کا صفایا کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی اورمصنوعی لیڈر شپ کو مسلط کر دیا گیا ہنو ز یہ کھیل جاری ہے ،جب سابق صدر جنرل ایوب کا دیا ہو ا بنیادی جمہوریت کا نظام کا جنرل یحییٰ نے دھڑن تختہ کر دیا تب پاکستان کے بٹوارے کا کھیل شروع کر دیا گیا اس کے ساتھ ہی پاکستان کے اسلا می تشخص کو گھنیا نے کا عمل شروع ہو ا چنا نچہ ذالفقار علی بھٹو مرحوم نے اسلا می سوشلزم کا ایک نیا تصور دیا مگر وہ ان طاقتوں کو اطمینا ن نہ دلا سکے کیو ں کہ انھو ں نے اعلا نیہ اپنی پارٹی کی بنیاد میں اسلا می تصور کو قائم رکھا ، جو باطل قوتوں کے لیے زہر تھا چنانچہ جب بھٹو مرحوم برسراقتدار آئے تو وہ یہ جا نتے تھے کہ عوام کی مرضی ومنشا کیا ہے چنانچہ پارٹی شامل ہو جا نے والی ان تما م عنا صر کو پارٹی چھٹکار دلا یا جو دینی سوچ کی حامل نہ تھیں ان میں ایک طویل فہر ست شامل ہے ، یہ قوتیں ہمیشہ خود کو ترقی پسند کے طور پر متعارف کراتی ہیں چنا نچہ پی پی کا تشخص ایک ترقی پسند اور اسلامی سوشلزم کے نظرئیے کا حامل رہا تاہم جب قیا دت بے نظیر بھٹو کے ہا تھ میں آئی تو پارٹی کا یہ نظریہ دفن کر دیا گیا اورجمہو ری قوت کے طور پر پارٹی کا امیج سامنے آیا ، نو از شریف اور بے نظیر بھٹو کے ما بین جو میثاق جمہوریت کا جنم پتا لکھا گیا اس کی بنیا د بھی اسی امر پر رکھی گئی تھی مگر میثاق جمہو ریت پر عمل درآمد سے قبل ہی بے نظیر بھٹو کو دنیا سے رخصت کردیا گیا۔پاکستان میں سیا ست خاندانی وراثت کے گھن چکر میں گھیر ی ہوئی ہے اس لیے محتر مہ بے نظیر بھٹو کی سیا سی وراثت کے طور پرآصف زرداری کو منتقل ہوئی اور اب یہ وراثت بلا ول بھٹو زرداری کی جانب بڑھ رہی ہے ، قیادت کا اثر بہت زیا دہ کارگر ہو ا کرتا ہے ، جب پی پی کے ذوالفقار علی بھٹو قائد ہو ا کرتے تھے تب پی پی کی سیا ست کا ستارہ اوج ثریا پر جگ مگ کر تا تھا ، بے نظیر بھٹو کے بارے میں مرحوم ذوالفقار علی بھٹو اپنی زندگی میں فرما گئے تھے کہ ان کی صاحبزادی محترمہ بے نظیر بھٹو ا ن کی جانشین ہیں اس اعلا ن سے کھلم کھلا پارٹی کے چند افراد نے اختلا ف کیا جن میں مرحوم کو ثر نیا زی بھی شامل تھے ان کا موقف تھا کہ محتر مہ بے نظیر بھٹو خاندان کے امو ر میں تو وارث ہو سکتی ہیں لیکن سیا سی وارث قرا ر نہیں پاسکتیں ، دلچسپ بات یہ ہے کہ جب محترمہ بے نظیر بھٹو پہلی مرتبہ برسراقتدار آئیں تو مو لا نا صاحب نے ان کا وارث ہو نا قبول کر لیا اور محترمہ کی حکو مت میں مشیر دینی امور کا عہد ہ بھی سنبھالیا تھا تاہم انھو ن نے یہ وضاحت نہیں کی کہ کس قفہی اصول سے اب محترمہ بے نظیر بھٹو مرحوم ذوالفقار علی بھٹو کی وارث ثابت ہو گئی ہیں ۔مو جودہ دور میں بلاول بھٹو وارث قرار پا رہے ہیں وہ بیک وقت محترمہ بے نظیر بھٹو اور آصف زرداری دو نوں طرف سے سیاسی وارث بن گئے ہیں ، تاہم پی پی کی وہ نظریا تی سیاست جس نے بھٹو مرحوم اور بعدازاں محترمہ بے نظیر بھٹومرحومہ کے دور میں جنم لیا تھا اب دور دور تک نظرنہیں آتی ۔ آصف زرداری کی یہ خواہش بھی پوری ہو تی نظر آرہی ہے کہ وہ بلا ول بھٹو زرداری کو وزیر اعظم دیکھنا چاہتے ہیں کشمیر الیکشن پر اطمینا ن ، پھر بلوچستان سے ثنا ء اللہ زہر ی اور پرویز مشرف کے دیر ینہ ساتھ جنرل (ر)قیو م بلو چ کی پی پی میں شمولیت اسی کا آغا زقرار پارہی ہے ، عبدالقیوم بلو چ بلو چستان میں اس وقت کور کما نڈر تھے جب مشرف نے پاکستان کے منتخب حکومت کا تختہ الٹا تھا ، بعد ازا ں مشرف حکومت کا حصہ بھی رہے تھے اور مسلم لیگ ن میں شامل ہو کر نواز شریف حکومت میں وزیر بھی بنے ، جس دھو م کے ساتھ پی پی میں تشریف لائے ہیں وہ پی پی کی قسمت آوری کا پتہ دے رہی ہے ۔ تب ہی تو سارا میڈیا کہہ رہا ہے کہ بلو چستان سے مسلم لیگ ن کا صفایا ہوگیا اور پی پی پنجا ب میں بھی بڑے سلیقے سے قدم ہلا رہی ہے ۔