استحکام پاکستان کے تقاضے

حسب معمول اس بار بھی ملک میں اگست کو جشن آزادی شایان شان طریقے سے منانے کیلئے تیاریاں مکمل کی جا چکی ہیں۔ سرکاری عمارتوں کو برقی قمقموں سے سجایا جارہا ہے۔ وفاقی دارلحکومت میں بلند وبالا عمارتوں پر سبز ہلالی پرچم لہراتے نظر آتے ہیں جو اس بات کا پتہ دیتی ہے کہ اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں اور اکیسویں صدی کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہوکر ہم دنیا کے سنگ ترقی کے سفر میں شانہ بشانہ آگے بڑھنے کیلئے تیارہیں۔اسی جشن کا مزہ دوبالا کرنے کیلئے اور اگست کی درمیانی رات کو اسلام آباد کی سڑکوں پر چندکھلنڈرے اوربگڑے ہوئے امیرزادے اپنی موٹر سائیکلوں کو ڈبل سیلنسر لگاکر بے ہنگم آوازوں سے دنیا کو یہ پیغام بھی دینگے کہ ہم اپنے اقدار کو بھولے نہیں ہیں۔ اسی دن کی مناسبت سے سیاسی قیادت میڈیا میں تحریک پاکستان کے حوالے سے بیانات داغ کرملی وحدت کا درس بھی دینگے۔لیکن اگست کو حسب معمول زندگی معمول پر آجائیگی اور سیاسی جبر، عدم مساوات اورمعاشی استحصال کے مارے عوام ایک نئے صبح کی امید لے کر اگلے سال کیلئے دن گننا شروع کر دیں گے۔ کیا پاکستان کا مطلب یہی تھا؟پاکستان کا مطلب تو لاالہ الااللہ ہی تھا۔ جس کا سادہ اور صریح مطلب یہ تھا کہ مملکت خداداد میں اللہ کی حکمرانی ہوگی، یہاں پر اللہ اور اسکے رسول کی احکامات کی روشنی میں قوانین بنائے جائینگے اور عدل قسط پر مبنی ایک ایسے صالح معاشرے کی بنیاد رکھی جائیگی جو پوری دنیا کیلئے بالعموم اور مسلم دنیا کیلئے بالخصوص مشعل راہ اور رول ماڈل ہوگی۔ لیکن قیام پاکستان کے بعدپچھلے تقریباً برسوں کی تاریخ پر ایک سرسری نظر دوڑائی جائے تو باآسانی اندازہ ہوجاتا ہے کہ دنیا کے سنگ ترقی کے سفر میں ہم کہاں کھڑے ہیں۔ جبر وستبداد کا پیکر ہماری سیاست امرا اور مراعات یافتہ طبقے کا وہ کھیل بن چکا ہے جس سے عام آدمی کو ایسی بد بو آتی ہے کہ وہ اسکے نزدیک جانے سے رہا۔ ہمارے آبائو آجدادنے آزادی کی تحریک میں ہزاروں ، لاکھوں جانوں کی قربانی ایک ایسے جداگانہ مملکت کیلئے دی تھی جہاں پر وہ اپنی تقدیر کے فیصلے خود کرسکیں لیکن یہاں پر تو ہمارے معاشی فیصلے ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف میں بن کر آتے ہیں۔ وہ ہمیں بتائیں گے کہ ہم نے کس کس مد میں کتنی ٹیکس وصولیاں کرنی ہیں؟ ملا زمین کے تنخواہوں میں اضافے کی شرح کیا ہونی چاہئے؟ ہم شرح سود کتنا رکھیں؟ سود پر سود لے کر ہم نے اپنے آنے والی نسلوں کو ان بین الاقوامی اداروں کے پاس گروی رکھ دیا ہے۔ ہمیں اپنے ہی ملک میں اپنے بنائے ہوئے قوانین پر عمل درآمد کا حق نہیں ہے۔ جنسی تشدد ،زنا بالجبراور ناموس رسالت کے حوالے سے کسی کے اوپر حد جاری کرنے کی بات نکلتی ہے تو مغربی طاقتیں ہمیں قدامت پسند کہہ کر اقتصادی پابندیوں کے چکر وں میں پھنساکر ہمیں ہماری اوقات یاد دلاتے ہیں۔ اور اسی طرح ملک کے اندر سے بھی مغرب زدہ نام نہاد روشن خیال طبقے اللہ کے قانون کو ظالمانہ قرار دے کر مغرب کے حواریوں میں اپنا نام درج کرواتے ہیں۔ ایسے میں ہم کسی ملک اور خصوصاً امریکہ کے ساتھ برابری کی سطح پر تعلقات استوار رکھنے کی بات کس بنیاد پر کرسکتے ہیں؟ ہماری سیاسی قیادت سے کوئی پوچھے کہ ہم نے وراثت کے قانون کے حوالے سے خدائی قانون کو چھوڑکر مغربی قانون سے ہم آہنگ اقوام متحدہ کے چارٹر پر دستخط کیوں کئے؟ ہماری عدالتوں میں انصاف بک رہا ہے، کورٹ اور کچہریاں بدعنوانی کے بد ترین اڈے بن چکے ہیں۔ اسی وجہ سے ہمارے معاشرے میں عدم برداشت کا مادہ تیزی سے اپنی جڑیں پھیلا رہا ہے۔ سیاسی جبر، معاشی استحصال اور سماجی ناہمواریوں پر مبنی اس معاشرے کو ریاست مدینہ کی طرز پر ڈھالنے کا واحد ذریعہ یہ ہے کہ مملکت خداداد میں اللہ اور اس کے رسولۖ کا حکم چلے۔قائد اعظم محمدعلی جناح کے فرمودات کی روشنی میں یہ مملکت اسلام کا قلعہ اور تجربہ گاہ تب بن سکتا ہے جب یہاں اللہ کا قانون نافذ ہو۔ بانی پاکستان نے اپنے مختلف فرمودات اور خطبات میں باربار اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ مملکت خداداد کو اسکے اساسی نظرے پر استوار کیا جائے گا اور اس میں اسلامی قوانین کو رائج کیا جائے گا۔علامہ اقبال کے خواب کو سچی تعبیر تب مل سکتی ہے جب یہاں پر ان کے فرمودات کی روشنی میں نسلی، لسانی اوروطنی تعصبات سے بالا تر ہوکر فرزندان توحید کوملت اسلامیہ کی حیثیت سے اسلام کی لڑی میں پرویا جائے۔ علامہ مرحوم نے اپنی شاعری کے ذریعے مسلمانوں کے دینی حمیت کو للکارتے ہوئے اس قوم کو بتایا کہ اسلام ہی وہ واحدقوت ہے جو اس بکھرے ہوئے قوم کو ایک ہی قومی وحدت میں سمیٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ ایک لمحہ فکریہ ہے۔ ہمارے لئے سوچنے کا مقام ہے کہ ہم نے قیام پاکستان کے حوالے سے بانیان پاکستان کی انتھک کوششوںاور اپنے آبائو اجداد کے خون سے کتنا انصاف کیا ہے۔