انگار جانے،لوہار جانے

ہمارے ہاں مقامی سطح پر پشتو اور ہندکو زبانوں میں استعمال ہونے والا محاورہ جوبائیڈن تک کیسے اور کس نے پہنچایا ۔ یعنی انگار جانے اور لوہار جانے،اور اخبار کی سرخی سے اس کا اظہار ہوتا ہے ،یا پھر یہ بھی پاکستانی سیاسی تاریخ کو ایک خاص ڈگر پر ڈالنے والی اسی نوعیت کی ایک اخباری سرخی ”ادھر ہم ،اُدھر تم ”کے مماثل ہے جس کی وجہ سے بھٹو مرحوم اپنے مخالفین کی طنزیہ بیان بازی سے اب تک (مرنے کے بعدبھی )جان نہیں چھڑا سکے ،حالانکہ بھٹو صاحب نے یہ الفاظ اپنے منہ سے کبھی ادا نہیں کئے ۔بلکہ لاہور کے ایک صحافی نے ان کی ایک تقریر سے اخذ کرتے ہوئے اخبار کی لیڈ سٹوری کو یہ مخصوص الفاظ دیئے تو بھٹو مرحوم کے ساتھ یوں چپک گئے کہ ایک ”تاریخ”رقم کر گئے ،اگرچہ پیپلزپارٹی اس کے بعد پورا زور لگاتی رہی ہے کہ ان الفاظ کی تہمت سے کسی طرح گلو خلاصی حاصل کی جائے ۔ تاہم اخبار کے نیوز ایڈیٹر نے اسی خبر کے متن سے یہ سرخی اتنی خوبصورتی کے ساتھ کشید کر کے خبر کو قابل توجہ بنادیا ہے کہ مجھے لگتا ہے اب یہ سرخی جو بائیڈن کے ساتھ چپک کر رہ جائے گی۔یعنی بقول انوری
ہر بلائے کہ از سما باشد
گرچہ بر دیگراں قضا باشد
برزمیں نہ رسد کہ می پرُ سد
خانہ انوری کجا باشد
اخبار کی سرخی ہے ،”افغانستان جانے اور افغان فوج ”یعنی وہی انگار جانے اور لوہار جانے، جوبائیڈن نے کہا ہے ملک کا دفاع افغان فوج کی ذمہ داری ہے ،افغانستان کے مستقبل کا فیصلہ افغان عوام کو خود کرنا ہوگا،ہمارا فوجی مشن 31اگست تک مکمل ہو جائے گا۔ادھر افغانستان کیلئے امریکہ کے نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے گزشتہ روز قطر میں طالبان نمائندوں سے ملاقات کے موقع پر امریکہ کی جانب سے افغان طالبان سے عسکری کارروائیاں بند کرنے اور سیاسی طور پر معاملات حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے ۔اس پر فارسی کا ایک اور شعر یاد آرہا ہے کہ
ہر کہ دانا کُند ،کُندناداں
لیک بعد از خرابی بیار
لگ بھگ بیس سال تک امریکہ نے افغانستان کی دلدل میں خجل خوار ہو کر بالا آخر یہ بات تسلیم کر لی کہ اس نے ایک پوری نسل کو برباد کر کے رکھ دیا ،اس لیے وہ ایک نسل کو بیس سال کی جنگ میں دھکیلنا نہیں چاہتے ،اتنی تباہی اور بربادی کے بعد بھی امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو فکر ہے تو صرف اپنی نسلوں کی ،باقی افغانستان اور پاکستان کی نسلوں کا کیا بنا اور آگے کیا بنے گا ۔اس کی ان اقوام کو کوئی فکر لاحق نہیں ہے ۔جبکہ اس جنگ سے اخذ کئے جانے والے نتائج نے انہیں یہ سکھا دیا ہے کہ نہ صرف افغانستان سے جان چھڑائو بلکہ افغانوں سے بھی اپنے ملکوں کو پاک کرو۔ اس حوالے سے برسلز سے آنے والی ایک خبر خاصی چشم کشا ہے ،جہاں یورپی یونین کے چھ رکن ممالک نے یورپی بلاک کے سربراہ سے ایک خط میں افغان پناہ گزینوں کی ملک بدری نہ روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ جرمن خبررساں ادارے کے مطابق ان ملکوں میں آسٹریا، ڈنمارک، بیلجیئم ،ہالینڈ ،یونان اور جرمنی شامل ہیں ۔ان ممالک کا موقف ہے کہ پناہ کی درخواست مسترد ہونے کے باوجود افغان مہاجرین کو ملک بدر نہ کرنے سے غلط تاثر جائے گا اور اس طرح مزید افغان پناہ گزین یورپ کا رخ کریں گے۔ان ممالک نے یورپی یونین سے مطالبہ کیا ہے کہ افغان حکومت کے ساتھ ملک بدری کے معاملے پر بات چیت کی جائے۔یاد رہے کہ افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلاء کے بعد اور طالبان کے بڑھتے کنٹرول اور کارروائیوں کی وجہ سے ہزاروں افغان باشندے ملک چھوڑ رہے ہیں ۔یہ یورپی ممالک اقوام متحدہ کے مہاجرین کیلئے ذیلی ادارے یواین ایچ سی آر کے تحت پاکستان پر ہمیشہ دبائو ڈالتے رہے ہیں کہ انہیں ملک بدر نہ کیا جائے یعنی ان کی واپسی نہ کی جائے کہ بقول ان کے افغانستان میں حالات ساز گار نہیں ہیں۔ تاہم جب خود پر آپڑی تو ان افغان مہاجرین کی پناہ کیلئے دی جانے والی درخواستوں کو مسترد کیا بلکہ ان کے ساتھ ہاتھ ہولا رکھنے والے سلوک پر آتش زیرپا ہورہے ہیں اور ان کو یورپ بدری کا شکار کرنا چاہتے ہیں حالانکہ اتنی دور جانے اور وہاں بس جانے کی خواہش رکھنے والے افغان باشندوں کی تعداد ہے ہی کتنی ؟مگر ان سے اتنی قلیل تعداد میں بھی یہ پناہ گزین برداشت نہیں ہورہے ،یہ تو پاکستانیوں کے دل سے کوئی پوچھے کے (کم تعداد میں )اچھے مہاجرین کے ساتھ اکثریت کاتعلق ایسے طبقات سے ہے جنہوں نے اسی حرکتوں سے پاکستانیوں کو اسلامی بھائی چارے اور انصار کا کردار بھی بھلا دیا ہے۔کیونکہ ان لوگوں نے گزشتہ چالیس سال یا کچھ زیادہ عرصہ سے پاکستانی معاشرے کو جن سماجی برائیوں کی آماجگا بنا دیا ہے اس کی تفصیل میں جانے کی ضرورت ہی نہیں کہ بقول شاعر جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے ۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہو تیںکے مصداق سارے ”گلے سڑے پھل”نہیں ہیں اور اعلیٰ خاندانوں کے نفیس لوگوں کی بھی ان میں کمی نہیں ،تاہم جس طرح ان کی اکثریت نے ہر قسم کی غیر قانونی سرگرمیوں سے ہمارا معاشرہ برباد کیا اس کے بعد موجودہ تنائو کی کیفیت کے بعد مزید افغان باشندوں کی ممکنہ آمد کو روکنے کے حوالے سے سرکاری سطح پر اختیار کیا جانے والا رویہ بالکل درست اور پاکستانیوں کے دل کی آواز بن کر ابھرا ہے ۔اس پر سختی سے عمل درآمد انتہائی ضروری ہے۔امریکہ اور یورپی اقوام نے افغانستان میں ایک بار پھر خانہ جنگی کی ابھرتی ہوئی صورتحال میں وہاں موجود اپنے مددگاروں تک سے طوطے کی طرح آنکھیں پھیر کر ان بے چاروں کو کابل انتظامیہ کے خلاف بر سرپیکار گروہ کے آگے آسان چارہ بنا کر پھینک دیا ہے اور آنے والی خبروں کے مطابق سابقہ امریکی مددگاروں کے ساتھ جو سلوک روا رکھا جارہا ہے اور انہیں اگلے جہاں کی سیر کروائی جارہی ہے ۔اس کے بعد یورپی اقوام کا رویہ ان کے ساتھ ملک بدری والا نہیں بلکہ ”خوش آمدید”والا ہونا چاہیے ۔اور طالبان کو بھی اپنے ہی ہم وطنوں کے ساتھ اختیار کیا جانے والا رویہ ترک کرنا چاہیے کہ بقول مقبول عامر
میں جنگ جیت کے تم کو معاف کردوں گا
تمہاری سوچ سے بڑھ کر یہ دل کشیدہ ہے