کیا خوب صورت بات کہی

وقافی وزیر فواد چودھری اکژوبیشتر خوب صورت بات بھی کہہ جا تے ہیں جس سے ان کی بصیرت و تزویراتی سوچ کی داد دینا پڑ تی ہے جب داسو کا واقع رونما ہو ا تب آپ نے دیگر حکومتی وزیر وں کاپورا موقف نہیں اپنا یا بلکہ یہ بھی ساتھ رائے دید ی کہ دہشت گردی کا بھی عنصر محسو س کیا جا تا ہے ، ورنہ وزیر تدبیر شیخ صاحب تو کہہ چکے تھے کہ ٹریفک حادثہ ہے اسی طرح چودھری صاحب نے بڑی قیمتی بات افغانستان کی صورت حال کے پیش نظر کہہ دی ہے وزیر اطلا عات فواد چودھری نے سما جی رابطے کی ویپ سائٹ پراپنے پیغام میں کہا کہ امریکی عوام کو افغان حکمر انوں سے سوال اٹھا ناچاہیے کہ آخر انھیں دی جا نے والی امداد زمین کھا گئی یا آسما ن نگل گیا ، انھو ں نے کہا کہ اتنی بڑی امدا د کے باوجود افغان فورسزپتوں کی طرح بکھر رہی ہے ، وزیر اطلا عات نے یہ بھی کہا کہ افغان جنرنیل ارب پتی بن رہے ہیں لیکن عوام غربت کی چکی میں پس رہی ہے ،فواد چودھری نے بڑی دانشمندانہ تزویر اتی بات یہ بھی کہی کہ کرپشن کس طرح قوموں کو غرق کردیتی ہے۔ اگر اشرف غنی کی سرکا ری فوج جس کی تربیت امر یکا اور بھارت دونو ں نے کی ان میں کچھ بھی صلا حیت ہو تی تو افغانستان سے نکلنے کے لیے طالبان کے سامنے امریکا دست گیر ہر گز نہ ہو تا ، چنا نچہ دنیا کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ افغانستان میں اصل قوت طالبان ہی ہیں کوئی ددسرا نہیں ہے اب امریکا کے خفیہ ادارے بھی یہ کہہ رہے ہیں کہ نو ے دن میں طالبان افغانستان پر قابض ہوجائیں گے ، یہ الفاظ ان کے درست نہیں ہیں افغانستان میں جب امریکا آتش وآہن کی برسات کر تا تھا اس وقت بھی طالبان کا ہی افغانستان پر قبضہ تھا جو اب بھی ہے فرق یہ ہے کہ ان کے پا س اس وقت انتظامی فیصلوں کو نا فذکر نے کی قوت نہ رہی تھی ، بہر حال وفاقی وزیر فواد چودھری جو فرما نا چاہتے تھے اس کا لب لباب یہ ہے کہ جنگ کر ائے کے ٹٹوئوں کے ذریعے نہیں لڑی جا تی ، یہ عقدہ برسو ں پہلے مغل بادشاہ اکبر کے نورتنؤں میں سے ایک ملا دو پیا زہ نے حل کر دیا تھا ، دربار اکبری میں مغل بادشاہ نے سوال اٹھایا کہ جنگ میں سب سے کا رگر ہتھیا ر کونسا ثابت ہو تا ہے سبھی درباریوں نے اپنی حکمت و دانش کے مطابق جو اب دیا لیکن ملا دوپیا زہ نے اکل کھر ا جواب دے کر سب کی سٹی گم کر دی انھو ں نے کہا کہ کوئی بڑے سے بڑا ہتھیا ر ، کوئی دھن دولت کوئی مہلک سے مہلک اسلحہ کا م نہیں آتا ہے صرف حوصلہ اور حواس ہی جنگ میں کا م آتے ہیں دنیا کی عظیم قوت اپنی جدید ترین تربیت یا فتہ فوج اور اسلحہ سمیت افغانستان میں آگھسی تھی ، دس سال تک ما را ما ری کر تی رہی ، گھس بیٹھتے وقت اس نے کسی کی مدد طلب نہ کی اپنا گھمنڈ اور اپنی طاقت کا زور دکھا نے کی سعی کی مگر نکلتے وقت نہ اپنی طا قت کا حوصلہ تھا نہ حواس ، یہ کہانی ہے ، افغانستان میں طالبان نے جس اندازمیں پیش قدمی کی ہے اس نے اشرف غنی قما ش کی طاقتوں کے سارے غرور و گھمنڈ اپنے پیر و ں تلے روند دئیے ہیں اور ثابت کر دیا ہے کہ مید ان جنگ میں نظریہ ہی اصل طا قت ہے بھاڑا لے کریا دے کر کوئی قوت حاصل نہیں ہوا کرتی ۔ طالبان کی اس حکمت عملی سے یہ اندازہ ہورہا ہے کہ اشرف غنی افغانستان کے کسی حصہ میںاپنی حکومت کا سکرٹریٹ قائم کرنے میں کامیا ب نہ ہو پائیں گے اور نہ افغانستان سے باہر کوئی جلا وطن حکومت قائم کرنے کی صلا حیت حاصل کر پائیں گے ، البتہ اس مرتبہ ایک اہم بات یہ ہورہی ہے کہ افغانستان سے نقل مکا نی کرنے والے تاجکستان اور ترکی کا رخ کر رہے ہیں ، گویا یہ ایک منصوبے اور سازش کا حصہ لگ رہا ہے کیو ں کہ یہ دنیا کو ظاہر کرنے کی کا وش کی جا رہی ہے کہ افغانستان پر طالبان کی صورت میں پشتون قابض ہو رہے ہیں اور غیر پشتونو ں کے لیے افغان زمین تنگ ہو رہی ہے اس لیے یہ اپنی قوم و نسل کے ممالک کا رخ پنا ہ کے لیے کر رہے ہیں ، ان حالا ت کے باوجو د بعض عاقبت نا اندیشوں کی تمنا ہے کہ امریکا پھر سے نا ئن الیون کی آڑ طرز پر افغانستان میں کردار ادا کرئے مگر اب ایسا ممکن نہیں ہے کہ افغانستان کا اندرونی معاملہ ہے اور اس کو افغانستان ہی کے فریقوں نے ہی سلجھا نا ہے پاکستان کا یہ موقف سو فی صد درست ہے کہ افغانستان جیسی سنگین صورت حال کا واحد حل باہمی بات چیت اور دوست قوتوں کی مفاہمتی کوششوں کے ذریعے ہی ممکن ہے اس کا کوئی دوسرا حل نہیں ہے ۔خون ریزی بہت بڑا المیہ ہے اس میں محض تما شائی بن کر بیٹھے رہنا کوئی اچھا عمل نہیںہے اور نہ کسی طرح سے فریق بن کر قدم بڑھا نا سود مند ہے ، ایک پر امن افغانستا ن نہ صرف خطے کے ممالک کی ضرورت ہے بلکہ پوری دنیا کی ضرورت ہے گزشتہ چالیس سال سے افغانستان کے حالا ت نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور اس کی وجہ سے دنیا بھر میں اچھے بر ے انقلا بات بھی بپا ہوئے ہیں اب یہ ختم ہو جا نا ضروری ہے۔