Idariya

بعد ازخرابی بسیار پیشکش

اے ایف پی کے مطابق کہ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں جاری ٹرائیکا پلس مذاکرات کے دوران افغان حکومت کے مذاکرات کاروں نے طالبان کو پیشکش کی ہے کہ وہ ملک میں جاری جنگ کے خاتمے کے بدلے طالبان کو اقتدار میں شریک بنانے کے لئے تیار ہیں۔ تاہم اس حوالے سے اب تک طالبان کا موقف سامنے نہیں آیاقبل ازیں امریکی انٹیلی جنس ادارے کی رپورٹ میں اس امکان کا اظہار کیا گیا تھا کہ طالبان 90روز میں افغان سکیورٹی فورسز کو ہر محاذ پر شکست دیکر دارالحکومت پر قابض ہوسکتے ہیں۔ طالبان نے صرف5روز میں افغانستان کے ایک چوتھائی صوبائی دارالحکومتوں پر قبضہ کرلیا ہے اور اس تیزی سے پیش قدمی جاری رہی تو آئندہ30دنوں میں طالبان افغان حکومت کو کابل تک محدود کرسکتے ہیں۔تازہ اطلاعات کے مطابق طالبان نے مزید اہم علاقوں ‘شہروں اور ایئرپورٹس پر قبضہ کر لیا ہے اب طالبان کابل سے سو کلو میٹر سے بھی کم فاصلے پر رہ گئے ہیں تیزی سے بدلتی صورتحال کے باعث امریکہ اور برطانیہ نے کابل سے سفارتی عملے کو نکالنے کیلئے فوج بھیجنے کا اعلان کیا ہے امریکی محکمہ دفاع نے بتایا ہے کہ تین ہزار فوجی کابل بھیجے جا رہے ہیں جو سفارتی عملے کو نکالنے کی ڈیوٹی سرانجام دینگے جبکہ طالبان کے خلاف کسی کارروائی میں حصہ نہیں لیا جائے گا۔ امر واقع یہ ہے کہ افغانستان میں سب کے لئے قابل قبول سیٹ اپ قائم کرنے کا موقع ضائع کر دیا گیا طالبان اور امریکا کے درمیان مذاکرات ہوئے لیکن اس میں افغان حکومت کو چنداں اہمیت نہ دی گئی امریکی انخلاء شروع ہوتے ہی طالبان طاقت کے بل بوتے پر مختلف علاقوں پر قبضہ کرتے ہوئے کابل کی طرف بڑھ رہے ہیں امکان تھا کہ افغان فوج طالبان کے خلاف سخت مزاحمت کرتی مگر وہ ریت کی دیوار ثابت ہو رہی ہے جس کی ایک بڑی وجہ افغان حکومت اور حکمرانوں پر عدم اعتماد بھی ہے اس امر کا ادراک کرتے ہوئے افغان صدر اشرف غنی کو حالات کا ادراک کرتے ہوئے اپنے خول سے نکلنے اور کچھ لو کچھ دو کی پالیسی کے تحت طالبان سے معاملت کرنا چاہئے تھا لیکن وہ اب تک بدستور انا کے خول میں ہیں کابل کی طرف طالبان کی کامیاب مراجعت کے بعد اور محولہ امریکی رپورٹ کے تناظر میں اب طالبان کو شراکت اقتدار اور مذاکرات کی توقع پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ جانے کے بعد کا عمل ہے جس پر طالبان کا کان دھرنا مشکل نظر آتا ہے کیونکہ اب طالبان بلا شرکت غیرے اپنی چھینی گئی حکومت کی واپسی سے کم پر شاید ہی رضا مند ہوں یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ عالمی برادری اور پاکستان طالبان کو طاقت کے زور پر کابل پر قبضہ سے گریز کا مشورہ دے رہے ہیں لیکن جنگ کے میدان میں آگے بڑھنے والے کم ہی دنیا کی باتوں پر کان دھرتے ہیں طالبان سفارتی ذرائع اور دیگر ذرائع کے استعمال سے کم واقف اور طاقت کے بل بوتے پر بقاء کی جنگ لڑنے اور ہر مشکل حالات کا مقابلہ کرنے اور حصول حکومت کے زیادہ قائل اور تجربہ رکھتے ہیں ان کی گزشتہ حکومت بھی اسی طرز پر قائم ہوئی تھی اور ان کو محروم اقتدار بھی اسی طریقے سے کیا گیا اس لئے ان کی پالیسی بھی یہی نظر آرہی ہے اب تو ان کو روکنے اور راہ کی رکاوٹ بھی واجبی سے ہیں۔ لیکن بہر حال تمام تر معاملات کے باوجود مسئلے کا پرامن حل اور طاقت کے استعمال و تشدد سے گریز ہی بہتر اور پائیدار طریقہ ہے لیکن معروضی صورتحال اس کے برعکس دکھائی دیتے ہیں جس کا ثبوت غیر ملکی سفارتکاروں کاا نخلاء ہے جس کے بعد سوائے طاقت اور ٹکرائو کے کوئی راستہ باقی نہیں رہتا عالمی مداخلت تو بہرحال دورازکار معامعلہ ہے اب واحد صورت یہ نظر آتی ہے کہ افغان سٹیک ہولڈروں کی صلاح و رضا مندی سے ایک عبوری حکومت تشکیل دی جائے پھر دیگر معاملات طے کئے جائیں اس مقصد کے لئے اشرف غنی کو اقتدار سے فوری طور پر علیحدہ ہونا ہو گا اور افغانستان میں غیر جانبدار عبوری حکومت کا قیام عمل میں لا کر معاملات پر امن طریقے سے نمٹانے کی راہ ہموار کرنی ہو گی بصورت دیگر کابل پر اس فریق کی حکمرانی دکھائی دیتی ہے جو طاقتور ہو اور اقتدار پر قبضہ یا پھر اقتدار کا دفاع کرنے کی اہلیت کا حامل ہو طاقت کے بل بوتے پر اقتدار پر قبضہ طالبان کے لئے بڑے چیلنج سے کم نہ ہو گا ان کی حکومت عالمی طور پر تسلیم نہ ہو گی اور تنہا رہ جانے سے مشکل کا شکار ہوں گے پرامن انتقال اقتدار سے خونریزی سے گریز اور مسلمہ حکومت کا قیام ممکن ہوگا طالبان اگر موخر الذکر راستہ اختیار کریں تو یہ ان کے حق میں بہتر ہو گا لیکن اس کا امکان کم ہی ہے ۔