ہماری سیاحت کیسے فروغ پائے گی

چند روز قبل میرے دو دوست پہاڑوں کی سیر کر کے لوٹے ہیں۔ ایک اپنے اہل خانہ کے ہمراہ گلیات اور مری کے کوہساروں میں گھومنے گئے تھے جبکہ دوسرے نے شمالی علاقے کی راہ لی تھی۔ مجھے ملے تو اپنے اپنے سفر کے احوال اور تاثرات سے آگاہ کیا۔ وہ یہاں کے قدرتی حسن سے تو متاثر تھے مگر اس حسن کی کشش کے علاوہ سیاحت سے جڑی دیگر آسایش اور سہولت کے نہ ہونے پر بڑے مایوس تھے۔ بے ہنگم ٹریفک اور مقامی سیاحوں کے رویوں سے بھی خوب تنگ تھے کہ جس کی وجہ سے وہ مکمل طور پہ اپنی سیاحت سے لطف اندوز نہ ہو سکے۔ میں جب ان کی باتیں سن رہا تھا تو یہ احساس ہوا کہ بہت سے لوگ اپنے روزمرہ کے معمولات سے اکتا کر کچھ دِنوں کے لیے نئے ماحول میں لطف حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔ یوں وہ اپنے طور پہ راحت بھی محسوس کرتے ہیں اور بچوں، عزیزوں،دوستوں کے ساتھ مل کر موج میلہ کرتے ہیں۔ سیاحت کی کئی جہتیں ہیںاور لوگ کہتے ہیں کہ سفر وسیلۂ ظفر ہوتا ہے۔ سیاحوں کے مشاہدات اور سفرناموں سے یہ بات درست ثابت ہوتی ہے کہ سفر کرنے سے بہت کچھ دیکھنے اور سیکھنے کو ملتا ہے ۔ ایک منظر سے دوسرے منظر تک سفر کر کے اور ایک مقام سے دوسرے مقام تک فاصلہ طے کر کے دنیا کے کئی رنگ اور انسانوں کے کئی روپ قلب و نظر میں اتر جاتے ہیں۔ ہماری بد قسمتی کہ قدرتی حسن،تاریخی مقامات ،روایتی لذیذ طعام اور مختلف تہذیب و تمدن سے وابستہ متاثر کن ثقافت کے ہوتے ہوئے بھی بیرون ملک سے سیاح یہاں کم آتے ہیں ۔ موسم گرما میں جو پہاڑ ی علاقوں میں لوگوں کاانبوہ دکھائی دیتا ہے،اس میں اتنی اتھل پتھل ہوتی ہے کہ لوگ اپنے ارد گرد نظر ڈالتے ہیں مگر کچھ دیکھ نہیں پاتے ۔میرے دوستوں کی طرح پھرجب سفر کر کے واپس لوٹتے ہیں تو خوب بے زار بیٹھے ہوتے ہیں۔ ایسا کیوں ہوتا ہے ،یہی سوچنے کی بات ہے۔ ہماری ہر حکومت بھی سیاحت کو فروغ دینے کی خواہش رکھتی ہے تا کہ اپنی معاشی دشواری کا سدباب کر سکے۔ حکومت کو سمجھنا چاہیے کہ مسافرت کے اپنے ڈھنگ ہوتے ہیں ، ہر سیاح اپنے طور پہ سیاحت سے لطف اندوز ہونا چاہتا ہے۔ یورپ اور مغرب کے معروف ممالک کو ا یک طرف رکھیے ، اب دبئی میں ایسا کون سا قدرتی حسن موجود ہے لیکن سیاح ہمارے دیس کو چھوڑ کر اِن ممالک کا رخ کرتے ہیں۔ ایک زمانہ پہلے پاکستان کا ماحول کچھ اور نوعیت کا تھا۔ بیرون ملک سے سیاح بڑے شوق سے آیا کرتے تھے۔ راولپنڈی’ لاہور اور کراچی کے ساتھ ساتھ پہاڑی علاقے لوگوں کے لیے بڑی کشش رکھتے تھے۔پشاور خاص توجہ کا مرکز تھا۔ درہ خیبر کو دیکھنے کہاں کہاں سے لوگ نہیں آتے تھے۔ پشاور سے لنڈی کوتل ایک ٹرین چلا کرتی تھی’ بڑے شوق سے اس ٹرین کا سفر کیا جاتا تھا۔وہ سب کچھ اب نہیںرہا۔ ان دنوں کی یادیں رہ گئی ہیں اور وہ ذہنی آزادی اب خواب و خیال میں پائی جاتی ہے۔ اس وقت ہم سب ذہنی اعتبار سے دہشت گردی، تنگ نظری اور بے مروتی کا شکار ہیں ۔معاشرتی زندگی کے دوسرے اہم معاملات کے علاوہ ہم سیاحت کو فروغ دینے میں بھی روشن خیال نہیں رہے۔ گزشتہ چالیس سال سے ایک ایسا اندھیرا چھایا ہوا ہے کہ کہیں سے بھی روشنی نہیں آرہی۔ ایسے میں ایک پوری نسل اب جوان ہو چکی ہے ،جو ایک مخصوص طرز کی زندگی گزار رہی ہے۔ صبح سویرے اپنے اپنے دفاتر اور کاروبار کا رخ کرنا،دن بھر مادہ پرستی میں اُلجھے رہنا اور رات کو ٹیلی ویژن کے سامنے بیٹھ کر معاشرتی بگاڑ پہ مبنی ڈرامے دیکھنا یا انتہائی بونے لوگوں کی جھوٹی اور نفرت انگیز باتیں سن کر سو جانا۔ ہاں یوم آزادی کا جشن ہو تو گاڑیوں اور موٹر سا ئیکلوں پہ بیٹھ کر خوب ہنگامہ برپا کیے رہتے ہیں۔عید کا چاند نظر آئے یا کہیں شادی بیاہ کی تقریب ہو تو نوجوانوں کی اکثریت چھتوں پہ چڑھ کر ہوائی فائرنگ شروع کر دیتی ہیں۔کسی صحت افزا مقام پہ جاکر راحت محسوس کرنے کی بجائے دن ہو یا رات بس سڑکوں پہ آورہ گردی کرتے رہتے ہیں ۔اب ایسے میں کون ساری دنیا کو چھوڑ کر یہاں آئے گا۔سیاح وہاں جاتے ہیں جہاں اُن کے لیے کوئی کشش ہو اور وہ اس میں دلچسپی رکھتے ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے بہت سے ممالک سیاحوں کی مختلف دلچسپیوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے اپنا آپ پرکشش بنانے کی ہر
ممکن کوشش کرتے ہیں۔ہم نے تو اپنے لوگوں کو متقی بنانے کے لیے سینما اور تھیٹر بھی ختم کر ڈالے ۔دہشت گردی کے خلاف جنگ نے لوگوں کو گھروں میں محصور کر دیا کہ ہر موڑ پہ ناکا بندی اور پوچھ پاچھ سے عاجز ہو چکے ہیں۔ ایسے میں اگر کوئی بھولے بھٹکے یہاں آبھی گئے تو ہوائی اڈہ کی دُشواریوں سے نکلتے ہی ہر سمت ناکا روکنے پر اپنی شناخت کرانے لگتے ہیں۔ دنیا میں نائٹ لائف کا تصور پایا جاتا ہے۔جس کے بارے یہاں سوچنے والابھی قابل گرفت ہے۔ہم تو اس ماحول کے عادی ہو چکے ہیں کہ یہ ہمارا ملک ہے اور ہم نے یہاں رہنا ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ باہر سے سیاح یہاں آئیں ، سیاحت کو فروغ ملے اور ڈالر کمائیں تو پھر اپنے آپ اور ماحول کو بدلنے کی ضرورت ہے۔اپنے ماضی کی زندہ روایات سے اس دیس کو سیاحوں کے لیے پر کشش بنا نا ہوگا۔