”طالبان کو روکیں”اشرف غنی کی عالمی برادری سے اپیل

کابل (ویب ڈیسک): افغانستان کے صدراشرف غنی نے پہلی مرتبہ عوامی سطح پر طالبان کی کابل کی جانب تیزی سے پیش قدمی تسلیم کرتے ہوئے طالبان کو روکنے کے لئے عالمی برادری سے مدد مانگی ہے۔
اشرف غنی نے ہفتے کے روز سرکاری ٹی وی چینل پر مختصر اظہار خیال کرتے ہوئے افغا ن عوام کو بتایا کہ طالبان جنگجو امریکی اور نیٹو کے فوجیوں کو چھوڑ ے گئے خلا میں تیزی سے علاقائی فوائد حاصل کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ” وہ عالمی رہنمائوں کے ساتھ ساتھ مقامی سیاسی شخصیات کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں ۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ گزشتہ 20 سالوں کی "کامیابیوں” کو نہیں چھوڑیں گے۔”تاہم بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ اشرف غنی جلد ہی استعفٰی دے سکتے ہیں ۔

واضح رہے کہ تین ہفتوں سے بھی کم عرصے میں طالبان جنگجوئوں نے شمالی ، مغربی اور جنوبی افغانستان کے اہم صوبائی دارالحکومتوں پر تیز رفتاری سے قبضہ کر لیا ہے اور وہ کابل کے قریب پہنچ چکے ہیں۔
افغان صدر کا کہنا ہے کہ وہ افغانوں پر مسلط کردہ خانہ جنگی ، مزید بے گناہوں کی اموات اور 20 سال کی کامیابیوں کے ضائع ہونے سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ مشاورت بڑی تیزی سے ہو رہی ہے اور نتائج جلد ہی پیارے ہم وطنوں کے ساتھ شیئر کیے جائیں گے۔

یہ فوری طور پر واضح نہیں ہو سکا کہ 72 سالہ غنی کو مغرب اور علاقائی پڑوسیوں سے کیا امید ہے۔ اگرچہ انہوں نے مزید تشدد کو روکنے کا وعدہ کیا تھا تاہم اسکے حصول کے لیے کوئی منصوبہ ان کے پاس نہیںہے ۔
امریکہ ، کینیڈا ، برطانیہ اور دیگر ممالک اپنے سفارتکاروں کو وہاں سے نکالنے کی تیاری کر رہے ہیں کیونکہ سیکیورٹی کی صورتحال خراب ہوتی جا رہی ہے۔ امریکی سفارت خانے کا عملہ حساس مواد کو تباہ کرنے میں مصروف ہے۔غنی نے ان ہزاروں داخلی مہاجرین کی حالت پر تشویش کا اظہار کیا جو گزشتہ چند ہفتوں کے دوران قومی دارالحکومت کابل پناہ کے لئے آئے ہیں۔ادھرعسکریت پسندوں کی نظریں کابل پر ہیں ، لڑائی قومی دارالحکومت سے تقریبا 40 کلومیٹر 25)میل (جنوب مغرب وردک صوبے کے دارالحکومت میدان شہر تک پہنچ گئی ہے۔دریںاثناامریکہ مبینہ طور پر افغان فوج کی نااہلی سے حیران اور مایوس ہوچکا ہے -جو اس کی تربیت یافتہ اور ہر طرح کے جدید اسلحے سے لیس ہے۔مغربی ہرات میں ہزاروں فوجیوں اور کچھ عہدیداروں نے اپنے ہتھیار ڈال دیئے تھے جبکہ جنوب مشرق میں غزنی کے گورنر نے شہر کو بغیر مزاحمت کے طالبان کے حوالے کر کے خود کابل کے لیے روانہ ہو گئے۔ جنہیں دارالحکومت پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے راستے میں حراست میں لے لیاتھا