عسکری نہیں فکری چیلنج

مغربی میڈیا سے متاثر دیگر ممالک کے میڈیا بھی ایک ہی پروپیگنڈہ میں مبتلا نظر آرہے ہیں چنا نچہ میڈیا زور شور سے طالبان کی سرگرمیوں کی خبر اس انداز میں شائع کررہا ہے کہ گویا طالبان افغانستان پر قبضہ کررہے ہیں حقیقت یہ ہے کہ طالبان افغانستان پر ہرگز قابض نہیں ہو رہے ہیں بلکہ نائن الیون کی آڑ میں امریکی تسلط کے ذریعے افغانستان پرجو قبضہ جما یا گیا تھا طالبان وہ قبضہ چھڑارہے ہیں اب تک کی خبروں کے مطا بق طالبان افغانستان کے دارالحکومت کا بل سے پچاس کلو میٹر کے فاصلے پر موجو د ہیں ، طالبان کے اس اجتما ع کے بارے میں گما ن کیا جا رہا ہے کہ طالبان بس ایک دو رو ز میں کا بل پر حملہ کرکے اندر گھسنے کی جنگ کریں گے جس سے کابل کے اندر شدید خوف وحراس کی فضاء قائم ہو چکی ہے ، لیکن طالبان جو چال چل رہے ہیں اس سے اندازہ یہ ہو تا ہے کہ طالبان کا بل پر حملہ آور نہیں ہو ں گے کوئی بہت بڑی مجبوری ہی ان کوایسا کرنے پر مجبور کرے گی ، ان کی پالیسی یہ ہے اشرف غنی حکومت پر امن طور پر کا بل کی کنجیا ں طالبان کے ہا تھ میں دیدے ، اور ان کو کا بل سے پر سکون اندازمیں نکل جا نے کا موقع بھی فراہم کر دیاجائے گا ، جس طرح امریکا کو فراہم کیا گیا ہے ۔ ابھی حال میں امریکا نے اپنے باشندے نکالنے کے لیے فوج بھیجی ہے طالبان نے ان سے کہا ہے کہ وہ اپنے تما م افراد جن میں خواتین وبچے اور دوسرے افراد ہیں اس کے علا وہ اپنے تما م اثاثے صرف اسلحہ وغیر ہ کے علا وہ نکال لے جائیں ان کو جانے کے لیے حفاظتی اقدام بھی فراہم کریں گے ، طالبان نے اب تک جو کا میا بیا ں حاصل کی ہیں ان میں ان کی پالیسی یہ رہی ہے کہ افغانستان کے تما م معاشی ، اقتصادی او ر سما جی وسائل پر کنٹرول حاصل کرلیا جا ئے اور کا بل دارالحکومت کا محاصر ہ کرلیاجا ئے تاکہ اشرف غنی حکومت کوسرنڈر کرنے اور اقتدار کی منتقلی کے لیے عاجز کر دیا جائے ۔طالبان اپنے مقاصد میں کامیابی سے آگے بڑھ رہے ہیں ۔ اس وقت اشرف غنی حکومت کی صورت حال اس وقت اورحالا ت سے قطعی مختلف ہے ۔امریکا نے افغانستان سے نکلتے وقت اشرف غنی کو تنہا چھو ڑ دینے کی چال اس غرض سے چلی تھی کہ وہ جا تے جا تے طالبان کو دنیا کے سامنے جنگی جرائم میں ملو ث ثابت کر نا چاہتا تھا چنانچہ امریکی خفیہ ادارے یہ رپو رٹ دے رہے تھے کہ طالبان کو پیش قدمی کر نے میں ایک سال کی مدت درکا ر ہو گی وہ اس غلط فہمی کا شکا ر رہے ان کا یہ گما ن رہا ہے کہ ان کے جانے کے بعد افغانستان کو عسکر ی چیلنج کا سامنا ہو گا جبکہ افغانستان کو عسکری نہیں فکر ی چیلنج کا سامنا ہے ہے اسی نے آناًفاناًامریکی اداروں کی تصویر کشی کا رنگ پھیکا کر دیا ، اب وہ رپو رٹیں دے رہے ہیں کہ افغانستان پر طالبان کا قبضہ چھ ما ہ میں مکمل ہو جائے گا مگر طالبان جس حکمت عملی سے آگے بڑھ رہے ہیں وہ اس امر کی غما ز ی کر رہا ہے کہ طالبان کو اقتدار پر قبضہ کی ایسی خواہش نہیں ہے جیسی امریکی بقایاجات کو ہے ۔ جہا ں طالبان افغانستان میں فکری تبدیلی کے لیے جہد مسلسل کر رہے ہیں وہاں وہ افغانستان کے حصے بخرے ہو نے سے بھی بچارہے ہیں ماضی میں بھی ان اتحادیو ں نے کا وش کی تھی کہ شمالی اتحاد کے ذریعے افغانستان کو پشتون اور غیر پشتون نسل کا تفرقہ پیدا کرکے افغانستان کی وحدت کو پا رہ پا رہ کردیا جائے ۔ علاوہ ازیں اتحادیوں کے لیے سابقہ شمالی اتحاد کے کما نڈر اب اس اہلیت کے حامل نہیں ہیں جب طالبان نے پہلی مرتبہ کا بل میں اپنی حکومت قائم کی تھی ، اس وقت لے دے کر ایک ہی شمالی اتحاد کا کمانڈر منظرعام پررہ گیا ہے وہ رشید دوستم جو افغانستان کا نائب صدر ہو نے کے باوجود خود ساختہ جلا وطنی زندگی ترکی میں گزار رہا تھا ۔ اس کے بھی قلعہ نما محل پر قبضہ ہو چکا ہے جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پروائرل ہورہی ہیں رشید دوستم نے طالبان کے خلاف قوت کا مجتمع کر نے کی غرض سے صوبہ بلغ میں ایک اجلا س بلا یا تھا مگر وہ بے سود رہا ۔ دنیا تو اس بات پر حیر ان ہے کہ امریکا اور بھارت کی تربیت یافتہ افغان فورسز کا کیا ہو ا وہ ہو ا میں پھوں کر کے کیسے اڑ گئیں ۔یہ سوال امریکا سے بھی مغربی میڈیا پوچھ رہا ہے ۔ادھر جرمنی کے سابق فور اسٹار جنرل اورنیٹو کے سابق سنیئرکما نڈرایگون رمس نے افغانستان میں طالبان کی اتنہائی تیز رفتار کا میا بیو ں پرحیر ت کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ افغانستان سے غیر ملکی افواج کا انخلاء غلطی تھی اب ان سے کوئی پو چھے کہ آخر کب تک بیٹھے رہتے اور بیٹھ کر بھی کون سا دن یا گھڑی انہوں نے سکو ن کی گذاری ، برطانوی وزیر دفاع بین والس نے کہا کہ امریکا نے جلد بازی کر کے بڑا مسئلہ کھڑا کر دیا ہے ، ادھر طالبان کے خلا ف مغربی میڈیا صف آراء ہو گیا ہے ، جرمنی کی چانسلر نے اپنے ایک بیا ن میں کہا ہے کہ اگر افغا نستان میںاسلا می شریعت نا فذکی گئی تو جرمنی افغانستان کی امد اد نہیںکرے گا اب ان سے کوئی پو چھے کہ ان کو کس نے اختیا ر دیا ہے کہ افغانستان میں ان کی مرضی کا نظام لا یا جائے یہ فیصلہ کرنا تو افغان عوام کا ہے ، بظاہرامریکاکا رویہ مثبت نظر آرہا ہے کیوں امریکی وزیر دفاع جنرل لائیڈ آسٹن اور وزیر خارجہ انتھونی بلنکن نے اشرف غنی کو فون کرکے مستعفی ہو نے کا مطالبہ کیا ہے کیو نکہ ان کی مو جو دگی میں جنگ بندی کا کوئی امکا ن نہیں ہے واضح رہے کہ حالات بھی اشرف غنی کی وجہ سے بگڑے جب انہوں نے طالبان کی فراہم کر دہ فہر ست کے مطابق قیدی رہا کر نے سے انکا ر کردیا جس کے بعد طالبان نے مذاکرات کی راہ کی بجائے جہا د کا راستہ اختیا ر کیا ۔