حکومت سازی یاایک اور دریاکا سامنا؟

وزارت عظمیٰ کے بعد صدر کی نامزدگی کا ایک اور مشکل مرحلہ آسانی سے گزر گیا اور وزیراعظم عمران خان نے آمادگی کے اظہار کے بعد پی ٹی آئی آزادکشمیر کے صدر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کو صدر آزادکشمیر کے منصب کے لئے نامزد کر دیا۔بیرسٹر سلطان محمود جمہوری اور پارلیمانی روایات کے عین مطابق وزرات عظمیٰ کے طاقتور امیدوار تھے مگر انتخابات سے بہت پہلے ہی پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت اس اصول سے ہٹنے کی راہیں تلاش کر رہی تھی اور انتخابات کے بعد اس کا عملی مظاہرہ ہوا ۔ اس انتخاب سے پہلے اور بعد گرمیٔ بازار توبڑھ گئی مگر معاملات پوائنٹ آف نو ریٹرن کی طرف اس لئے نہ جا سکے کہ عمران خان نے غیر متوقع طور پر ایک ماڈریٹ ،معتدل ،جنیوئن سیاسی کارکن سردار عبدالقیوم خان نیازی کو وزیر اعظم کے منصب پر بٹھا دیا ۔اس نام نے بیرسٹر سلطان محمود اور تنویر الیاس دونوں گروپوں کی تلخی اور خلیج کو کسی حد تک کم کر دیا بصورت دیگر پی ٹی آئی حکومت سازی کے پہلے مرحلے میں ”ہاوس آف کارڈز”بن کر رہ جاتی۔ خدا خدا کرکے وزیر اعظم کا انتخاب ہوگیا تو صدر کے انتخاب کا مرحلہ آن پہنچا اور پی ٹی آئی منیر نیازی کے اس شعر کی عملی تصویر بن کر رہ گئی کہ
ایک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو
میں ایک دریا کے پار اتر ا تو میںنے دیکھا
وزیر اعظم کی نامزدگی کے بعد دوسرا اہم ترین چیلنج بیر سٹر سلطان محمود چوہدری جیسے تجربہ کار اور فل ٹائم سیاست دان کو سسٹم کے اندر رکھنا تھا ۔ حکومتی دائرے سے باہر رہنے کی صورت میں وہ کوئی بھی اپ سیٹ کرنے کی پوزیشن میں تھے ۔بیرسٹر سلطان محمود نے میرپور میں جو ذومعنی تقریر اور جملے ادا کئے اس نے کئی سوالات کو جنم دیا تھا ۔بالخصوص ان کے رابطہ عوام مہم کے اعلان میں مستقبل کے کئی اشارے پنہاں تھے ۔اس تقریر کے بعد بیرسٹر سلطان محمود کو سسٹم کے اندر رکھنے کی کوششیں تیز ہو گئیں ۔آخر کار انہوںنے صدارت کا منصب قبول کرنے کا فیصلہ کر لیا ۔اس فیصلے کی قبولیت کا اشار ہ ملتے ہی وزیر اعظم عبدالقیوم نیازی نے بیرسٹر سلطان محمود سے ملاقات کی ۔وفاقی وزیر امور کشمیر علی امین گنڈا پور نے بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کی نامزدگی کا با ضابطہ اعلان کیا ۔بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کی خالی ہونے والی نشست پر ان کے بڑے بیٹے یاسر سلطان الیکشن لڑیں گے اور ان کا مقابلہ مسلم لیگ ن کے سابق وزیر چوہدری سعید سے متوقع ہے۔یہ ایک آسان معرکہ نہیں ہوگا۔بیرسٹر سلطان محمود نے اپنے حکومتی کیرئیر کا آغاز ہی1990میں صدر آزادکشمیر کے عہدے کے امیدوار کے طور پر ہی کیا تھا ۔وہ صدر تو نہ بن سکے مگر چند برس بعد آزادکشمیر کے وزیر اعظم بن گئے ۔ 1985میں آزادکشمیر کی سب سے بڑی سیاسی جماعت مسلم کانفرنس نے انتخابی معر کہ سردار عبدالقیوم خان کی شخصیت کی کشش اور محنت کے سائے تلے جیتا ۔سردار سکندر حیات خان مسلم کانفرنس کے صدر تھے اور یوں پارلیمانی روایت کے مطابق سردار سکندر حیات ہی وزیر اعظم بنائے گئے۔وزارت عظمیٰ کے لئے دونوں راہنمائوں کے درمیان اسلام آباد میں طاقت کے مراکز کی راہداریوں میں خاموش اور مختصر سی رسہ کشی تو ہوئی مگر سردار عبدالقیوم خان نے پارلیمانی روایت کے آگے سپر ڈال دی ۔عہدہ ٔ صدارت پر پانچ سال پورے کرنے کے بعد بھی سردار عبدالقیوم خان کا سیاسی اور پارلیمانی کیرئیر ختم نہیں ہوا ۔وہ صدر کے عہدے پر براجمان ہی تھے کہ بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کو ہر ا کر دوبارہ صدر منتخب ہو گئے ۔مسلم کانفرنس کی حکومت بنتے ہی صدر سے دوبارہ وزیر اعظم بن کر نئی سیاسی اننگز کھیلنے میں مگن ہو گئے۔سردار عبدالقیوم خان بھی ایک فل ٹائم سیاست دان تھے جو سیاست کے سوا کسی اور کام پر یقین ہی نہیں رکھتے تھے ۔اس لئے منصب ِصدارت کی جکڑ بندیاں ان کا سیاسی کیرئیر ختم نہ کر سکیں ۔کچھ یہی معاملہ سردار سکندر حیات خان کا تھا۔جو پانچ سال صدر آزادکشمیر رہنے کے بعد2001میںدوسری بار وزیر اعظم بننے میں کامیاب ہو ئے تھے ۔سردار یعقوب خان صدر آزادکشمیر رہنے کے بعد اسمبلی کے دو انتخاب لڑ چکے ہیں اور حالیہ الیکشن میں وہ قانون ساز اسمبلی کے رکن بن چکے ہیں۔ بیرسٹر سلطان محمود کے اندرون اور بیرون ملک ذاتی حلقہ اثر کو خدشہ تھا کہ صدر بن کر ان کا سیاسی کیرئیر ختم ہو کر رہ جائے گا اور خود بھی بیرسٹر سلطان محمود ان خدشات کو وزن دے کر عہدہ صدارت سنبھالنے سے گریزاں تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ سیاست دان کا کیرئیر صرف اس وقت ختم ہوتا ہے جب وہ ذہنی طورپر تھکاوٹ محسوس کرے یا مضمحل قویٰ شاہراہِ زندگی پر مزید ساتھ دینے سے انکاری ہوجائیں۔سیاست ایک پیشہ نہیں عوام کے اندر اور ان سے دوقدم آگے رہنے کا شوق اور جنون ہوتاہے ۔یہ ایک ایسی جادو نگری ہے جو اس میں ایک بار قدم رکھ لے پتھر بن جانے کے خوف سے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھتا ۔وزیر اعظم اور صدر اور کابینہ کے انتخاب کے بعد ڈلیورنس گڈ گورننس اور احتساب پی ٹی آئی کی حکومت کو درپیش چیلنجز ہیں۔دیکھنا یہ ہے کہ ان چیلنجز سے کس طرح عہدہ برا ہوجاتا ہے۔