مشرقیات

یوم آزادی کے موقع پر ہموطنوں کا ہلہ گلہ بجا نوجوانوں کو جشن آزادی اور یوم آزادی کی اہمیت کا کس حد تک علم اور وہ اس حوالے سے کس حد تک سنجیدہ ہیں اس بارے میں کوئی رائے بدگمانی کے زمرے میں آئے گی تاجر اور کاروباری طبقہ کس قدر آزادی کی اہمیت اور اس دن سے آگاہ ہے اس بارے میں بھی کچھ کہنا مناسب نہ ہو گا اس لئے کہ ممکن ہے بابائے مشرقیات کی رائے الگ اور منفی ہو ویسے بھی بابائے مشرقیات تیکھے نظروںاور روایات سے ہٹ کر کام کی شہرت بد رکھتے ہیں اس لئے آزادانہ رائے سے احتراز ہی میں مصلحت ہے ورنہ بھگتنا پڑتا ہے ایسا بھی ممکن نہیں کہ جو برسر زمین حقائق نظر آئیں ان سے صرف نظر کیا جائے یوم آزادی اور جشن آزادی منانے کا جو انداز دکھائی دیتا ہے وہ یہ کہ اس دن کو تاجروں نے کاروبار کا ایک ذریعہ بنا لیا ہے جھنڈے جھنڈے کے لئے لمبے لمبے بانس ‘ جھنڈیاں ‘ سٹیکر کلائی پر باندھنے کے لئے جھنڈے کا بند دیگر خوبصورت ساز و سامان سب روا اور پسندیدہ لیکن آلات شور و غضب لا کر بچوں سے جو شور و غوغا برپا کرایا جاتا ہے اسی کی گنجائش نہیں ہونی چاہتے جس طرح پٹاخہ اور اسلحہ نما کھلونوں پر پابندی لگائی جاتی ہے اسی طرح ان آلات شور و غوغا پربھی پابندی ہونی چاہئے بلاوجہ شور وغوغا کے بغیرہی جشن آزادی باوقارانداز میں منانا احسن ہو گا۔ چودہ اگست کے موقع پر آسمان سر پر اٹھانے کو ہی کیوں آزادی کا جشن گردانا جاتا ہے بچے اس دن سامان شور و غوغا سے حشر بپا کرتے ہیں تو نوجوان موٹر سائیکلوں کے سلنسر ہٹا کر اور گاڑیوں کی بے ہنگم ریس ٹائروں کی چرچراہٹ سے لوگوں کو بے آرام کرکے کیوں آزادی محسوس کرتے ہیں ایسا کرکے ان کو سوائے اپنے برے شوق کی تسکین کے اور کیا حاصل موضوع خشک ہونے لگا ہے بابائے مشرقیات جب بھی ایک سر پھرے قبائلی دوست کے ساتھ کہیں جاتے ہیں تو موصوف غلط ڈرائیونگ سگنل توڑنے اور ٹریفک قوانین کی جان بوجھ کر خلاف ورزی کرنے لگتے ہیں ڈانٹ پر جواب دیتے ہیں اگرمیں ایسا نہ کروں تو کیسے پتہ چلے گا کہ میں ایک آزاد ملک کا آزاد شہری ہوں۔ وطن عزیز میں قانون توڑنا من مانی کرنا ‘ شہری آداب کی عدم پابندی اور اب تو میرا جسم میری مرضی کی آزادی ہی کو آزادی کیوں خیال کیا جاتا ہے ذمہ دارانہ کردار سے کیا آزادی کا اظہار نہیں ہو سکتا آزادی کا جشن ضرور منایئے آزادی کی عظم نعمت مبارک اور بار بار مبارک مگر اس کا استعمال اتنی آزادی سے نہ کریں کہ دوسروں کی آزادی اور سکون غارت ہو اور نہ ہی مادر پدر آزادی مانگیں اب تو ”خپل خاورہ خپل اختیار” والے بھی ڈھولکی بجانے لگے ہیں ان کو بھی اب آزادی کا احساس ہونے لگا ہے پہلے تو وہ خود کو غلام ہی ٹھہراتے رہے ہیں۔