afghan-govt-meeting

طالبان سے مذاکرت کے لئے بااختیار ٹیم بنانے پراتفاق

ویب ڈیسک :افغان صدر اشرف غنی نے قوم سے اپنے پہلے سے ریکارڈ کیے گئے پیغام کے فورا بعد سیاسی اور جہادی رہنمائوں کے ساتھ مشاورتی ملاقات کی جنہوں نے ملک میں مزید عدم استحکام کو روکنے کے لیے ان کے اقدامات کی حمایت کی۔ صدارتی محل کے ذرائع نے بتایا کہ اجلاس کے شرکا نے اسلامی جمہوریہ افغانستان کی نمائندگی کے لیے مذاکرات کے لیے ایک بااختیار ٹیم بنانے پر اتفاق کیا۔ بیان میں ٹیم کو تفویض کی جانے والی ذمہ داری کی نوعیت کی وضاحت نہیں کی گئی تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ جنگ بندی اور عبوری سیٹ اپ کے منصوبوں کو آگے بڑھاتے ہوئے موجودہ صورتحال پر قابو پانے کے عمل کو آگے بڑھا سکتی ہے۔اس اجلاس سے پہلے بااثر افغان سیاسی رہنمائوں کے ایک گروپ نے کئی گھنٹوں تک بند دروازوں کے پیچھے ملاقات کی جس میں چیئرمین عبداللہ عبداللہ نے ملک کی صورتحال ، جنگ بندی اور عبوری حکومت کے قیام کے ممکنہ منصوبے پر تبادلہ خیال کیا۔اس مشاورتی اجلاس میں سابق صدر حامد کرزئی ، سابق نائب صدر اور حزب وحدت اسلامی پارٹی کے سربراہ محمد کریم خلیلی ، جمعیت اسلامی کے سربراہ صلاح الدین ربانی ، صدارتی مشیر محمد محقق ، پارلیمنٹ کے اسپیکر میر رحمان رحمانی ، سابق نائب صدر محمد یونس قانونی ، سید منصور نادری ، حاجی دین محمد ، بابر فرہمند اور وزیر خارجہ محمد حنیف اتمرشامل تھے۔