قومی آزادی

ہماری قومی آزادی اور ہمارا قومی شعور

سال ١٩٧٧ میںجب ایک جمہوری حکومت کا خاتمہ ہوا تو اس کے بعد سے قومی آزادی کے دن جشن منانے کا اہتمام ہونے لگا۔ سرکاری سطح پہ خصوصی تقریبات کا انعقاد ، ہر طرف قومی پرچم لہرانے اور پورے مُلک میں رات کو چراغاں کرنے کاایک ایسا آغاز ہوا کہ اب اہل وطن اس قومی تہوار کواپنا فریضہ سمجھ کر انتہائی تزک و احتشام سے مناتے ہیں۔ مُلک و قوم کی آزادی کسی نعمت سے کم نہیں ہوا کرتی اور پوری دنیا میں لوگ اپنی آزادی کے دن ایک نئے عزم کا اظہار کرتے ہیں۔ہمارے ہاں جس انداز سے آزادی کا جشن منایا جاتا ہے، اس میں مُلکی معاملات سے وابستگی کم اور غل غپاڑہ زیادہ ہوتا ہے۔ اُسی سال ١٩٧٧ کے بعد سے ہماری تمام نصابی کتابوں میں ”نظریہ پاکستان ” کے لفظ نے پہلی بار بڑی اہمیت حاصل کی۔اس سے قبل روزمرہ کی سیاست میں یہ لفظ یا ”نظریاتی سرحدوں کی حفاظت” جیسے فقرے استعمال نہیں ہوتے تھے ۔ اس کے برعکس دو قومی نظریہ پاکستان کی اساس کے طور پر تقریباً ایک صدی پرانی اپنی حقیقی تاریخی جڑیں رکھتا ہے۔ قیامِ پاکستان کی جدو جہد کے دوران اس سوال کی اہمیت پہ غور ہی نہیں کیا گیا کہ نئی ریاست کا ڈھانچہ دین پر مبنی ہوگا، جمہوری ہو گا یا کس نوعیت کا ہوگا۔ ہاں قائد اعظم مسلمانوں کے لیے ایک وطن چاہتے تھے۔ اُنہوں نے قرار دادِ پاکستان کی وضاحت کرتے برملا کہا تھا کہ ہندوستان کے مسلمان ایک الگ قوم ہیں اور اپنے الگ قومی وطن کا حصول اُن کی عوامی جمہوری جدو جہد کا جلی عنوان ہے۔ متحدہ ہندوستانی قومیت کے مقابلہ میں جداگانہ مسلمان قومیت کے اس تصور کو عرفِ عام میں دو قومی نظرئیے کا نام دیا گیا۔
جو قومیں اپنے ماضی اور خاص طور پر اپنی اجتماعی کوتاہیوں کا عقلی معیار پر تجزیہ کر سکتی ہیں ، انہیں زندہ اور خوشحال رہنے کے زیادہ مواقع ملتے ہیں جبکہ وہ قومیں جنہیں اظہار کرنے کی آزادی نہ ہو اور سچائی کے ساتھ اپنا احتساب نہ کر سکیں تو وہ اپنی شناخت کھو دیتی ہیں۔ پاکستانی تاریخ اور قومی آزادی کی از سر نو تالیف کا تعلق حکمران طبقہ کی بدلتی ہوئی ضروریات سے ہے۔ اگر سیاسی مقتدر طبقہ نے شروع ہی سے تعلیم کو بنیادی طور پر جدید خطوط پر استوار کیا ہوتا تو ایک آزاد فکر اور سیاہ و سفید میں تمیز کرنے والی شہریت جنم لے لیتی۔لیکن اس طبقہ کی خود غرض ذہنیت نے سیاسی اور اقتصادی حالات کے پیش نظر قوم کو یہ اقدار اپنانے سے دور رکھا۔ آج قومی آزادی اور مُلکی معاملات کے حوالہ سے نتائج ہمارے سامنے ہیں۔ اسی لیے تو یہ سوالات اُٹھائے جانے لگے ہیں کہ پاکستان کی آئیڈیالوجی کیا ہے اور کہاں ہے؟ قائد کے فرمودات کے مطابق پاکستان کو ایک جمہوری ریاست بنایا جانا تھا جہاں برصغیر کے مسلمانوں کو ایسا ماحول میسر آتا کہ وہ آزادانہ طور پر اپنی زندگیوں کو اسلام کی ان معاشرتی اور ثقافتی اقدار کے سانچے میں ڈھالتے جنہیں وہ بخوبی جانتے اور سمجھتے ہیں۔ افسوس کہ قیامِ پاکستان کے فوراً بعد قائد اعظم وفات پا گئے اور اس وقت تک پاکستان کو اُن کے آئیڈیل کے مطابق جمہوریت اور مساوات کا مُلک نہیں بنایا جا سکا اور نہ ہی ایسے سماجی و سیاسی ادارے وجود میں آ سکے جو اُن رحجانات اور خیالات کی تعبیر و تشریح کرتے۔ اسی باعث سیاسی عمل کے جاری نہ رہنے ، جمہوریت اور مذہب کی ترقی پسندانہ تشریح کرنے والوں کے عوام سے رابطوں کے فقدان نے حکمران طبقے کو ہر حوالہ سے عوام پر ایک جابرانہ طرزِ حکومت مسلط رکھنے کا موقع فراہم کیا۔
یہی وجہ ہے کہ جمہوری رحجانات عوام کے درمیان گہری اور مضبوط جڑیں نہ بنا سکے بلکہ قائد کے قومی نظریہ کے تحت جمہوریت کی عوام میں وسیع پیمانے پر پذیرائی نہ ہو سکی۔ اب یہی دیکھنے میں آتا ہے کہ عوام اپنی آزادی کے دن مِلی نغموں کی دھن میں جھنڈے لہرانے اور موٹر سائیکل پہ بیٹھ کر بگل بجانے میں جشن مناتے ہیں۔ جبکہ ایک غیر محسوس طور پر اپنے قومی شعور سے بیگا نہ ہوتے جا رہے ہیں۔ مشترکہ زبان،تاریخ اور نسلی رشتے والی عوام کا وہ گروہ جو متحد ہو جاتا ہے وہ ایک قوم کا تصور پیدا کرتا ہے، جہاں نظریہ اپنی لازمی افادیت کے ساتھ نہایت اہم بن جاتا ہے۔ یہ قوم کو ایک ہونے کی خود گواہی عطا کرتا ہے۔ پاکستان کا قومی شعور اس خطہ پر تاریخ کی کارفرمائی، ایک عالمگیر مذہب کے ہمہ گیر اثرات اور ایک عرصہ تک یکساں نظامِ حکمرانی سے پیدا ہونے والی اقدار کا مرکب ہے۔ اب ہمارے قومی شعور پر نئے عالمی نظام کی چھاپ گہری ہوتی جارہی ہے۔ ہم آئی ایم ایف اور عالمی بینک کی عملداری کو تسلیم کیے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتے۔ اب ہم غیر جذباتی انداز میں قومی شعور کی اصطلاح میں لفظ قومی پر خاص غور کریںکہ کیا ہم حقیقی معنوں میںقوم اور قومی شعور کی عملداری کو ختم یا اِن تصورات کے تنسیخ کرنے والے اثرات سے بچ سکتے ہیں۔ ممکن ہے کہ ہمارے سیاسی رہنما ، عالمی سیاست کی حاشیہ برداری پر خاموش رہیں اور یہ تاثر دیں کہ وہ خود مختار ہیں لیکن عوام کا قومی شعور اتنا بیدار ہو نا چاہیے کہ وہ سچ اور جھوٹ میں تمیز کر سکیں۔