تعلیم سب کیلئے

تعلیم سب کیلئے، ذرا سوچئے !

فیض الاسلام سکول کو قائم ہوئے ایک سو چھ سال مکمل ہوگئے۔ ضلع مردان کے ایک چھوٹے سے قصبے رستم میں 1915ء میں قائم ہوئے فیض الاسلام سکول نے بلاشبہ آج تک بڑے بڑے نام پیدا کئے ہیں جو مملکت خداداد کیلئے مختلف میدانوں میں اپنے اپنے خدمات سرانجام دیتے چلے آرہے ہیں۔اصولاً اس پرائمری سکول کی عمارت میں آج علی گڑھ یونیورسٹی کی طرح ایک عظیم الشان یونیورسٹی ہونی چاہئے تھی لیکن بد قسمتی سے آج یہ سکول اپنی عظمت رفتہ کے قصے سناتے ہوئے معاشرے کی بے بسی اورحکومت کی بے حسی پر نوحہ کناں ہے۔اس سکول کی ایک عجیب کہانی ہے۔ یہ سکول نہ توپرائیویٹ سیکٹر میں ہے اور نہ ہی سرکار کے زیراثر بلکہ متعلقہ کمیونٹی کے چند افراد ہرماہ چندہ جمع کرکے اس سکول کے بچوں کو مفت تعلیم دلانے کا بیڑا پچھلے ایک صدی سے اپنے سر اٹھائے ہوئے ہیں۔ لیکن آجکل ملک میں بڑھتی مہنگائی کے سبب علاقے کے لوگوں کا قوت برداشت بھی جواب دے رہاہے۔ سکول کے پرنسپل نے ایک ملاقات کے دوران بتایا کہ بیسویں صدی کے اس سکول کی دیواریں اور چھتیں منہدم ہونے کو تھیں اور قریب تھا کہ یہ چھتیں کسی بھی وقت گر تیں لیکن بھلا ہو جاپان کی حکومت کا جنہوں نے اس سکول کی جگہ ایک خوبصورت عمارت تعمیرکرائی۔بنانے والوں نے عمارت تو اچھی بنائی لیکن اب یہ سکول صرف اس وجہ سے بند ہونے کو ہے کہ انتظامیہ کے پاس اس سکول کو چلانے کیلئے پیسے نہیں ہیں۔سکول کے پرنسپل بتاتے ہیں کہ ہزاروں جتن کرنے کے بعد ایلیمنٹری ایجوکیشن فاونڈیشن (ای ای ایف)نے اس سکول کو(Unique Case) سمجھ کر مدد کرنے کی حامی بھری لیکن خدا خدا کرکے ڈیڑھ سال بعد جب یہ کیس بورڈ آف گورنر زکے پاس پہنچا تو صوبے کے ہردلعزیز وزیر تعلیم نے یہ کہہ کر کیس کورد کردیا کہ اس کی حکومت بوجوہ اس سکول کی مالی مدد کرنے سے قاصر ہے۔ وزیر موصوف نے ایک لمحے کیلئے بھی نہیں سوچا کہ ان کے اس انکار پر ڈھائی سو بچوں کا مستقبل تاریک ہوجائے گا۔اور ان غریب مزدوروں کے یہ بچے”تعلیم سب کیلئے” کو حکومت کا ایک نعرہ مستانہ سمجھ کران ڈھائی کروڑ بچوں کی صفوں میں شامل ہوجائیں گے جو اس وقت سکولوں سے باہر ہیں۔” جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے” کے مصداق جب وزیر تعلیم ہی ان بے سہارا بچوں کوتعلیم دلانے سے معذرت کرے تو ہم یہی کہ سکتے ہیں کہ ان بچے بچیوں کا خدا ہی حافظ ہو۔ حیرت کی بات ہے کہ اکیسویں صدی میں جب دنیا سائنس اور ٹیکنا لوجی کے میدان میں نت نئی ایجادات کر کے انسانیت کیلئے زندگی میں آسانیاں پیدا کررہی ہے، وہیں ہمارے ملک کے پچیس ملین بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ یہ بچے جب سکولوں سے باہر ہوتے ہیں تو لامحالہ طرح طرح کے معاشرتی جبر کا شکار ہوجاتے ہیں۔ کہیں یہ بچے بیچ سڑک کے بھیک مانگتے نظر آتے ہیں تو کہیں اینٹوں کے بھٹوں، ورکشاپوں، ہوٹلوں اور ریسٹورانوں میں کام کرتے ہوئے جنسی تشدد کا شکار بن جاتے ہیں۔کہیں یہ پھول سے بچے شہروں کے چوراہوں پر پھول بیچتے نظر آتے ہیں تو کہیں چوروں، لفنگوں اور لٹیروں کے گینگ کا حصہ بن جاتے ہیں۔ اس کا ایک فطری اور منطقی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایک طرف یہ بچے تعلیم سے محروم رہ کر قومی ترقی میں اپنا حصہ نہیں ڈال سکتے تو دوسری طرف انہی بچوں میں اپنے ہم عصر آسودہ حال بچوں کے برعکس احساس کمتری کے ساتھ ساتھ مایوسیوں اور محرومیوں کے ایسے احساسات رچ بس جاتے ہیں جس سے ان کے اندر اپنے ہی ملک اور معاشرے کے خلاف نفرت کے جذبات پروان چڑھتے ہیں۔ طبقاتی نظام تعلیم نے اس ملک کی بنیادی ہلاکر رکھ دی ہیں۔ ایک طرف پرائیویٹ تعلیمی ادارے تجارتی منڈیاں بن چکے ہیں جس میں تعلیم حاصل کرنا کسی غریب کے بس کی بات نہیں تو دوسری طرف سرکاری تعلیمی ادارے ہیں جن کا تو باوا آدم ہی بگڑا ہوا ہے۔ سکول ہے تو ٹیچر نہیں ہے۔کہیں پانی کا مسئلہ تو کہیں بجلی ناپید، کہیں بیٹھے کیلئے معقول انتظام نہیں ہے تو کہیں سکول کی چاردیواری نہیں ہے۔ مدرسے کے بچوں کی اپنی کہانیاں ہیں۔ بحیثیت قوم یہ ہمارے لئے ایک لمحہ فکریہ ہے کہ ایک طرف ناز و نعم سے پلے وہ بچے ہیں جو ایچی سن، لارنس کالج اور بڑے بڑے کیڈٹ کالجوں سے ہو کر آتے ہیں اور دوسری طرف فیض الاسلام جیسے سکولوں کے وہ بچے جنہیں بیٹھنے کیلئے ٹاٹ بھی میسر نہیں ہے۔ اس پر متزاد یہ کہ خود حکومتی ذمہ داران ان کی مالی اور اخلاقی مدد سے انکار کرکے ان کو اپنے پیدائشی حق سے محروم کررہے ہیں۔ کیا ہم ان بچوں سے مستقبل میں اس ملک سے محبت، اس کے عوام سے ہمدردی، ایثار اور قربانی کے جذبے کی امید کرسکتے ہیں۔ کیا ہم ان بچوں سے حب الوطنی کا تقاضاکرسکتے ہیں۔ ہرگز نہیں ! وزیر تعلیم سے بھی بس اتنی سی گزارش ہے کہ خدارا اس ملک کے بچوں پر رحم کھائیں۔ یہ بچے ہمارے ہی ملک کا قیمتی اثاثہ اور ہمارا محفوظ مستقبل ہے۔ان کا آج پاکستان کا روشن کل ہے جو تیرا بھی پاکستان ہے، میرا بھی پاکستان ہے اور ان بچوں کا بھی پاکستان ہے۔پاکستان پائندہ باد۔