امریکی سرکار بڑی غصے میں ہے اسے اپنے پرائے سب نو نقد نہ تیر ہ ادھار سنا رہے ہیں۔چاروںطرف سے ہونے والی اس تنقید کا مسکت جواب اس سے بن نہیں رہا تو تنگ آکر

مشرقیات

امریکی سرکار بڑی غصے میں ہے اسے اپنے پرائے سب نو نقد نہ تیر ہ ادھار سنا رہے ہیں۔چاروںطرف سے ہونے والی اس تنقید کا مسکت جواب اس سے بن نہیں رہا تو تنگ آکر پاکستان میں محفوظ جنتوں کو افغانستان میں اپنی شکست کا ذمہ دار قرار دے کر دامن چھڑا رہا ہے تاہم” دامن کو ذرا دیکھ ذرا بندقبا کو دیکھ ”کہہ کر اسے چھیڑتی دنیا باز نہیں آرہی۔
انگریز بہادر اس کا افغانستا ن میں دکھ سکھ کا ساتھی رہا اس نے کھلے عام اپنے ساتھی کو افغانستان طالبان کے حوالے کرنے کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔یورپی ممالک بھی حیرا ن کم اور پریشان زیادہ ہیں کہ دو عشروں تک وہ افغانستان میں جس جمہوریت کی آبیاری کے لئے تن من دھن لٹاتے رہے وہ صرف دو ہفتوں میں طالبان کی گود میں جا پڑاہے۔
ادھر سوشل میڈیا پر امریکہ کو چوٹ پر چوٹ لگانے والوں کی کمی نہیں ہے ،خو د عام امریکی بھی اپنی سرکار کی دم پر پائوں رکھنے میں سب سے آگے ہیں۔ایک ستم ظریف کے بقول طالبان نے بیس سال کے لئے افغانستان امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو لیز پر دے رکھا تھا۔اس دوران جو شاندار انفراسٹرکچر امریکیوں نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر بنایااسے معمولی سا نقصان پہنچائے بغیر طالبان گشت کرتے ہو ئے کابل کے صدارتی محل میں داخل ہوگئے اور مزے کی بات یہ ہے کہ اس دس روزہ سفر کے دوران افغانستان بھر کے ڈالروں سے بنائے گئے انفراسٹرکچر کو نقصان نہ پہنچانے کا گویا افغانوں میں ایک خاموش معاہدہ ہو گیا تھااس لئے طالبان نیمروز سے سفر کی ابتد کر کے کابل کا عزم لئے چلے تو ان کی راہ میں نہ تواس افغان فوج نے روڑے اٹکائے جسے امریکہ نے اپنے ہی ملک کے شہریوں کے قتل عام کے لئے تعلیم وتربیت ہی نہیں دی کیل کانٹے سے لیس بھی کیا تھااور نہ افغان صدر نے کوئی ایسی مزاحمت دکھائی اور تواور طالبان کے سخت دشمن دوستم بھی کو زندگی میں پہلی بار افغانستان پر پیار آگیا اور وہ مزار شریف کے مز ید قبرستانوں کو آباد کرنے کی بجائے اپنے گھر تک کی چابیاں طالبان کے لئے چھوڑ گئے۔
اب امریکی صدر سر پکڑے بیٹھے ہیں کہ کس طرح امریکیوں کو قائل کیا جائے کو وہ ظفر مند لوٹے ہیں افغانستان سے۔دنیا جائے بھاڑ میں بس امریکیوں کورام کرنا ضروری ہے ،ادھر امریکی بہرحال ہم جیسے تیسری دنیا کے باسی نہیں انہیں گولی دینا آسان نہیں ہے اب تو کھل کر افغانستان میں ہونے والی شکست کا موازنہ ویت نام سے کیا جانے لگاہے۔امریکیوں نے کابل سے اپنے شہریوںکو نکالنے کے لئے ہیلی کاپٹرز کاجس طریقے سے استعمال کیا ہے یہی طریقہ کار ویت نام سے بھی انخلا کے وقت اختیار کیاگیا تھا۔ویت نام کو آج تک امریکی اسی لئے نہیں بھولے کہ یہاں سے ان کی فوج ناکام ہو کر آئی تھی اب افغانستان کی اس شکست کو کہاں بھولیں گے اور ساتھ میں اس شکست کا باعث بننے والے کرداروں پر اپنا غصہ نکالنے کو انکل سام پھنکاررہے ہیں۔ہوشیار باش!