مسئلہ افغانستان

مسئلہ افغانستان، چند حل طلب پہلو

تاریخ نے ایک مرتبہ پھر اپنے آپ کو دہرایا ہے۔ طالبان پچیس سال بعد فاتحانہ انداز میں کابل داخل ہوگئے ہیں۔ اشرف غنی ملک چھوڑ کر فرار ہوگئے ہیں۔ ملک کے شمال میں طالبان کے سخت ترین دشمن عبدالرشید دوستم اور عطا محمد نور ازبکستان فرار ہوگئے ہیں۔ ہرات میں کمانڈر اسماعیل خان پہلے ہی طالبان کے آگے ہتھیا ر ڈال کر تسلیم ہوچکے تھے۔گو کہ طالبان نے اپنے اعلامیے میں کہا ہے کہ مخالفین کو انتقام کا نشانہ نہیں بنا یا جائیگا، املاک کو نقصان نہیں پہنچایا جائے گا ، فوجی جوانوں اور سرکاری افسروں کو گھر جانے کیلئے محفوظ راستہ دیا جائے گا اور بیرون ملک جانے والوں کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی۔ اعلامئے میں مزید کہا گیا ہے کہ عورتوں کے حقوق کا مکمل تحفظ کیا جائے گا اور کسی کو بلا وجہ تنگ نہیں کیا جائے گا لیکن اسکے باوجود ملک میں خوف کا سماں ہے اور یہ فضا اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک انتقال اقتدار کا مرحلہ بحسن و خوبی یایہ تکمیل تک نہیں پہنچ پاتا۔ انتقال اقتدار اور ملک میں امن عامہ کو برقرار رکھنے کیلئے عبوری طور پر سابق صدر حامد کرزئی، گلبدین حکمتیار اور عبداللہ عبداللہ پر مشتمل ایک رابطہ کونسل تشکیل دیا گیا ہے لیکن طالبان نے اس پر ابھی تک اپنا حتمی ردعمل نہیں دیا ہے۔
دوسری طرف طالبان کی اس قدر تیز پیش قدمی اور دارلحکومت کابل میں فاتحانہ انداز میں داخلے پر پوری دنیا انگشت بہ دندان ہے۔خود امریکہ اور اسکے مغربی اتحادی اس بات پر حیرت کا اظہار کررہے ہیں کہ تین لاکھ کے قریب افغان فوجی، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بے سروسامان چند ہزار جنگجووں کے سامنے ڈھیر کیسے ہوگئے۔امریکی اس بات کا بھی رونا رورہے ہیں کہ پچھلے بیس سالوں کے دوران ملک میں کی گئی تقریبا کھرب ڈالر کی سرمایہ کاری کیا رنگ لے آئی۔ خود امریکہ کے اندر سے بائیڈن انتطامیہ پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔بہرحال افغانستان میں تیزی سے بدلتے حالات پاکستان کیلئے بھی ایک لمحہ فکریہ ہے۔ اگر انتقال اقتدار کا مرحلہ بخیر و خوبی پایہ تکمیل تک پہنچ جاتا ہے تو فبہا لیکن اگر اللہ نہ کرے شراکت اقتدار اور وسیع البنیاد حکومت کی تشکیل کے سوال پرطالبان مخالف دھڑے ڈٹ جاتے ہیں اور ملک میں سول وار کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے تو خطے میں بالعموم اور ایک ہمسایہ ملک ہونے کے ناطے پاکستان پر بالخصوص اسکے سنگین اثرات پڑ سکتے ہیں۔ اسی لئے ضرورری ہے کہ ہم افغانستان میں حالات کی سنگینی کا ادراک کرتے ہوئے اپنا ہوم ورک پہلے ہی سے مکمل کریں۔ اس ضمن میں پہلی بات یہ ہے اگر طالبان کابل میں باقی سیاسی، مذہبی اور جہادی گروپوں کو اعتماد میں لئے بنا اپنے تئیں حکومت تشکیل دے دیتی ہیں تو کیا پاکستان کو پہلے کی طرح بلا چوں و چرا اسکو تسلیم کرنا چاہے؟۔ امریکہ کے ساتھ ساتھ کئی مغربی ممالک نے خبردار کیا ہے کہ وہ طالبان کی طرف سے طاقت کے استعمال سے حاصل کئے گئے حکومت کو ہرگزتسلیم نہیں کرینگے۔ جرمنی نے عندیہ دیا ہے کہ وہ افغانستان کیلئے فوجی امداد بند کردینگے۔ لیکن ہمارے لئے چیلنج یہ ہے کہ نہ تو ہم بین الاقوامی برادری کے متفقہ موقف سے انکار کرسکتے ہیں اور نہ ہی اسی قیمت پر کابل پر براجمان اپنے ہمسائے کی مخالفت مول سکتے ہیں۔لہٰذا بڑی سوچ سمجھ کے ساتھ طالبان حکومت کو تسلیم کرنے یا نہ کرنے سے متعلق کوئی فیصلہ کیا جائے۔دوسرا بڑا چیلنج یہ ہے کہ اگر جنگ ہماری سرحدوں تک پھیلا تو لا محالہ دہشت گردی کی ایک نئی لہر ہماری طرف بھی آجانی ہے۔ جس کا سب سے زیادہ اثر نئے ضم شدہ اضلاع میں محسوس کیا جائے گا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے اس حوالے سے کوئی تیاری کی ہے۔ گو کہ پاکستان نے بارڈر منیجمنٹ کے حوالے سے کئی اقدامات کئے ہیں ۔ پاکستان نے بارڈر پر باڑ لگانے کا کام تقریبا مکمل کر لیا ہے لیکن ڈھائی ہزار کلو میٹر سے زیادہ کے سرحد پر دہشت گردوں کی آمد کو روکنا پھر بھی عملا ممکن نہیں ہے۔ ہم نے یہی سوچنا ہے کہ اللہ نہ کرے اگر دہشت گردی کی نئی لہر آجاتی ہے تو ہم نے کاونٹر ٹررزم کے طور پر کیا اقدامات لینے ہیں۔ تیسری اور سب سے اہم سوال یہ ہے کہ جنگ کی صورت میں جو افغان پناہ گزین پاکستان کی طرف رخ کرینگے انکی آباد کاری کے حوالے سے ہماری تیاریاں کیا ہیں۔سرکاری اعداد وشمار کے مطابق پانچ سے سات لاکھ کے قریب افغان مہاجرین کی آمد متوقع ہے لیکن افغانستان کی حالات پر نظر رکھنے والے ماہرین کے مطابق یہ تعداد کئی گنا زیادہ ہوسکتی ہے ۔ایسے حالات میں ایک رائے تو یہ ہے کہ انکو افغانستان کے اندر کیمپوں تک محدود رکھا جائے لیکن دوسری رائے یہ ہے کہ انسانی بنیادوں پر جنگ کے مارے پناہ گزینوں کیلئے اپنے دروازے بند کرنا کسی بھی طرح سے انصاف کا تقاضا نہیں ہے۔ اگر انکو پاکستان کے حدود کے اندر رہنے دیا جاتا ہے تو کیا انکو ایران کے ماڈل پر ایک ہی جگہ پر کیمپوں تک محدود کیا جائے یا کہیں بھی آباد ہونے کیلئے کھلی چھوٹ دے دی جائے ۔