Shazray

قومی مشاورت کا وقت

وزیراعظم کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کے ہنگامی اجلاس میں افغانستان میں سیاسی حل اور عدم مداخلت کے اصول پر قائم رہنے کا اعادہ کیا گیا۔اجلاس کے شرکاء نے اس امر کا اعادہ کیا کہ پاکستان ایک واضح سیاسی حل نکالنے میں سہولت کے لئے عالمی برادری اور افغان اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ کام جاری رکھے گا اور یہ واحد حل ہے جس میں افغانستان کے تمام قبائلی گروپس کی نمائندگی ہو۔ملک کی اپوزیشن کی دو بڑی جماعتیں پاکستان مسلم لیگ (ن)اور پاکستان پیپلزپارٹی نے گزشتہ روز حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ پارلیمان میں افغانستان کی صورت حال پر بریفنگ دی جائے جہاں پالیسی بیان دیا جائے اور جنگ زدہ ملک میں طالبان کے قبضے کے بعد پڑنے والے ممکنہ اثرات سے نمٹنے کے لئے قومی اتفاق رائے پیدا کرے۔شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ بحث کا مرکزی نکتہ قومی اتفاق رائے ہونا چاہئے اور بحث اسی وقت فائدہ مند ہوگی جب حکومت اپنا پالیسی بیان جاری کرے۔ہم سمجھتے ہیں کہ افغانستان کے حوالے سے پاکستان جو پالیسی اشرف غنی کے دور حکومت میں تشکیل دی گئی تھی وہ واضح اور عوامی امنگوں کے عین مطابق ہے اسے جاری رکھنا اور افغانستان کے معاملات سے دوری اور لاتعلقی بہتر ہو گا اگرچہ خیال کیا جاتا ہے کہ پاکستان سے بہتر تعلقات طالبان کی بھی مجبوری ہو گی مگر گزشتہ بیس سالوں کے دوران پاکستان نے جو پالیسیاں اختیار کیں خاص طور پرامریکا کی معاونت کا جو سلسلہ رہا اسی سے طالبان اور پاکستان کے درمیان بھی تعلقات اگر خراب نہیں ہوئے تو مثالی بھی نہیں رہے لیکن بہرحال کسی دوسرے ملک کی بہ نسبت پاکستان اب بھی غیر اہم ملک نہیں جسے طالبان یا پھر امریکا نظر انداز کرسکے بدلتے حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کی پالیسیوں اور آئندہ کی حکمت عملی اور لائحہ عمل کا ایک مرتبہ پھر جائزہ لیکر حالات کے مطابق اس میں تبدیلی لائی جائے اس ضمن میں حکومت کو سیاست سے بالاتر ہو کر حزب اختلاف کی تمام قابل ذکر جماعتوں کی قیادت سے مشاورت کر لینی چاہئے دینی و مذہبی قیادت کو بھی اعتماد میں لینا ضروری ہیتاکہ ابہام اور اختلافات سے مبرا قومی پالیسی تشکیل دی جائے اور اس متفقہ پالیسی پر عمل ہو سکے۔
سکیورٹی اور عوام کی سہولت دونوں ضروری
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کی زیر صدارت امن و امان سے متعلق اہم اجلاس میں صوبے کے سات اضلاع کو حساس قرار دیا گیا سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد شائع کرنے والے عناصر کے خلاف موثر کارروائیاں عمل میں لائی جارہی ہیں ۔افغانستان کی بدلتی صورتحال کے تناظر میں متعلقہ اداروں کو ہمہ وقت مستعد رہنے افغانستان کی صورتحال کا خیبر پختونخوا پر براہ راست اثرباعث احتیاط مسلمہ امر ہے موجودہ صورتحال سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کا تقاضا کرتی ہے اگرچہ گزشتہ چند سالوں سے محرم الحرام میں کئوی بڑا ناخوشگوار واقعہ رونما نہیں ہوا اور من حیث المجموع فضا ساز گاررہنے لگی ہے جس کا بڑا سہراعلمائے کرام کے سرجاتا ہے جو ماحول کو اعتدال میں رکھنے میں اپنا کردار اداکرتے ہیں ۔ خیبر پختونخوا میں محرم الحرام کے ایام میں ادارہ تبلیغ الاسلام کا صوبائی دارالحکومت میں متحرک ہونا اور اتحاد بین المسلمین و فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے قیام اور انتظامیہ سے تعاون کا کردار خاص طور پر قابل ذکر ہے اس کے باوجود محرم الحرام میں امن و امان کی صورتحال اور سکیورٹی کے انتظامات سے غفلت برتنے کی گنجائش نہیں دیگر ذرائع سے ناکامی کے بعد سوشل میڈیا میں جو زہر اگلا جا رہا ہے فسادات کروانے کو وہی کافی ہے مستزاد افغانستان کی صورتحال کے تناظر میں ملک میں فرقہ وارانہ تصادم کی کوئی غیر ملکی سازش بعید از امکان نہیں اس حوالے سے عوام کو آگاہی ذاکرین اور خطیب حضرات سے خاص طور پر تعاون کا حصول ناگزیر ہے محرم الحرام کے حوالے سے سخت حفاظتی اقدامات ہر سال ہوتے ہیں اصل کوشش اتحاد بین المسلمین کی ہونی چاہئے تاکہ شرپسند کسی اور جامے میں فسادات اور حالات خراب کرنے میں کامیاب نہ ہوں اہم مذہبی شخصیات اور جلوسوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے البتہ سیکورٹی کے نام پر عوام کو بلاوجہ تکلیف دینے کا جو تکلیف دہ عمل ہر سال سامنے آتا ہے اس کی نوبت نہ آئے سکیورٹی اور عوام کی سہولت دونوں ہی ضروری ہیں۔
کالجوں کی نجکاری کا منصوبہ
سرکاری کالجز کی نجکاری اوربی او جی کو ایک ظالمانہ اقدام قرار دے کر غریب لوگوں پر تعلیم کے دروازے بند ہونے کا تاثر کس حد تک مبالغہ ہے اور کس حد تک حقیقت اس سے قطع نظر مروجہ نظام میں اصلاحات کی بجائے اس طرح کے فیصلوں کے نتائج عوام کے مفاد کے برعکس ہی ثابت ہوتے رہے ہیں پروفیسرز ایسوسی ایشن کی جانب سے اس امر کا اظہار سامنے آیا ہے کہ حکومت بی او جی کے نام پر سرکاری اداروں کی نجکاری کررہی ہے جس سے براہ راست غریب طلباء جو اب فری تعلیم حاصل کررہے ہیںبھاری بھرکم فیسوں سے تعلیم حاصل کریں گے یہ فیسیں ادا کرنا ممکن نہیںابتدا میں بی او جی کو گورنمنٹ کالج جہانزیب سوات میں نافذ کیا جارہاہے جو بعد ازاں تمام سرکاری اداروں پر لاگو ہوگامتوسط طبقہ ویسے بھی پیٹ کاٹ کر اپنے بچوں کو نجی تعلیمی اداروں میں پڑھانے پر پہلے ہی مجبور ہے جبکہ عام افراد بامر مجبوری و سرکاری تعلیمی اداروں میں بچوں کو پڑھانے پرمجبور ہیں جس صورتحال کی اساتذہ نے نشاندہی کی ہے اور جن خدشات کا اظہار کیا ہے اس کے بعد تو تعلیمی اداروں کے عام آدمی کے بچوں کے لئے دروازے بند ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے ہسپتالوں میں اس طرح کے تجربے کے بدترین نتائج کسی سے پوشیدہ نہیں اس لئے سرکاری تعلیمی اداروں میں اصلاحات لائی جائیںجامعات کی فیسوں میں کمی لائی جائے نہ کہ سرکاری تعلیمی اداروں کی نجکاری کی جائے اور ان کو کاروباری مرکز میں تبدیل کرکے تعلیم کو عام آدمی کے بچوں کی پہنچ سے دور کیا جائے۔