Idhariya

اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

آج ملک بھر میں حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یوم شہادت انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ عاشورہ محرم ہمیں جہاں ایک طرف حضرت امام حسیناور ان کے جانثار ساتھیوں کی عظیم قربانی کی یاد دلاتا ہے وہاں ہمیں یہ درس بھی دیتا ہے کہ دنیا میں جہاں کہیں بھی سچ' جھوٹ' نیکی اور بدی' خیر و شر اور حق و باطل کے درمیان معرکہ آرائی ہوتی ہے وہاں بالآخر فتح حق و سچ' نیکی اور صداقت کی ہوتی ہے اور بظاہر کامیابی کے باوجود شکست ہمیشہ برائی اور طاغوتی قوتوں ہی کا مقدر ٹھہرتی ہے۔ تاریخ کے اوراق ایسے ابواب سے بھرے پڑے ہیں جہاں برائی کی قوتیں اچھائی کی طاقت کے بالمقابل آکر اس سے نبرد آزما ہوجاتی ہیں۔ کبھی تیرگی روشنی کے سامنے' کبھی آمریت جمہوریت کے آگے اور کبھی بربریت انسانیت کے بالمقابل، اس طرح کے معرکوں میں کبھی کبھی یوں محسوس ہوتاہے کہ شاید برائی کی نمائندگی کرنے والی قوتیں وقتی طور پر غالب آگئی ہیں لیکن تاریخ کی گواہی یہی ہے کہ دنیا میں اگر کسی شے کو دوام اور ثبات حاصل ہے تو وہ نیکی اور اچھائی کی حامل قوتوں کو ہے۔ آج شہر شہر اور نگر نگر چھوٹی بڑی امام بارگاہوں اور مساجد سے بلند ہونے والی درود و سلام کی صدائیں راہ حق میں قربان ہونے والے حسینی قافلہ کی جرأت اور عظمت کی گواہی دیتی ہیں۔ بھوک اور پیاس کی شدت سے نڈھال کربلا کے میدان میں سر کٹانے والے شہید آج بھی دنیا بھر میں حق اور سچ کا علم بلند کرنے والوں کو ہمت اور حوصلہ عطاء کرتے ہیں۔ باطل اور مکر وریا کی قوتیںآ ج بھی نعرہ حسینی سے تھر تھراتی ہیں۔ وہ سحر جس سے شبستانی وجود بری طرح لرزتا ہے آج بھی بندہ مومن کی اذان سے پیدا ہوتی ہے۔ اسلامی تاریخ میں داستان حرم کی تمام تر دلکشی اور سادگی جس کی ابتداء حضرت اسماعیل علیہ السلام سے ہوئی اسے اپنی ممکنہ بلندیوں اور انتہائوں تک پہنچانے والے سید الشہداء حضرت امام حسین ہی تھے۔ دنیا میں جہاں کبھی جبر و استبداد' استحصال اور مطلق العنانیت سے تنگ آئے ہوئے افتادگان خاک حریت کا علم بلند کرتے ہیں تو ان کے ڈگمگاتے قدموں کو امام حسین کے پائے استقامت سے حوصلہ ملتا ہے۔ پسماندہ او رغریب ملکوں میں ابھرنے والی آزادی کی تحریکیں اگر انتشار کا شکار ہو کرٹوٹنے پھوٹنے لگیں تو کربلا کے شہیدوں کی دکھائی اور سکھائی ہوئی یکجہتی اور اتحاد ان تحریکوں کی شیرازہ بندی کرتاہے۔ حضرت امام حسین عالم اسلام کے لئے عزم و وقار کے پیکر ہیں۔ قمری سال کے پہلے اسلامی مہینے یعنی محرم الحرام کی دسویں تاریخ کو اہل عقیدت اپنے اپنے انداز میں اس عظیم بطل حریت کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ ایمان سے لبریز سینوں والے فرزندان توحید ان کی عظمت کو تا ابد سلام پیش کرتے رہیںگے جو نوک سنان پر کلام الٰہی کی تلاوت کرتا رہا۔ ہر سال جب بھی محرم آتاہے تو کائنات خون حسین سے ایک بار پھر معطر ہو اٹھتی ہے۔ شہادت امام حسین پوری ملت اسلامیہ کو ایک تسبیح میں دانوں کی طرح پرودیتی ہے۔ محرم الحرام کے پورے تیس دن اس اتحاد کو مزید قوت اور توانائی بخشتے ہیں۔ امت مسلمہ کاہر فرد اخوت اور یگانگت کا پیامبر دکھائی دیتاہے۔ بے یقینی' یاسیت اور اضمحلال کے سائے دور ہو جاتے ہیں اور زندگی میں مقصدیت اور دھرتی سے بندھے رہنے کاجذبہ پیداہو جاتا ہے۔ ہمالیہ کو پھلانگ جانے اور بحر الکاہل کو ایک جست میں پار کرلینے کا جذبہ لے کر انسانی زیست اپنے سفر پر ایک نئے عزم اور ولولے کے ساتھ پھر سے گامزن ہو جاتی ہے۔ ایک نئی زندگی پاکر دین اسلام تمام تر تابندگی کے ساتھ اپنے پیروکاروں کی رگوں میں خون بن کر دوڑنے لگتا ہے۔ کربلا میں عظیم قربانی جس ہستی نے دی ہے اس کی تقلید کرنے والوں پر لازم ہے کہ وہ سطحی قسم کے کردار کی جگہ پر حق و باطل کی لڑائی میں پیروکاران حق کے ہاتھ مضبوط کریں۔ یہی وقت اور حالات کا تقاضا بھی ہے ' عین دین بھی ہے اور درس کربلا کا تقاضا بھی۔ اسلامی تاریخ کامطالعہ کریں تو عاشورہ صرف غم حسین اور یاد کربلا سے عبارت نہیں بلکہ اس دن کی اہمیت کی اور وجوہ بھی ہیں ان کا بھی پورا پورا خیال رکھنے کی ضرورت ہے۔اس موقع پر اس امر پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کہ حق و سچ ہی کو فتح حاصل ہوتی ہے۔ باطل کو شکست ہونا ہی ہوتا ہے۔ کربلا کے میدان میں شہداء کی اخروی کامیابی اور جیت میں تو کوئی شک نہیں لیکن دنیاوی طور پر بھی دیکھیں تو آج بھی ان کا نام اور کردار نہ صرف زندہ ہے بلکہ وہ رہتی دنیا تک کے لئے مثال اور حق و صداقت کا علم بلند کرنے والوں کے لئے عزم و ہمت اور حوصلے کا استعارہ بن چکے ہیں۔ حق کی آمد ہوتی ہے تو باطل مٹ جاتا ہے۔ انسان کو ہمیشہ حق اور سچ کا ہی ساتھی بننا چاہئے او ر حق و صداقت پر کھڑے رہنے کا حوصلہ اپنے اندر پیدا کرنا چاہئے'۔