Shazray

فرسودہ نظام’ مسائل کا حل اور تبدیلی

مہنگائی، غربت اور بیروزگاری سے آبادی کی وسیع اکثریت سخت متاثر ہو رہی ہے۔ اشیائے خورد و نوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ ادویات بیماروں کی پہنچ سے دور ہوتی جاتی ہیں۔ بجلی و گیس کے نرخ ہر روز بڑھ رہے ہیں۔ یہی حال پٹرولیم مصنوعات کا ہے۔معیشت کی حالت میں بہتری کا کوئی امکان موجود نہیں ہے۔ اس بات کو سرمایہ داری کے اپنے ماہرین تسلیم کر رہے ہیں۔اس معاشی کھنڈر کی بنیاد پر کھڑا یہ پورا نظام لڑکھڑا رہا ہے۔ ہر ادارہ بحران کا شکار ہے۔ یہ ایک ابھرتے ہوئے نظام کانہیں بلکہ اس سے ڈوبتے ہوئے نظام کی نشاندہی ہوتی ہے اس جمہوریت کی پارلیمان آمریتوں سے بھی گئی گزری اور بے اختیار ہے۔ پارلیمان کیا ہے اشرافیہ کا ایک ڈسکشن کلب ہے جس میں ہونے والی زیادہ تر بحثوں کا عوام کے مسائل سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ اپوزیشن کا یہ حال ہے کہ اکثریت میں ہونے کے باوجود ہر ووٹنگ میں ہار جاتی ہے۔ ڈوریاں ہلانے والے اپنی منشا کے بِل بھی پاس کروا رہے ہیں اور قوانین بھی بنوا رہے ہیں۔یہ کیفیت واضح کرتی ہے کہ یہ سیاسی اشرافیہ اندر سے کس قدر مطیع ہے جو اس وقت اپوزیشن میں ہیں ان کے اپنے حکومتی ادوار میں بھی عوام کی حالت آج سے مختلف نہیں رہی ہے۔ حکمرانوں کی ان لڑائیوں میں محنت کش عوام کے مسائل کا حل قطعا موجود نہیں ہے۔ اس نظام کے قیام اور دوام کے معاملے میں حکمرانوں کے سب دھڑے متحد ہیں۔ حکومت اور اپوزیشن کا معاشی پروگرام ایک ہی ہے۔ مہنگائی، بیروزگاری، بھوک اور غربت کا کوئی حل نہ حکومت کے پاس ہے نہ ہی اپوزیشن کے پاس۔ لیکن نظام کی حالت یہ ہے کہ اس میں معمولی سی اصلاحات کی کوشش بھی کی جاتی ہے تو سارا ڈھانچہ ٹوٹ کے بکھرنے لگتا ہے۔ استحکام کہیں نہیں ہے۔ان تمام مسائل و معاملات کے تناظر میں نظام کی تبدیلی اور حقیقی انسانی فلاحی نظام کا قیام ہی مسائل کا حل ہے یہ نظام انسانوں کو ہانک کر اسی فطری نظام کی طرف لے جارہی ہے جس میں انسانیت کی بقاء کا راز پوشیدہ ہے۔جب تک نظام کی تبدیلی اور حقیقی فلاحی نظام کے قیام اور نفاذ کی طرف پیش رفت نہیں ہو گی حکومت میں جوبھی آئے اور جتن جتنے بھی ہوں عوام کے مسائل میں کمی کی بجائے اضافہ ہی ہو گا۔
کالجوں کی کم تعداد اور داخلوں کا مسئلہ
حسب سابق اس سال بھی دو لاکھ سے زائد طلبہ میٹرک کا امتحان دے چکے ہیں اور کالجوں میںداخلے اور پڑھائی کا آغاز ہونے والا ہے ہر سال کی طرح اس سال بھی لاکھوں طلبہ کو کالجوں میں داخلوں کا مسئلہ درپیش ہو گا۔صوبائی دارالحکومت پشاور میں کالجوں کی تعداد نہایت کم اور طلبہ کی تعداد لاکھوں میں ہے نئے کالجوں کی عدم تعمیر اور سیکنڈ شفٹ کی کلاسیں نہ ہونے کے باعث لاکھ سے زائد طلبہ کا داخلوں سے محروم رہ جانا اور مجبوراً مہنگے نجی کالجوں میں داخلہ لینا مجبوری بن جاتی ہے اس سال بھی صورتحال گزشتہ سالوں سے مختلف نہ ہوگی۔صوبائی دارالحکومت پشاورمیں میٹرک امتحان دینے والے طلبہ کی تعداد دولاکھ سے زائد بتائی جاتی ہے، اتنے بڑے پیمانے پر طلبہ کو سرکاری کالجوں میں داخلہ ملنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ سرکاری کالجوں نے میرٹ بھی بہت زیادہ مقرر کر رکھاہوتا ہے، حیرت کی بات یہ ہے کہ بعض بورڈز میں نمایاں نمبر لینے والے طالب علم بھی معروف کالجوں میں داخلے سے محروم رہ گئے، صوبائی دارالحکومت پشاور کے کالجوں میں دیگر اضلاع کے آنے والے طالب علموں کو داخلے سے مقامی طلبہ کے داخلوں سے محروم رہ جانے کا مسئلہ تو پرانا ہے لیکن امسال صورتحال زیادہ سنگین نظر آتی ہے۔ کالجوں میں نشستوں کی تعداد محدود ہونے سے ہزاروں طلبہ کا کسی بھی سرکاری کالج اور تعلیمی ادارے میں داخلہ ملنا مشکل امر ہے اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے جہاں کالجوں کی تعداد میں اضافہ اور کالجوں میں دوسری شفٹ شروع کرنے کی ضرورت ہے پشاور میں خاص طور پر کالجوں کی تعداد میں اضافہ ناگزیر ہے ۔
آلودگی میں کمی لانے کیلئے مزید اقدامات کی ضرورت
ماحولیاتی تحفظ ایجنسی ( ای پی اے) کی آلودگی پر قابو پانے، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے کے لئے جتنے بھی اقدامات ہورہے ہیں اس کے مقابلے میں بڑھی آبادی اور ٹریفک میں اضافہ کے باعث ہر منصوبہ بندی ناکمل اور آلودگی کا جادو سر چڑھ ولنے لگابنا بریں سنگین ہوتے اس مسئلے پر قابو پانے کیلئے حکومتی وغیر حکومتی اور عوامی سطح پر مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔ صنعتی آلودگی پر قابو پانے کیلئے حکومت کی جانب سے بیگ فلٹر ٹیکنالوجی، سیمنٹ کی80فیصد صنعت کی اس ٹیکنالوجی میں تبدیلی، سٹیل انڈسٹری کی آلودگی پر قابو پانے کا نظام اور زیزاگ ٹیکنالوجی اینٹ بھٹیوں میں متعارف کروانا اہم اقدامات ہیں جس سے پشاور میں فضائی آلودگی پر قابو پایا جا سکے گا۔لیکن جن اقدامات کا دعویٰ کیا جاتا ہے وہ اقدامات اس طرح سے عملی طور پر نظر انداز نہیں آتے جو قابل توجہ امر ہے۔یہ اقدامات اپنی جگہ ان کے اثرات کے سامنے آنے کے بعد ہی ماحولیاتی صورتحال میں بہتری کی توقع ہے۔صوبائی حکومت نے پلاسٹک کے تھیلوں کے خاتمے کیلئے جن اقدامات کا اعلان کیا تھا اس میں حکومت کو کامیابی نہ ملنے اور عوام وتاجروں کے عدم تعاون کے باعث جس قسم کی صورتحال ہے آلودگی پر قابو پانے کیلئے اس پر توجہ کی ضرورت ہے۔