فرد اور ریاست کا رشتہ

فرد اور ریاست کا رشتہ بہت پیچیدہ ہے جس پر علم سیاسیات کے ماہرین مختلف آرا پیش کرتے آئے ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو اس رشتے کی تین ممکنہ صورتیں پائی جاتی ہیں۔
پہلی صورت یہ ہے کہ ریاست اپنے شہریوں کے جان و مال کی حفاظت یقینی بنائے، انہیں انصاف فراہم کرے، بنیادی ضروریات زندگی تک ان کی رسائی ممکن بنائے اور میرٹ کا کلچر قائم کرے تاکہ صلاحیت رکھنے والے افراد کے لیے آگے بڑھنا ممکن ہو سکے۔اس کے جواب میں فرد بھی ریاست کی جانب سے عائد کردہ پابندیوں کا احترام کرے اور اپنی آزادی کے کچھ پہلوؤں کو ترک کر دے۔ فرد کی آزادی کے مختلف مدارج ہیں جو ریاستوں کے حساب سے بدلتے رہتے ہیں مگر بنیادی فلسفہ کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر قائم رہتا ہے۔
ان ریاستوں نے اداروں کے ذریعے عام لوگوں کے مسائل حل کرنا اپنی ترجیح بنایا۔ میرٹ کی بنیاد پر اداروں کو مضبوط کیا اور ان پر چیک اینڈ بیلنس رکھا۔
یہ ماڈل مغرب کی فلاحی ریاستوں اور چین میں رائج ہے۔ اگرچہ مغربی ریاستوں میں فرد کو چینی ماڈل کے مقابلے میں زیادہ آزادی حاصل ہے تاہم فرد اور ریاست کے مابین رشتے کی بنیادیں ایک جیسی ہیں۔ جزئیات میں ضرور فرق پڑ جاتا ہے۔
فرد اور ریاست کے رشتے کی دوسری صورت جبر پر قائم ہے جس میں فرد رضاکارانہ طور پر ریاست کے ساتھ نہیں جڑا رہتا بلکہ اسے جوڑے رکھنے کے لیے خوف کا ہتھیار استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کی مختلف صورتیں ہیں جن میں فوجی آمریت، بادشاہت یا پھر کسی ایک قبیلے کی حکومت شامل ہیں۔
یہ رشتہ ان معاشروں میں قائم ہوتا ہے جہاں ادارے کمزور ہوتے ہیں اور وہ نہ ہی عوام کو احساس تحفظ فراہم نہیں کر سکتے اور نہ ہی ان کی بنیادی ضروریات پوری کر سکتے ہیں۔ نتیجتاً ایک خلا پیدا ہوتا ہے جس پر کرنے کے لئے کوئی دوسری قوت میدان میں اترتی ہے۔ اگر ملک میں طاقتور فوج موجود ہو تو اس خلا کو وہ پر کرتی ہیاور ملک پرفوجی آمریت مسلط ہو جاتی ہے۔ اگر ایک قبیلے کے پاس طاقت ہو تو وہ ریاست پر قابض ہو جاتا ہے یا پھر بادشاہت کے وراثتی نظام کے تحت حق حکمرانی طے ہوتا ہے۔
چونکہ کمزور ریاستی ادارے فرد کوایسا کچھ نہیں دے پاتے جو اسے رضاکارانہ طور پر ریاست سے جڑ جانے پر راغب کر سکے، اس لیے جبر کا رستہ اختیار کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں فوجی ادوار، صدام حسین کا عراق، طالبان کی پہلی حکومت موجودہ مصر اور کرنل قذافی کا لیبیا اس کی کلاسیکل مثالیں ہیں۔
یہ دونوں صورتیں ہمیشہ ایک جیسی نہیں رہتیں۔ ایک فلاحی ریاست کسی وجہ سے اس قابل نہیں رہتی کہ وہ شہریوں کو سہولتیں فراہم کر سکے جس کے نتیجے میں وہ خوف پر قائم ریاست میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ اسی طرح جبر پر قائم ریاست اگر شہریوں کی فلاح میں کامیاب ہو جائے تو وہ پہلے ماڈل میں شامل ریاستوں کی فہرست میں شامل ہو جاتی ہے۔
تیسری صورت یہ ہے کہ ریاست کے پاس نہ ہی مضبوط ادارے ہوں اور نہ ہی طاقتور فوج۔ ان حالات میں خلا پیدا ہوتا ہے جسے پر کرنے کے بجائے معاشرہ گروہوں میں تقسیم ہو جاتا ہے۔ ہر جتھا زیادہ سے زیادہ وسائل پر قبضہ کرنے کی کوشش کرتا ہے جس کے نتیجے میں خانہ جنگی جنم لیتی ہے۔ ریاست نہ صرف بے بسی سے سب کچھ دیکھتی رہتی ہے بلکہ بسا اوقات ان جتھوں کے ہاتھوں یرغمال بن جاتی ہے۔ لیبیا اور افغانستان اس کی کلاسیکل مثالیں ہیں۔ صدام حسین کی حکومت کے خاتمے کے بعد عراق بھی اسی صورتحال سے گزرا تھا۔
پاکستان میں جب بھی سول بالادستی کی بات ہوتی ہے، وہاں یہ بنیادی نکتہ نظر انداز کر دیا جاتا ہے کہ اس کا واحد رستہ سویلین اداروں کی مضبوطی ہے۔ فوج کو کمزور کرنا ایک خطرناک سوچ ہے جو پاکستان کو افغانستان یا لیبیا بنا سکتا ہے۔ ہمارے پاس اداروں کی مضبوطی کے سوا کوئی رستہ نہیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ جمہوری حکومتوں پر دباؤ بڑھایا جائے تاکہ وہ اس پرفارمنس کی طرف جائیں جو اداروں کی مضبوطی سے جنم لیتی ہے۔
اگرعام آدمی کا کوئی کام بغیر رشوت کے نہ ہو سکے، ریاست کے تمام وسائل اشرافیہ کو فائدہ پہنچانے پر صرف ہوں، عدالتی نظام مفلوج ہو چکا ہو، صحافت انفارمیشن کے بجائے پراپیگنڈہ بن جائے اور تعلیم کی جگہ میٹرو حکمرانوں کی ترجیح ہو، تو ملک میں ایک خلا پیدا ہونا ایک امر لازم ہے۔ اسے پر کرنے کے لئے معاشرے میں گروہی نفسیات پروان چڑھے گی۔
اس صورتحال کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ ڈاکٹراپنے مفاد کے لیے مریضوں کو مرتا چھوڑ دیں گے۔ پی آئی اے کا عملہ احتجاج کے طور پر جہازوں کی آمدورفت معطل کر دے گا، وکلا اپنے تحفظ کے لیے قانون ہاتھ میں لے لیں گے اور مذہبی گروہ ریاست کو بلیک میل کرتے رہیں گے۔