عاشور’ تلوار پر خون کی فتح

انقلاب پیغمبر اسلام خاتم النبین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تحفظ اور اصلاح اُمت کیلئے ریگزار کربلا میں اترے محبوبان خدا کے قافلہ سالار حضرت امام حسین فرماتے ہیں ”لوگو! تمہیں کیا ہوگیا، یہ جانتے ہوئے بھی کہ نظام عدل پارہ پارہ ہوچکا، قبائلی تعصبات کا دور پھر پلٹ آیا ہے، زیردست طبقات کی دادرسی کرنے والا کوئی نہیں، فسق وفجور دن بدن بڑھتے جا رہے ہیں اور تم حق کا ساتھ دینے کی بجائے تلواریں سونتے میرے قتل کے درپے ہو؟ یاد رکھو! شہادت وہ نعمت ہے جس سے ہمارے خاندان نے کبھی منہ نہیں موڑا، شہید کی ابدی زندگی کا وعدہ اللہ رب العزت کا ہے وہی لائق عبادت واطاعت ہے۔ میرے نانا حضرت محمدۖ اللہ کے رسول اور انسانیت کے مسیحا’ نجات دہندہ اور رہبر کامل ہیں۔ حصول اقتدار میرا مقصد تھا نہ ہے، میں اپنے نانا کا دین بچانے اور تم لوگوں کی اصلاح کیلئے گھر سے نکلا ہوں، جنگ کے آغاز سے اب تک تم میرے احباب وانصار’ بھانجوں بھتیجوں’ بیٹوں اور دوسرے ساتھیوں کے خون سے تم اپنے ہاتھ رنگ چکے، اس ظلم وبربریت کے باوجود میں تمہیں نجات وہدایت کا پیغام دیتا ہوں۔ لوگو! گمراہی’ عہد شکنی اور دنیا طلبی سے منہ موڑ کر رسول اللہ کی تعلیمات پر عمل کرو، دنیا کی محبت انسان کو حق بندگی ادا کرنے سے روک دیتی ہے۔ یاد رکھنا! میں نے اپنا فرض ادا کر دیا، کل بروز قیامت تم یہ نہیں کہہ سکو گے ہم نہیں جانتے تھے کہ مقتولین کون تھے”۔ کربلا مسلم تاریخ کا ایک ایسا المناک باب ہے جو پڑھنے سمجھنے والوں کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے کہ آخر کیا وجہ تھی اُمت کا ہی ایک طبقہ تلواریں’ نیزے’ بھالے اور تیرکمان سنبھالے اپنے ہی رسول معظمۖ کے خانوادے کے قتل کے درپے تھا؟ اس سوال کا سادہ سا جواب خود امام حسین کے ان خطبات میں موجود ہے جو آپ نے مدینہ سے رخصت کے وقت عزیز واقارب اور بعدازاں مکہ اور دوسرے مقامات کیساتھ 2محرم سے عصرعاشور تک کربلا میں دئیے۔ انقلاب محمدۖ جس کی بدولت زیردستوں کو استحصالی نظام سے نجات ملی، بت پرستوں تک پیغام توحید پہنچا’ غلاموں کو آزادی کی نوید ہوئی اور بت کدوں میں اعلانیہ کلمة الحق گونجنے لگا۔ امام حسین مدینہ سے رخصت ہوتے وقت فرماتے ہیں، میرے عزیزو! نانا جانۖ کی تربیت اور سنت کی ادائیگی کا وقت آن پہنچا، طمع کے گھاٹ پر ہانک کر لے جائی گئی اُمت کو دعوت تجدید حق دینا میرا فرض ہے، میرے لئے یہ ممکن نہیں کہ ان حالات میں ہاتھ پر ہاتھ دھرے اپنے گھر میں بیٹھا رہوں، جب دکھائی دے رہا ہو کہ اسلامی تعلیمات اور ارشادات نبویۖ کو مسخ کیا جا رہا ہے۔ مدینہ سے رخصت ہونے لگے تو آپ کے برادر خورد محمد ابن حنیفہ اور برادر نسبتی جناب عبداللہ بن جعفر طیار نے مشورہ دیا کہ آپ یمن تشریف لے جائیں جہاں مشکل وقت میں نصرت کرنے والے بھی موجود ہیں۔ جواباً امام نے ارشاد فرمایا ”جس کی نگاہ نصرت ایزدی پر ہو وہ بندوں کا محتاج نہیں ہوتا، میرا کام اپنے نانا جانۖ کی سنتوں کو تازہ کرنا اور اُمت کو یہ سمجھانا ہے کہ جس راہ پر وہ گامزن ہے یہ تباہی کا راستہ ہے، جنگ میرا مقصد نہیں”۔ بلاد عرب میں انقلاب محمدۖ سے قبل کے حالات اور نظام زندگی ہر دو بارے کاملاً آگاہ لوگ اس امر کو بخوبی سمجھتے ہیں کہ نصرت رسول اکرمۖ کی دعوت اور اس کے نتیجے میں برپا ہونے والے انقلاب نے استعماری فہم ورویوں کو پاش پاش کرکے رکھ دیا تھا۔ اعلان رسالتۖ’ دعوت وارشاد’ ہجرت اور پھر قیام مدینہ کے دوران سرکار دوعالمۖ نے شرک وگمراہی میں گردن تک دھنسے سماج کو نہ صرف شرک وگمراہی بلکہ جبر واستبداد سے نجات دلا کر نعمتوں اور رفعتوں سے سرفراز کیا۔ خلافت راشدہ کی جگہ قائم ہوئی ملوکیت کے طور طریقوں سے پیدا ہونے والے بگاڑ کو اگر امام حسین روکنے کیلئے میدان عمل میں نہ اُترتے تو کچھ بعید نہیں تھا کہ ایک بار پھر وہ حالات’ نظام اور استحصالی ہتھکنڈے انسانیت کے گلے کا طوق بن جاتے جن سے رسول اکرمۖ اور آپ کے پُرعزم رفقائے کار نے 23 سال کی جدوجہد کے بعد انسانیت کو نجات دلائی تھی۔ عصرعاشور سے قبل میدان کربلا میں عدو کے لشکر کے سامنے اتمام حجت فرماتے ہوئے حضرت امام حسین ارشاد فرماتے ہیں۔ ”لوگو! کیوں میرے خون ناحق کو بہا کر دائمی عذاب کو دعوت دیتے ہو، کیا تم مجھے نہیں جانتے۔ میں حسین ہوں’ حسین ابن علی’ ہادی اکبر حضرت محمدۖ کا نواسہ’ ان کی پیاری صاحبزادی کا لخت جگر’ لوگو! میرا مقصد حیات اقتدار حاصل کرنا تھا نہ ہے۔ اقتدار حقیرتر چیز ہے، میرا مقصد اصلاح اُمت ہے، طمع کے گھاٹ پر اُتر چکے لوگوں کو حوض کوثر کی طرف پلٹنا اور اس امر کی دعوت دینا کہ جو وعدے وعید اسلام اور عمل صالح بجا لانے کیلئے رسول اکرمۖ سے کئے گئے تھے وہ تمہیں یاد کراؤں، اُمت کی اصلاح اور شجر اسلام کی آبیاری ہی میرا مقصد حیات ہے، اس وقت جب میرے احباب وانصار’ پیاروں اور ساتھیوں کے لاشے گنج شہیداں میں رکھے ہیں مجھے موت کاخوف لاحق نہیں بلکہ اس بات کا خوف ہے کہ تم آج ہماری گردنیں کاٹنے میں سبقت لے جانے کو وفاداری کا اظہار سمجھ رہے ہو لیکن کل تم ایک دوسرے کی گردنیں مار رہے ہوں گے’ لوگو! حسین’ اپنا فرض ادا کر چکا، میں اپنے رب کی رضا پر راضی ہوں، اُمت پر حق آشکار ہو کر رہے گا، ہمارا خون تمہاری تلواروں پر فتح حاصل کریگا”۔