جنریشن گیپ

کل سے ذہن اس بحث میں الجھا ہوا ہے کہ وہ معاملہ جسے جنریشن گیپ (Generation Gap)کا نام دیاجاتا ہے ، وہ اصل میں کیا ہے۔ انسان تو اس دنیا میں زندگی میں اور وقت کے دائروں میں گھوم رہا ہے۔ پہلے اس کے حوالے سے ہم یہ خیال کرتے تھے کہ وقت ایک سیدھی قطار میں سفر کرنے والی اکائی کا نام ہے ۔ اور اب سائنس نے قرآن پاک کی اس بات کو ثابت کر دیا کہ ”تمہارا رب دنوں کو تمہارے درمیان گردش دیتا ہے۔ ” ابھی نہ جانے اور کتنی باتوں کا مطلب سمجھ آنے کا کون کون سا وقت مقرر ہے۔ یہ جنریشن گیپ بھی کمال کی شے ہے۔ ہر دور میں اس حوالے سے بہت بات ہوتی ہے۔ کبھی کسی طورپر اور کبھی کسی ترکیب سے اس خلائ، اس دوری کا مسلسل ذکر کیا جاتا ہے جو ایک نسل سے دوسری نسل کے درمیان رہتی ہے۔ میں اس تصور ، اس خیال سے ہمیشہ باغی رہی کیونکہ اس دوری کی وجوہات مجھے سمجھ نہیںآتیں۔ یہ درست ہے کہ ہر آنے والی نسل پچھلی نسل سے عادات و اطوار میں ، حالات میںکچھ مختلف ہوتی ہے۔ وہ ڈی این اے جو انسانی تمدن کا سارا ڈیٹا (Data)اپنے اندر محفوظ کر رہا ہے اس میں آپ اور نسل کے تجربات کا اضافہ ہو جاتا ہے لیکن انسان کے بنیادی تجربات ، احساسات اور معمولات تو ایک سے ہی رہتے ہیں۔ اور یقینا اس لحاظ سے اس اکائی میںکوئی تبدیلی پیدا نہیںہوتی۔ انسان میںاچھائی اور برائی کی بنیادی تعریف بھی تبدیل نہیں ہوتی۔ ہاں زندگی گزارنے کے کچھ طریقے مختلف ہو جاتے ہیں۔ ان کا بھی اچھائی اور برائی کے ترازئوں میں احاطہ کرنا اس وقت تک ممکن نہیں ہوتا جب کہ اس تبدیلی کو گزارتی، دونسلیں نہ گزر جائیں۔ اس وقت سوچنے والوںکے پاس وہ معلومات ذخیرہ جنم لیتا ہے جو یہ تعین کرنے میںمددگار ثابت ہوتا ہے کہ دراصل اس تبدیلی کے اثرات کس حد تک مثبت اور کس حد تک منفی رہے۔ پھر اس تجزیے پر کسی علاقے میںرہنے والی قوم کی طبیعت اور تجربات اور اس علاقے کے اس خطے میں بسنے والوں کی عادت پر اثرات کا بھی بہت عمل دخل ہوتا ہے۔ اس بات خیال میرے دل میں اس لیے پیدا ہوا کہ سرسید احمد خان کے کچھ منتخب مضامین پڑھتے ہوئے میری نظر سے ان کا ایک تجزیہ گزرا۔ یہ تجزیہ انہوں نے برصغیر یا مشرق کے لوگوں اور مغرب کی
تہذیب کے موازنے کے حوالے سے کیا تھا۔ لکھتے ہیں : ”کچھ شبہ نہیںکہ جو عادتیں اور رسمیں قوموں میں مروج ہیں ان کا رواج یا تو ملک کی آب و ہوا کی خاصیت سے ہوا ہے یا اتفاقیہ امور سے جن کی ضرورت وقتاً فوقتاً بضرورت تمدن و معاشرت کے پیش آتی گئی یا دوسری قوم کی تقلید و اختلاط سے مروج ہوگئی ہیں یا انسان کی حالت ترقی یا تنزل نے اس کو پیدا کر دیا ہے۔ مزید لکھتے ہیں کہ ”یورپ میں اور مشرقی ملکوں کی پابندی رسومات میں بڑا فرق ہے۔ یورپ میں رسومات کی پابندی ایک عجیب اور نئی بات ہونے کو مانع تو ہے مگر رسومات کی تبدیلی کا کوئی مانع نہیں۔ اگر کوئی شخص عمدہ رسم نکالے اور سب لوگ پسند کریں’ فی الفور پرانی رسم چھوڑ دی جائے گی اور نئی رسم اختیار کرلی جائے گی اور اس سبب سے ان لوگوںکے قوائے عقلی اور حالت تمیز اور قوت ایجاد ضائع نہیں ہوئی۔”
اب اس حوالے سے ذرا غور کرنے کی ضرورت ہے ۔ قوموں کی عادتوں اور رسوموں پر جو باتیں اثر انداز ہو رہی ہیں ان کا بھی بیان ہے ، یہ بھی ثابت ہو رہا ہے کہ یورپ میں بحیثیت قوم پرانی بات کو آسانی سے چھوڑ کر نئی بات کو اپنا لینا شامل ہے اور اس میں بہت تردد نہیں کرتے۔ نہ ہی بہت پس وپیش کا مظاہرہ کرتے ہیں جب کہ یہ بات مشرق میں، یا برصغیر میں خصوصی طور پر بسنے والی قوموں میں نہیں۔ شاید یہ اس علاقے کی خصوصیات کا حصہ ہے کہ اس علاقے کے لوگ بار بار اپنی جڑوں کی جانب لوٹتے ہیں اور ان کے تمدن کے درخت بہت تناور نہیں۔ ہاں انسانی معمولات میں وہ تبدیلی جو مغرب کی سائنسی ترقی کے باعث آ رہی ہے اس نے ایک نسل سے دوسری نسل کے درمیان کچھ فرق ضرور پیدا کیا ہے۔ یہ موبائل فون ہماری نسل کے سامنے زندگی میں در آئے اور زندگیوں کو جزو لاینفک بن گئے۔ کمپیوٹر کا استعمال بھی کچھ اسی طرح رائج ہوا لیکن ہماری نسل کی اکثریت اس سے بہت واقف نہیں اور بہت زیادہ واقفیت اختیار کرنے پر آمادہ بھی نہیں جب کہ ہمارے بچے ان کے عادی ہو چکے ہیں۔ کچھ اس عادت میں تیزی کورونا نے بھی پیدا کی۔ گھروں میں قید بچے اور کیا کرتے۔ ان کے لیے یہ کمپیوٹر ہی جام جم ثابت ہوئے۔ اب ہم ایک نئی پریشانی کا شکار ہیں کہ ہماری اگلی نسل میں محنت یا کام کی عادت ہی نہیں۔ وہ ہر ایک کام کمپیوٹر کے ذریعے انجام دینا چاہتے ہیں ،Virtual Realityان کے لیے اصل حقیقت بنتی جا رہی ہے۔ اب میں اسے جنریشن گپ تصور نہیںکرتی کیونکہ یہ آرام پسندی یا سست روی اس علاقے کے خمیر میں صدیوں سے شامل ہے۔ اس کی دلدل میں گرنے سے بڑی جدوجہد سے اپنے آپ کو روکنا پڑتا ہے۔ ذرا ایک لمحے کو سوچئے کہ ایک ایسی قوم جس کی نسل کو کام کرنے کی عادت نہ رہے وہ قوم کیا کرے گی۔ پھر اس کے بغیر زندگی گزارنا مشکل ہو جاتا ہے، لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ ہم بحیثیت قوم اپنے آپ کو ابھی تک اس جانب راغب نہیں کر سکے۔ اس عادت کی غالباً ہمارے قومی ڈی این اے میں بھی کوئی جگہ نہیں کیونکہ ہم بڑی مشکل سے کھینچ کھانچ کر خود کو اس جانب مائل کرتے ہیں ، ذرا ایک جھٹکا آتا ہے اور ساری کاوش مٹی میں مل جاتی ہے۔ اگر پریشانی ہو تو اس حوالے سے ہونی چاہیے کیونکہ وہ قومیں ترقی نہیں کرتیں جو کام کرنے سے عاجز ہوں۔ ہماری بحیثیت قوم یہ سب سے بڑی پریشانی ہے۔ اس عادت کے باعث ہم نہ اپنے ملک کو کوئی فائدہ دے رہے ہیں اور نہ ملک سے باہر ہمارا وقار ہے۔ کورونا لاک ڈائون نے لوگوں میںاس سست روی کو کئی گنا زیادہ کر دیا ہے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ ہمیں اس بات کا کوئی احساس نہیں۔ اس جانب ہمارے سوچنے سمجھنے والوں کی توجہ بھی نہیں ۔ پھر لوگوں میں پڑھنے لکھنے کا رجحان بھی باقی نہیں رہا کہ کوئی لفظ انہیں کسی جانب راغب کر سکے۔ انتہائی افسوس ناک صورتحال ہے اور جنریشن گیپ بس اتنا ہے کہ ہم اس جانب متوجہ ہی نہیں کہ اپنے بچوں کے لیے اس کمی کا ازالہ کر سکیں۔ وہ بچے جو اس خلاف میں پروان چڑھ رہے ہیں ، آخر وہ اس ملک کو کیا مستقبل دے پائیں گے۔ اس حوالے سے غور کرے کی بھی ضرورت ہے اور مستقبل کے لیے حکمت عملی مرتب کرنے کی بھی ۔