افغان مہاجرین کی آمد؟

افغانستان کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں جب ہم پاکستان میں پہلے سے قیام پذیر رجسٹرڈ اور غیر رجسٹرڈ مہاجرین کے حوالے سے حالات کا جائزہ لیتے ہیں تو ان کے قیام کی مدت جو 31دسمبر2021ء کو ختم ہو رہی ہے ' کے بعد انہیں مزید قیام کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ سامنے آیا ہے ۔ وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق افغان مہاجرین کی مدت میں توسیع کے کوئی امکانات نہیں تاہم ملک بھر میں ان کو پہلے سے جاری کردہ رجسٹریشن کارڈز کو سکیورٹی کے پیش نظر تبدیل کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے پہلے سے جاری کارڈز واپس لیکر ای فارم کے ذریعے اکٹھا ہونے والے ڈیٹا کی تصدیق کے بعد کوڈ والے تبدیل شدہ کارڈز دیئے جائیں گے ۔ ادھر وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ طورخم اور چمن بارڈر بالکل پرسکون ہیں اور وہاں پر نقل و حمل جاری ہے ' ہم نے توافغان مہاجرین کا انتظام کیا ہے نہ ہی کوئی آرہا ہے ' اس حوالے سے بھارتی میڈیا کی باتوں کی تردید کرتے ہیں ' اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ طالبان کے افغانستان کا اقتدارسنبھالنے کے بعد خدشات تو بہت تھے کہ ایک بار پھر بہت بڑی تعداد میں افغان مہاجرین ایک سیلاب کی صورت میں ہمسایہ ممالک خصوصاً پاکستان کا رخ کریں گے ' تاہم اب کی بار طالبان کی بدلتی ہوئی حکمت عملی ' اور خاص طور پر اپنے کسی بھی مخالف کو انتقام کا نشانہ نہ بنانے سے احتراز کے واضح اعلانات کے بعد صورتحال کسی نہ کسی حد تک پرسکون ضرور ہے تاہم کچھ حلقوں میں اب بھی تشویش ضرورپائی جاتی ہے اور وہ ملک سے فرار ہونے کا جوبھی راستہ میسر آرہا ہے اسے استعمال کر رہے ہیں 'اس حوالے سے حال ہی میں امریکن طیارے کے اندرونی مناظر میڈیا پر صورتحال کی تصویر واضح کررہے ہیں جبکہ ہزاروں افراد طیاروں پر چڑھ کر بھاگنے کے لئے اتائولے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں ' اور تین افراد کی جان سے جانے ' جبکہ امریکہ پہنچنے والے طیاروں کے پہیوں سے انسانی اعضا ملنے کی خبریں صورتحال کی وضاحت کرتی دکھائی دیتی ہیں ' بعض دیگر صوبوں سے ''انتقامی''خبریں بھی سامنے آرہی ہیں ' اور تازہ حالات (تادم تحریر) یہ بھی ہیں کہ چمن کے راستے بہت سے افغان مہاجرین کی آمد کی اطلاعات ٹویٹر پر سامنے آئی ہیں ' اگرچہ آنے والوں کی تعداد توقعات سے بہت کم ہے تاہم مہاجرین کا اندرونی خوف انہیں نقل مکانی پر مجبور کررہا ہے بہرحال ابھی حالات مکمل طور پر واضح نہیں ہیں اور جب تک وہاں سکون قائم نہیں ہوجاتا حتمی طور پر کوئی رائے قائم نہیں کی جا سکتی کہ جو اعلانات طالبان کی جانب سے کئے جارہے ہیں ان پر واقعی ان کے درست تناظر میں عمل کیا جائے گا اور ان سے عالمی برادری مطمئن ہو سکے گی یا نہیں کیونکہ ابھی تک طالبان حکومت کو تسلیم کرنے یا نہ کرنے کے حوالے سے مختلف ممالک گومگو کی کیفیت سے دو چار ہیں ' اس ضمن میں پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اپنے چینی ہم منصب وانگ ژی کے مابین ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے اور شاہ محمود قریشی نے اپنے بیان میں تمام افغان قوتوں کو سیاسی تصفیہ کے لئے مل کر کام کرنے کا مشورہ دیا ہے ' جبکہ افغانستان کی انتہائی تیزی سے تبدیل ہوتی ہوئی صورتحال کے حوالے سے ان سطور کے شائع ہونے تک وثوق کے ساتھ کسی رائے کا اظہار ممکن دکھائی نہیں دیتا ' اتنی بات البتہ ضرور ہے کہ دم تحریر طالبان قیادت کا جو رویہ ہے اس میں بہتری دکھائی دیتی ہے اور جیسا کہ وہ اعلان کر چکے ہیں کہ ہر طبقے کو ساتھ لیکر اپنے ملک کی ترقی اور بہتری کے لئے کام کریں گے ' اس کے بعد اس بات کے خدشات کم کم ہی ہیں کہ افغان مہاجرین کی بہت بڑی تعداد گزشتہ بار کی طرح ایک سیلاب کی صورت ملک بدری پر مجبور ہو گی ' اس لئے وزارت داخلہ پاکستان نے 31دسمبر کے بعد پہلے سے پاکستان میں موجود افغان مہاجرین کی حتمی واپسی کا جو فیصلہ کیا ہے وہ بالکل درست اور پاکستان کے مفادات کے عین مطابق ہے ' جبکہ درحقیقت یہ پاکستانیوں کے دل کی بھی آواز ہے کیونکہ گزشتہ لگ بھگ چار دہائیوں سے افغان مہاجرین کی وجہ سے پاکستان کو جن مسائل سے دوچار ہونا پڑا ہے وہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے اور پاکستان کے عوام افغان مہاجرین کی پاکستان کی سرزمین پر مزید قیام کے حق میں نہیں ہیں۔ اب تو وہاں بیس سالہ جنگ کا خاتمہ بھی ہو چکا ہے اور طالبان انتظامیہ نے اپنے ہم وطنوں کو واپس آکر اپنے وطن کی ترقی اور خوشحالی میں اپنا حصہ ڈالنے کا پیغام بھی دے دیا ہے ' اس لئے اب ان کے پاکستان میں مزید قیام کا کوئی جواز بھی نہیں رہ جاتا۔