بھارتی میڈیا کا آدھا سچ

مودی سرکار کے گن گانے والا بھارتی میڈیا بھارتی حکومت اور حکومتی پالیسیوں پر برس پڑا ‘ ایک بھارتی چینل کے میزبان نے کہا کہ ہم نے افغانستان میں پیسہ لگایا ‘ ڈیم بنایا ‘ لوگوں کوپڑھایا ‘ انفراسٹرکچر بنایا ‘سب بیکار گیا ‘ آج بھارت کو کوئی نہیں پوچھ رہا ‘ ہم صرف دیکھ رہے ہیں جبکہ پروگرام میں شرکت کرنے والے سابق بھارتی جنرل جی ڈی بخشی نے بھارت سرکار کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بھارت کو کیوں کوئی پوچھے گا ‘ ٹی وی رپورٹ کے مطابق بھارتی میڈیا کوافغانستان کی فوج میں بھی کرپشن نظر آنے لگی ہے ‘ امریکی اہلکاروں پر بھی مال بنانے کا الزام عائد کیا گیا ‘ جہاں تک بھارتی ٹی وی اینکر اور پروگرام کے دیگر شرکاء کے دعوئوں کا تعلق ہے ان کو آدھا سچ قرار دیا جا سکتا ہے ‘ اس میں قطعاً شک نہیں کہ بھارت نے افغانستان میں پیسہ لگایا ‘ ڈیم بنایا ‘ تعلیمی ادارے قائم کئے ‘ تاہم وہ اصل بات بتانا بھول گئے کہ بھارت کی سرمایہ کاری کے پیچھے افغانستان کی بھلائی سے زیادہ پاکستان کے خلاف سازشیں کرکے اسے نقصان پہنچانا تھا ‘ بھارت نے کسی نیک نیتی کے جذبے سے یہ کام نہیں کیا کیونکہ ایسا کرکے بھارت واسیوں نے اس محاورے کو سچ ثابت کیا کہ بنیئے کا بیٹا کچھ دیکھ کر ہی گرتا ہے ‘ ان تمام بظاہر اچھی سرگرمیوں کی آڑ میں بھارت نے پاکستان کے خلاف تخریبی سرگرمیوں کے لئے وہاں علیحدگی پسندوں کی تربیت کے لئے کیمپ قائم کئے ‘ ان کو اسلحہ ‘ گولہ بارود اور سرمایہ فراہم کرکے پاکستان میں تخریب کاری کو فروغ دیا ‘ اور اسی نوع کی دیگر منفی سرگرمیوں کے لئے سرمایہ کاری کی ‘ مگر اب اس کے مذموم مقاصد مزید پورے نہیں ہو سکیں گے ‘ اس لئے اسے اپنی ساری سرمایہ کاری ڈوبتی نظر آتی ہے ‘ اسے اپنی اس قسم کی حرکتوں سے پہلے نوشتہ دیوار پڑھ لینا چاہئے تھا جس میں وہ ناکام رہا۔
ماحولیاتی آلودگی کا خاتمہ
ڈائریکٹر جنرل سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ نے شجر کاری مہم کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایک اہم مسئلے کی جانب توجہ دلائی ہے ‘ انہوں نے ماحولیاتی آلودگی میں تیزی سے اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہم نے شجرکاری پرتوجہ نہ دی تو آئندہ چند سالوں میں صورتحال خطرناک ہوسکتی ہے ‘ امر واقعہ یہ ہے کہ جاری شجرکاری مہم اور صوبائی حکومت کے دعوئوں کے مطابق اب تک کروڑوں پودے لگائے جا چکے ہیں جن میں یقیناً لاکھوں اب تک درخت بن چکے ہوں گے ‘ تاہم ماحولیاتی آلودگی کا خاتمہ صرف شجر کاری سے نہیں ہو سکتا بلکہ ماحولیات کو صاف ستھرا رکھنا بھی ضروری ہے ‘ بدقسمتی سے اس ضمن میں مختلف شہروں میں متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داری کماحقہ ادا کرنے میں بری طرح ناکام ہیں پھر صوبائی دارالحکومت پشاور میں گرین بیلٹ کے قیام میں بھی ناکامی دیکھنے میں آرہی ہے ‘ اگرچہ پشاور کو مغل بادشاہ بابر کے دیئے ہوئے نام پھولوں کا شہر بنانے کے دعوئے گزشتہ ادوار میں ہر صوبائی حکومت کی ترجیحات رہے ہیں مگر اس شہر کی فضا اس قدر آلودہ ہے کہ پھولوں کا شہر کے دعوے شرمندہ تعبیر ہی نہیں ہو رہے ہیں ‘ دوسری جانب سیاحتی مقامات سے آنے والی خبریں اس حوالے سے تشویشناک ہیں کہ سیاح وہاں جا کر اس قدر آلودگی پھیلا دیتے ہیں کہ حیرت ہوتی ہے اس لئے اس ضمن میں پوری قوم کو سنجیدگی سے سوچنا ہوگا کہ ہم اپنے ملک کو آلودگی سے کیسے بچا سکتے ہیں اور صرف حکومت یا اداروں پر تکیہ کرکے ہم بری الذمہ نہیں ہو سکتے۔
رنجیت سنگھ کے مجسمے کا معاملہ
پاکستان نے رنجیت سنگھ کے مجسمے کے حوالے سے بھارتی وزارت خارجہ کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے اسے منافقانہ پالیسی قرار دیا ہے ‘ پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ جو ملک اپنی اقلیتوں کے خلاف ریاستی سرپرستی میں امتیازی سلوک روا رکھے ہوئے ہے ‘ وہ دوسروں کے لئے آواز اٹھاتا ہے ‘ انہوں نے کہا کہ ایک پختہ کار ریاست میں ملزم کے خلاف پہلے ہی سخت کارروائی شروع کی جا چکی ہے ‘ پاکستان نے اقلیتوں کو مساوی شہری حقوق دینے اور ان کی عبادت گاہوں کے لئے آئینی تحفظ کویقینی بنانے کے لئے کام کیا ہے ‘ جبکہ بھارت میں اقلیتوں کے خلاف امتیازی واقعات ریاستی سرپرستی میں ہوتے ہیں ‘ جہاں تک محولہ واقعے کا تعلق ہے یہ ایک شخص کا انفرادی فعل ہے جس کو قانون کی گرفت میں لیا جا چکا ہے جبکہ بھارت وہ وقت بھول گیا ہے جب آنجہانی وزیر اعظم اندرا گاندھی کے قتل کے خلاف بھارت کے طول و عرض میں سکھوں کے خلاف ریاستی سطح پر کریک ڈائون کرکے ہزار ہا سکھوں کو بے گناہ قتل کیا گیا ‘ دلتوں ‘ عیسائیوں اور دیگر کمیونٹی خصوصاً مسلم کش فسادات تو بھارت کی 74سالہ تاریخ میں کئی سیاہ ابواب کا اضافہ کا باعث بنے ہیں ‘ بابری مسجد کے انہدام اور اس کی آڑ میں مسلمانوں کے خلاف بھارتی انتہا پسندوں کے ظالمانہ اقدامات اور سرکاری سرپرستی کوئی پرانی بات نہیں ‘ اسی طرح کشمیر کی حیثیت کو تبدیل کرنے اور وہاں پر ڈھائے جانے والے مظالم کو دنیا دیکھ چکی ہے ‘ اس لئے دوسروں پر اعتراض کرنے کے بجائے بھارت کو اپنی اقلیتوں کے خلاف خود اپنے اقدامات کا جائزہ لینا چاہئے’ اور ان کو تحفظ فراہم کرنے کے اقدامات کرنے چاہئیں۔