محکمہ آبپاشی ڈگری سے ڈپلومہ تک

خیبر پختونخوا کو ملک کے دیگر صوبوں کی طرح جو سب سے بڑا مسئلہ درپیش ہے وہ ہے نظم ونسق یعنی گورننس کا کیونکہ حکمران کی حکمرانی کا اندازہ آج ہزاروں سال کے بعد بھی طرز حکمرانی کے پیمانے سے ناپا جاتا ہے۔ چاہے وہ اسلام سے قبل کا معاشرہ ہو یا اسلام کے نفاذ کے بعد کا معاشرہ حکمرانوں کی طرز حکومت کا احوال ہی ان کی تاریخ کہلاتی ہے ۔ یونانی دور سے لے کر خلافت تک اور خلافت سے لے کر اس خطہ میں مغل، افغان اور فرنگی راج تک ہم ان کی طرز حکومت اور تعمیرات کے پیمانے سے ان کے دور کو ناپتے ہیں۔ اہرام مصر کو دیکھ کر سوچ مجبور کرتی ہے کہ اس کے کاریگر کون ہوں گے، تاج محل کو دیکھ کر کہنے لگتے ہیں کہ باغات، یادگاروں، مقبروں اور محلات پر ہی ان کی توجہ تھی ۔ شیرشاہ بابا کا ذکر جی ٹی روڈ پر سفر کرتے ذہن میں آتا ہے اور لیڈی ریڈنگ ہسپتال سمیت ملک میں مشنری ہسپتال، ریلوے ٹریک ، تعلیمی ادارے اور آبپاشی کا نظام دیکھ کر بے اختیار فرنگی راج کی فن انجینئرنگ کی طرف ذہن جاتا ہے۔ موجودہ دور میں بھی”میگا پراجیکٹ”سے ہی حکومتوں کی کارکردگی ناپی جاتی ہے۔ کچھ عرصہ جمود کے بعد خیبرپختونخوا میں اس حوالہ سے ہلچل شروع ہو چکی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی سیکرٹریٹ میں بابو لوگ بھی سرگرم ہو چکے ہیں۔ نت نئی تجاویز دی جارہی ہیں۔ ایک شعبہ میں تو خود انجینئرنگ کی انجینئرنگ کے لئے قواعد وضوابط میں تبدیلیوں کی سرگوشیاں ہیں۔ میرا ماتھا اس وقت ٹنکا جب کہا گیا کہ آبپاشی کے محکمہ میں بی ٹیک کے ملازمین کے لئے انجینئرز کی آسامیوں پر تعیناتی کے لیئے بیس فیصد کوٹہ مقرر کیا جائے۔ افسوس صد افسوس اکیسویں صدی میں بھی ہم کوٹہ کلچر سے نہیں نکل پائے اور ابھی بھی خیبر پختونخوا کو ہی تجربہ گاہ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ اگر فرنگی راج میں اس طرح کے فیصلے ہوتے تو پھر بھی کوئی بات ہوتی کہ ہمارے پاس انجینئرز نہیں ہیں لیکن اکیسویں صدی میں پاکستان میں اور وہ بھی خیبر پختونخوا میں ٹیکنیشن کی انجینئرز کے مقام پر تقرری میرے کانوں کو عجیب سا لگا۔ ابھی تک صوبہ کا محکمہ صحت ایم
ٹی آئی کے تجربہ سے شاک کی سی کیفیت میں ہے اب آبپاشی میں یہ تجربہ آخر ہم جا کہاں رہے ہیں۔ میں نے پوچھا تو عرض کیا گیا کہ اس پالیسی کی ابتدا اس حکومت میں نہیں بلکہ2012کی اے این پی حکومت میں کی گئی۔ فیصلہ یہ کیا گیا تھا کہ گریڈ سترہ میں بی ٹیک والوں کو آٹھ فیصد کوٹہ دیا جائے گا۔اس محکمہ کی کارکردگی اے این پی دور کے وزیر اور پی ٹی آئی کے سابق وزیر اعلی پرویز خٹک کے دور میں تو جو رہی وہ رہی لیکن بعد میں بی ٹیک کے حامل ملازمین کے لئے گریڈ اٹھارہ میں تعیناتی کے لئے راستے بنانے کا آغاز ہوا۔ ایک طرف انجینئرنگ کے ڈگری ہولڈر اور دوسری طرف بی ٹیک اہلکاروں کا ان کی آسامیوں پر مارچ جو اب ہماری اطلاعات کے مطابق حتمی مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔صرف یہی نہیں بلکہ ڈپلومہ ہولڈر بھی اسی راستے سے گزریں گے۔ اس حوالہ سے بیس فیصد کوٹہ مختص کرنے کی بات ہو رہی ہے جس میں مبینہ طور پر ڈپلومہ ہولڈر کو بھی حصہ ملے گا۔ گو کہ اس وقت اس محکمہ میں تعینات چیف انجینئر صاحبزادہ شبیر ایک قابل اور زیرک چیف انجینئر ہیں۔ ان کے بھائی مرحوم صاحبزادہ انیس کے ساتھ براہ راست نیازمندی رہی۔ بلکہ جتنے بھی صحافیوں کا ان سے تعلق رہا آخری وقت تک نبھایا۔ وہ ایک نہایت ہی قابل اور محنتی بیوروکریٹ تھے۔ لیکن اب جو صورتحال محکمہ آبپاشی کو درپیش ہے اس سے لگتا ہے معاملات کچھ ٹھیک سمت نہیں جا رہے۔ اگر گریڈ اٹھارہ کے لیئے بی ٹیک اہلکاروں کا بیس فیصد کوٹہ منظور کیا گیا تو کچھ دہائیوں کے بعد جو حالت اس محکمہ کی ہوگی اس کا آپ کچھ ہی سالوں میں اندازہ کر لیں گے۔ یہ ایسے ہے کہ ہسپتال میں ایک ٹیکنیشن کو آپ کارڈیالوجی کے وارڈ کی ذمہ داریاں سونپ
دیں۔ایسے میں محکمہ آبپاشی سمیت انجینئرنگ کے دیگر شعبوں میں اگر میگا پراجیکٹ چلتے ہیں تو ایک بی ٹیک کس طرح اس کو سنبھالے گا۔ یہ ویسا ہی ہے کہ جیسے ایک مریض کو آپ سادہ ایم بی بی ایس ڈگری ہولڈر کے سامنے لٹاتے ہیں۔ وہ نیوروسرجری کا آغاز کرتا ہے۔ اس پر کوئی پوچھے کہ ڈاکٹر صاحب آپ نیورو سرجن ہیں اور وہ جواب میں کہے نہیں میں نیورو سرجن تو نہیں ہوں لیکن میرا تجربہ زیادہ ہے۔تو کیا آپ اپنے مریض کو اس ڈاکٹر کے رحم وکرم پر چھوڑ دیں گے؟ ویسے ہونا تو نہیں چاہئے۔ چونکہ خود انجینئرنگ کی پڑھائی تھوڑی بہت کی ہے اس لئے بی ٹیک اور بی ایس سی انجینئرنگ کا فرق معلوم ہے اس میں تو کوئی شک نہیں کہ یہ دونوں ایک برابر نہیں ہیں۔ پھر یہ ایسا فیصلہ کیوں؟ اس وقت صوبے میں لگ بھگ پندرہ سو کے قریب انجینئرز ہیں ان کو تو اپنا مستقبل تاریک ہی دکھائی دے گا۔ یہ چھوڑیں جب یہ خبر صوبے کی انجینئرنگ جامعات تک پہنچے گی۔ والدین کو پتا چلے گا تو کسی کا دماغ خراب ہوگا کہ وہ انجینئرنگ کا اتنا خرچہ اٹھائے بس بی ٹیک پر ہی اکتفا کیا جائے گا۔ محکمہ آبپاشی انجینئرنگ کے دوسرے شعبوں کے لئے بھی راستے کھول دے گا اور ہم بی ایس سی انجینئرنگ کی جگہ بی ٹیک کے راستوں پر سفر کرنے لگیں گے۔ دنیا ایم ایس اور پی ایچ ڈی کی طرف بڑھ چکی ہے اور ہم ڈگری اور ڈپلومہ کی طرف گرنے لگے ہیں۔ پاکستان میں تعلیم روزگار سے جڑا ہے کیوں ہم یہ بھول جاتے ہیں۔ اگر پھر بھی صوبے کی بیوروکریسی یہ سمجھتی ہے کہ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل انجینئرز کی قابلیت اتنی نہیں تو پھر کوٹے کی کیا ضرورت ہے میرٹ پر صرف بی ٹیک کی اہلیت لازمی قرار دیں۔مجھے حیرت اس بات پر ہے کہ صاحبزادہ شبیر جوظاہری بات ہے خود انجینئرنگ کی ڈگری رکھتے ہیں اور کافی عرصہ اس محکمہ میں اپنی قابلیت پر اس محکمہ میں ایک شاندار زندگی گزار چکے ہیں وہ کس طرح اس کوٹہ سسٹم کے لئے راضی ہو چکے ہیں۔ سیکرٹری کا کیا ہے آج اس محکمہ میں کل دوسرے میں چلا جائے گا۔ میری ذاتی رائے یہ ہے کہ پہلے وزیر اعلیٰ، انجینئرنگ کونسل کے نمائندے اور صوبے کی بیوروکریسی مل بیٹھ کر اس پر سوچیں ۔