حکام کی احتیاطی اقدامات پر عدم توجہ

ایک ایسے وقت میں جب ماہرین اور حکومت عوام الناس سے کروناوائرس سے تحفظ کیلئے ممکنہ حفاظتی اقدامات اختیار کرنے پر زور دے رہے ہیں، شعور وآگہی کیلئے مختلف ذرائع کا بھرپور استعمال ہورہا ہے، میڈیا کا مرکزی موضوع کرونا کی صورتحال ہے، اب تو گھروں سے لیکر گلی کوچوں تک اور سوشل میڈیا سے ابلاغ عامہ کے دیگر ذرائع تک ایک ہی موضوع زیر بحث ہے جس کا مرکزی نکتہ منتقل ہونے والے وائرس سے بچائو ہے، وزیراعظم سے لیکر وفاقی وزراء تک وزیراعلیٰ سے لیکر ضلعی حکام تک، عوام کے سامنے آتے ہوئے ماسک کا استعمال کرنے کا خیال کسی کو نہیں آتا، یہاں تک کہ قرنطینہ کے انتظامات کا جائزہ لیتے ہوئے بھی اس کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی، اس بحث میں پڑے بغیر کہ ماسک کا استعمال ضروری ہے یا نہیں عوام کو متوجہ کرنے کیلئے اگر ماسک کا استعمال کیا جائے تو یہ ایک مثبت اور سنجیدہ پیغام رسانی ہوگی اور اس سے عوام میں تحفظ کے اقدامات اوراحتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا شعور اُجا گر ہوگا۔
غیر ذمہ دارانہ طرزعمل
کراچی اور لاہور میں ریلوے سٹیشنز پر مسافروں کا ہجوم اورٹرین میں سوار ہونے کا جتن ناگزیر قرار دیا جا سکتا ہے لیکن راولپنڈی میں بغیر فاصلہ رکھے اشیائے خوردونوش کی دکان کے سامنے شہریوں کا ہجوم اور پشاور میں امدادی رقم کے حصول کیلئے دھکم پیل اور اکٹھ جیسے واقعات مشتے نمونہ از خروارے کے مصداق ہمارے مجموعی معاشرتی روئیے اور عدم احتیاط کے روئیے کا مظہر ہیں،اگرچہ سرکاری سطح پر اس حد تک کے معاملات کی نگرانی اور نوٹس لینے کی نہ تو گنجائش ہے اور نہ ہی توقع، لیکن کم ازکم اس حد تک ممکن ضرور ہے کہ مناسب فاصلے اور قطار میں کھڑے ہو کر صارفین سے اشیاء خوردنی خریدنے کی شرط دکانداروں کی جانب سے عائد کرنے کو لازمی قرار دیا جائے جو لوگ اس قسم کا ہجوم بنا کر احتیاطی تدابیر کی خلاف ورزی کرتے ہیں ان کو اس امر کااز خود احساس ہونا چاہیے کہ وہ اپنے لئے اور دوسروں کیلئے خطرے کو دعوت دے رہے ہیں۔ بازاروں میں اور دکانوں کے باہر قطار میں کھڑے ہو کر اور مناسب فاصلہ رکھ کر خریداری کرنے کی تحریری ہدایات چسپاں کرنے کی ضرورت ہے۔ رش سے بچنے اور مناسب فاصلہ کی پابندی کیلئے دکاندار خریداروں کو ٹوکن جاری کر کے نمبروار اشیاء حاصل کرنے کاطریقہ اپنائیں اورخریدارلسٹ بنا کر دکاندار کو دے اور باری آنے پر وصول کرنے کا طریقہ اختیار کریں تو فاصلہ گریزی ممکن ہے، فی الوقت اس طرح کی صورتحال نہیں کہ خریداری کا وقت محدود ہو، اگر ضرورت پڑنے پر مزید سخت اقدامات کرنے کی ضرورت پڑے یا اشیاء خوردونوش کی ترسیل کا نظام متاثر ہو اور خریداری کیلئے وقت محدود کرنے کی نوبت آئے تو کیا عالم ہوگا۔امدادی رقم کی تقسیم کرنے والے بھی اگر ہجوم اکٹھی کئے بغیر یہ نیک کام سرانجام دے سکیں تو بہت بہتر ہوگا۔
تحفظ اشجار محض ایک کارروائی سے ممکن نہیں
عوامی شکایات پر گلبہار میںقدیم درخت کاٹنے والے افراد کیخلاف ٹائون انتظامیہ کی جانب سے تھانے میںمقدمے کااندراج سنجیدہ امر ہے،امر واقع یہ ہے کہ نہ تو شہریوں میںدرختوں، پودوں اور سبزہ وگل کے تحفظ اور شہر کو سرسبز بنانے کا شعور ہے اور نہ ہی شوق، اُلٹا درختوں کی کٹائی، پودوںکواُکھاڑنے اورسبزہ زاروں کو نقصان پہنچانا معمول ہے۔ بدقسمتی سے حکام اس وقت ہی کارروائی کرتے ہیں جب کسی شہری کی جانب سے اس حوالے سے باقاعدہ شکایت کی جاتی ہے اور احتجاج کیا جاتا ہے۔حکام اگرتحفظ اشجار پر توجہ دیں اور درخت کاٹنے پر مقدمات وگرفتاری کے اقدامات اختیار کئے جائیں تبھی پشاور کے معدودے چند باقی رہ جانے والے درختوںکو بچاناممکن ہوگا۔
صفائی کے انتظامات کافی نہیں
حکام کی جانب سے سڑکوںکو دھونے اور صفائی کے حوالے سے جن دعوئوں کااظہار کیا جارہا ہے ان کی حقیقت اخبارات میں شائع عکس مناظرسے زیادہ کچھ نہیں۔ امر واقع یہ ہے کہ شہر میں صفائی کا نظام بمشکل معمول کے مطابق ہے، جاری حالات میں صفائی کی صورتحال پر جس قدر توجہ دینے کی ضرورت ہے وہ نظر نہیں آتی۔ حکام کو چاہئے کہ وہ جہاں بازاروں اوراہم مقامات کی صفائی پر توجہ دے رہے ہیںاس کو وہاں تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ پورے صوبے اور خاص طور پر صوبائی دارالحکومت کے گنجان آباد علاقوں میںصفائی یقینی بنانے کی کوششوں میں تیزی لائیں۔
ہیلتھ کیئر کمیشن کی بروقت کارروائی
کورونا ٹیسٹ کی سہولت اور مناسب آلات تشخیص کے بغیر نجی ہسپتال میں خودساختہ ٹیسٹ کرنے پر ہیلتھ کیئر کمیشن کی کارروائی بروقت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان عناصر کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہئے جو مبینہ طور پر کورونا کا علاج کرنے کے دعوے کر رہے ہیں، ہمارے تئیں کوئی ایسا طریقہ کار وضع ہونا چاہئے کہ کورونا علاج بارے ٹوٹکے اور ہر ایک کے ماہر علاج کورونا ہونے کے عمل کی بھی روک تھام ہونی چاہئے۔ اس ضمن میں شعور اُجاگر کرکے ہی عوام کو عطائیوں سے محفوظ رکھا جاسکتا ہے۔