آرمی چیف کا واضح پیغام

چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے افغانستان میں بہتری کے لئے پاکستان کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو تنقید کا نشانہ بنانے کی کوششوں پر خاموش نہیں رہ سکتے ‘ یہ سازشیں کرنے والے وہی ہیں جوعلاقائی امن میں رکاوٹ ہیں ‘ پاکستان ملٹری اکیڈیمی کاکول میں پرچم عطا کرنے کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف نے کہا کہ ہم نے عالمی برادری پر مسلسل واضح کیا ہے کہ وہ افغانستان کے پرامن حل کے لئے کردار ادا کرے ‘ آرمی چیف نے جن خیالات کا اظہار کیا وہ افغانستان میں درپیش حالات کے تناظر میں چشم کشا حقائق کی نشاندہی کرتے ہیں ‘ اس میں قطعاً شک نہیں کہ پاکستان نے افغانستان میں بدامنی کی بھاری قیمت ادا کی ہے ‘ ا پنی معاشی مشکلات کے باوجود پاکستان نے چار دہائیوں سے 30لاکھ سے زیادہ افغان شہریوں کو پناہ دی ‘ ابتداء میں اگرچہ عالمی برادری نے اقوام متحدہ کی ذیلی تنظیم برائے مہاجرین یو این ایچ سی آر کے ذریعے مہاجرین کی امداد کا سلسلہ جاری رکھا مگر بعد میں جب سوویت یونین کا شیرازہ بکھر گیا تو امریکہ اور دیگر مغربی ممالک نے بوریا بستر گول کرتے ہوئے اس امداد کو روک دیا ‘ تب سے پاکستان اپنی معاشی مشکلات کے باوجود تیس لاکھ سے زیادہ افغان مہاجرین کا بوجھ برداشت کرتا رہا ‘ جبکہ نائن الیون کے بعد امریکی اور نیٹو فورسز نے ایک بار پھر خطے کا رخ کیا اور طالبان حکومت کو اکھاڑ کر ایک نئی پرتشدد صورتحال کو جنم دیا ‘ تب سے خطے میں ایک نئی جنگ چھڑ گئی جبکہ امریکی اور نیٹو ممالک کو جلد ہی یہ احساس ہوا کہ انہوں نے بلا سوچے سمجھے ایک ایسی آگ میں چھلانگ مار دی ہے جس کے نتائج ان کے حق میں کبھی نہیں نکل سکیں گے ‘ وہ اس ”کمبل” سے جان چھڑانے کی ہر ممکن کوشش میں ناکامی کے بعد پاکستان سے یہ توقعات لگانے پر مجبور ہوئے کہ اب ان کی جان پاکستان ہی چھڑا سکتا ہے ‘ اس حوالے سے اگرچہ پاکستان نے اپنی تمام کوششیں کر ڈالیں تاہم خطے کی لمحہ بہ لمحہ بدلتی صورتحال میں کئی مشکلات درپیش رہیں ‘پاکستان نے ایک جانب لاکھوں افغان مہاجرین کو پناہ دیئے رکھی اور دوسری جانب خود پاکستان کے خلاف سازشیں جنم لیتی رہیں ‘ صورتحال سے علاقے کی دوسری طاقتیں بھی بھر پور فائدہ اٹھا کر پاکستان کے خلاف پراکسی وار کے شعلے بھڑکای رہیں ‘ خصوصاً بھارت نے افغان خفیہ ایجنسی این ڈی ایس کے ساتھ مل کر بلوچستان کے علیحدگی پسندوں کی ”حوصلہ افزائی” کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا ‘ پاکستان کے سرحدی علاقوں میں شورش برپا کرکے اور شہروں وغیرہ میں تخریبی سرگرمیوں سے پاکستان کے امن کوتہ و بالا کرنے کی ہر ممکن کوششیں کی جاتی رہیں ‘ تاہم پاکستان کے سکیورٹی اداروں نے جانوں کا نذرانہ دیکر ان تمام سازشوں کو ناکام بنایا ‘ ان تخریبی سرگرمیوں میں عوام بھی بہت بڑی تعداد میں نشانہ بنائے گئے ‘ اب جبکہ افغانستان میں امن کی بحالی کے امکانات بہت حد تک پیدا ہو گئے ہیں ‘وہاں ایک قومی حکومت کے قیام کی راہ ہموار ہو رہی ہے اور اس حوالے سے افغانستان کی متعلقہ قوتوں کے مابین گفت و شنید سے مسائل حل ہونے کی توقع پیدا ہوچکی ہے ‘ ایسے میں بعض حلقے پاکستان کے خلاف معاندانہ پروپیگنڈہ کرکے افغانستان اور پاکستان کے باہمی تعلقات کو خصوصاً اور دیگر عالمی قوتوں کے ساتھ عموماً پاکستان کے تعلقات کو بگاڑنے کی کوششیں کر رہے ہیں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بطور خاص اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ آزاد اور پرامن خطے کا تصور ہمارے ہمسائے کی سوچ کے ہاتھوں یرغمال ہے ‘ مسئلہ کشمیر کے ہوتے امن نہیں ہوگا ‘ سازشیں کرنے والے وہی ہیں جو علاقائی امن میں رکاوٹ ہیں ‘ افغان بدامنی کا سب سے زیادہ نقصان ہمیں ہوا ‘ جنرل باجوہ نے امید ظاہر کی کہ طالبان خواتین اورانسانی حقوق کے وعدے پورے کریں گے ‘ ان کی زمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہو گی۔ پاکستان آرمی چیف نے پاکستان کو تنقید کا نشانہ بنانے والوں کو بروقت انتباہ کرکے واضح کر دیا ہے کہ اب پاکستان پر بلاوجہ الزامات پر خاموش نہیں رہا جائے گا ‘ اس لئے جو عناصر اس قسم کی حرکتیں کر رہے ہیں وہ دراصل خطے میں امن کے قیام کو برداشت نہیں کر سکتے تاہم پاکستان ایسے عناصر سے غافل نہیں ہے اور وہ اپنی سا لمیت کا تحفظ کرنے میں نہ پہلے کسی کوتاہی کا شکار ہوا ‘ نہ آئندہ خاموش رہے گا ۔ اور پاکستان دشمن قوتوں کو کسی غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہئے۔
یہ ناقابل برداشت ہے
پشاور کے مختلف علاقوں میں مقیم افغان باشندوں کا سڑکوں پر نکل کر افغانستان کے یوم استقلال کے موقع پر مظاہروں کے دوران حیات آباد پولیس کے ساتھ جھڑپوں کے نتیجے میں متعدد گاڑیوں اور ہوٹلوں کو نقصان پہنچانا قابل تشویش بھی ہے اور ناقابل برداشت بھی ‘ اگر مظاہرین کی سرگرمیاں پرامن اور صرف اپنے ملک کی یوم آزادی کے والے سے جلوس کی حد تک رہتیں تو اسے پھر بھی”قابل قبول” قرار دیا جا سکتا تھا مگر ان مظاہروں کی آڑ میں پاکستان کے خلاف نعرے بازی ایک آزاد اور خود مختار(میزبان) ملک کے خلاف اس کے اندرونی معاملات میں بے جا مداخلت ہی گردانا جا سکتا ہے ‘ اگرچہ پہلے تو اس قسم کی ہلڑبازی کی ضرورت تھی نہ اس کی کسی صورت اجازت دی سکتی ہے کیونکہ افغانستان سے پہنچنے والی خبروں کے مطابق خود وہاں کے طول وعرض میں ان دنوں قومی جھنڈے پر ایک تنازعہ جنم لے چکا ہے اور طالبان اپنے جھنڈے کو جبکہ عوام کی بہت بڑی تعداد تین رنگ کے جھنڈے کو یوم آزادی پر لہرانے پر بضد ایک دوسرے کے ساتھ ”گتھم گتھا” دکھائی دے رہے ہیں اور اس حوالے سے مختلف ویڈیوز عالمی میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں ‘ ایسی صورتحال میں پشاور میں مقیم افغان باشندوں کی ہلڑ بازی کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جاسکتا کیونکہ ان کی جانب سے جھنڈے لہرانے سے دونوں برادر ملکوں پاکستان اور افغانستان کے مابین غلط فہمیاں جنم لے سکتی ہیں ‘ چہ جائیکہ مظاہرین نے پاکستان کے خلاف بھی دلوں میں پوشیدہ بغض کو آشکار کرتے ہوئے مخالفانہ نعرے بازی کی ‘ اس لئے ایسے عناصر کو پاکستان کی سرزمین پر مزید برداشت کرنے کاکوئی جواز نہیں ہے ‘ اور ان کو فوراً سے پیشتر ڈی پورٹ کرکے اپنے معاملات اپنے وطن میں طے کرنے کے لئے رخصت کیا جائے۔