Idhariya

افغان مستقبل: شراکت داروں کے مابین صلاح مشورے

افغانستان میں اقتدار کی منتقلی اور مستقبل کے حوالے سے بڑی قوتوں کے مابین شروع ہونے والی مشاورت کب تک جاری رہتی ہے اور اس کے کیا نتائج مرتب ہوں گے اس بارے میں کچھ بھی کہنا قیاس آرائیوں سے زیادہ نہ ہوگا۔ اس ضمن میں ابھی امریکہ کی جانب سے پاکستان اور چین سے تعاون کی خواہش کا اظہار سامنے آیا ہے، جس پر ہمارے ہاں ایک طبقے نے بغلیں بجانا شروع کر دی ہیں، اس حوالے سے امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس کا کہنا ہے کہ بائیڈن انتظامیہ افغانستان میں امن کیلئے تمام پڑوسی ممالک کے ساتھ رابطے میں ہے۔ امریکہ نے پاکستان اور چین کے سامنے یہ بات رکھی ہے کہ افغانستان میں استحکام، سلامتی اور سیاسی تصفیے میں ہماری مدد کریں، بظاہر یوں لگتا ہے کہ افغانستان میں امن و استحکام کے لیے امریکہ کی جانب سے پاکستان کے کردار اور اہمیت کو تسلیم کیا گیا ہے اور یہ ایک نئی پیش رفت ہے۔ ایسا اس لیے بھی محسوس ہوتا ہے کہ اس سے قبل امریکہ نے پاکستان کو نظر انداز کر کے بھارت کے ذریعے افغانستان کو کنٹرول کرنے کی اپنے تیئں بھرپور سعی کی ، وہ ناکامی سے دوچار ہوئی اور امریکہ کو ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے بعد اب پاکستان سے امریکہ نے رجوع کرلیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ پاکستان کی شمولیت کے بغیر افغانستان میں کیا جانے والا بندوبست ثمرآور ثابت نہیں ہو سکا تھا۔ یہ منظر نامہ کسی حد تک درست ہے لیکن جاننے والے جانتے ہیں کہ امریکہ جب بگرام ائیر بیس سے رات کی تاریکی میں اپنے معاونین کو بتائے بغیر رخصت ہو گیا تو اس کا پاکستان کو علم تھا۔ یہ بیک ڈور ڈپلومیسی کا ایک شاخسانہ ہے، جس سے ہر فریق بظاہر انکار ہی کیا کرتا ہے مگر اس کا ذکر کیے بغیر گزارہ بھی نہیں۔ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے اسے یوں بیان کیا ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ افغان مسئلہ کے اجتماعیت پر مبنی سیاسی تصفیے کی حمایت کی ہے، تاہم عالمی برادری بھی انسانی بنیادوں پر افغانوں کی معاشی معاونت کیلئے اپنا کردار ادا کرے۔
امریکہ کی جانب سے پاکستان اور چین سے تعاون کی خواہش کے اظہار کو خطے میں استحکام کے لیے ایک منفرد اور خوش آئند پیش رفت توکہا جا سکتا ہے مگر اسے ابھی نتیجہ خیز کہنا درست نہ ہوگا کیوں افغانستان میں پائیدار استحکام کا ہر راستہ طالبان کی مشاورت اور مرضی کے ریگزار سے گزرے گا۔ اگر امریکہ نے چین اور پاکستان کو اس مسئلے کے حل کے لیے منتخب کر ہی لیا ہے تو پھر امریکہ کو اپنے روایتی شکوک وشبہات کو بھی ایک طرف رکھنا پڑے گا، اور ڈومور کی تکرار کو بھی اب بند کرنا پڑے گا۔ امریکہ کو اب جان لینا چاہیے کہ خطے میں بڑی قوتوں کے ممکنہ ادغام سے اب نئی صف بندیاں شروع ہو چکی ہیں اور ان کا منظر نامہ ابھی خاصہ دھندلا ہے۔افغان مستقبل کے متعلق صلاح مشوروں میں جو تیزی دیکھی جا رہی ہے، اُس کو دیکھ کر کسی سنجیدہ کوشش کی امید بندھنے لگی ہے۔ مثلاً وزیر خارجہ شاہ محمود اور روس، ترکی، بلجیم وزرائے خارجہ میں رابطے، سیکریٹری جنرل اسلامی کانفرنس سے بھی گفتگو اور دورے بھی شیڈول ہو چکے ہیں۔ پھر دفتر خارجہ کا بھی بیان آ گیا ہے کہ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی سے جرمن وزیر خارجہ ہائیکو ماس نے ٹیلی فونک رابطہ کیا، جس میں دونوں وزرائے خارجہ کے مابین افغانستان کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا اور افغانستان میں دیرپا قیام امن کیلئے ایک جامع سیاسی تصفیہ کی ضرورت کو روڈ میپ قرار دیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ افغان مسئلہ کے لیے اجتماعیت پر مبنی سیاسی تصفیے کی حمایت کی ہے، اب ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی برادری انسانی بنیادوں پر افغانوں کی معاشی معاونت کیلئے اپنا کردار ادا کرے تاکہ افغان باشندوں کی سیکورٹی اور ان کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان افغان جنگ میں امریکہ کا نان نیٹو اتحادی رہا ہے اور پاکستان نے اس جنگ میں جانی و مالی نقصان اٹھایا ہے، اس کے برعکس امریکہ نے اتحادی ہونے کے ناطے جو امداد دی ہے وہ ''اونٹ کے منہ میں زیرہ'' کے برابر تھی، ان تمام تر قربانیوں کے باوجود امریکہ نے پاکستان کے کردار کو تسلیم کرنے کی بجائے ہمیشہ بھارت کو پاکستان پر ترجیح دی، امریکہ کا یہ رویہ یقیناً پاکستان کیلئے تشویش کا باعث رہا ہے، یہی وجہ تھی کہ پاکستان نے افغانستان میں دیرپا قیام کے لئے امریکہ کو فضائی اڈے نہ دینے کا فیصلہ کیا، امریکہ پاکستان کی سول و عسکری قیادت کی طرف سے ایسے جواب کی توقع نہیں کر رہا تھا، لہذا اس نے فوری ردعمل دیا اور ایسا تاثر دیا جیسے امریکہ پاکستان کو نظر انداز کر رہا ہے، امریکہ کی بے اعتنائی کی باوجود پاکستان نے افغانستان میں قیام امن کیلئے بھرپور کردار ادا کیا،امریکہ نے کھلے لفظوں میں اس کا اعتراف کرنے کی بجائے دبے لفظوں میں اعتراف کیا، افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے ایک بار پھر امریکہ نے پاکستان اور چین سے تعاون کی خواہش کا اظہار کیا ہے تو یہ خوش آئند ہے، توقع کی جانی چاہئے کہ جس طرح امریکہ پاکستان کے کردار کر تسلیم کر کے افغانستان میں قیام امن کیلئے کوشاں ہے ،خطے کے دیگر ممالک اور شراکت دار بھی ایسے ہی سنجیدگی کا مظاہرہ کریں گے اور تمام شراکت داروں کے تعاون سے نہ صرف افغانستان بلکہ پورے خطے میں قیام امن کا خواب پورا ہو گا۔