Shazray

افغان مہاجرین کی میزبانی کے انتظامات

پاکستان نے افغان مہاجرین کو اجازت نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے، تاہم انسانی المیے کی صورت میں تیاریاں اور انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ کمشنر افغان مہاجرین کے مطابق 5سے 7لاکھ افغان مہاجرین پاکستان آ سکتے ہیں، اس مقصد کے لیے افغان کمشنریٹ نے تین کراسنگ پوائنٹس کے قریب مہاجر کیمپوں کے لیے مقامات کی نشاندہی کر لی ہے، طور خم بارڈر کے قریب ضلع خیبر، غلام خان بارڈر کے قریب شمالی وزیر ستان، جب کہ چترال میں ارندو کراسنگ پوائنٹ کے قریب ضرورت پڑنے پر مہاجر کیمپ لگائے جا سکتے ہیں۔ پاکستان افغانستان کا ایسا پڑوسی ہے جس کی بیشتر اقدار یکساں ہیں، مذہب اور ثقافت ایک جیسی ہونے کی وجہ سے اکثر افغان مہاجرین کی ترجیح ہوتی ہے کہ وہ خیبر پختونخوا میں آباد ہوں۔2001ء میں اقوام متحدہ کا ادارہ برائے پناہ گزین (یو این ایچ سی آر) میں رجسٹرڈ افغان مہاجرین کی تعداد 27لاکھ سے متجاوز تھی، چونکہ پاکستان میں اس وقت افغان مہاجرین کو بھرپور انداز میں خوش آمدید کہا جا رہا تھا، اس لیے غیر رجسٹرڈ مہاجرین کی تعداد رجسٹرڈ مہاجرین سے کہیں زیادہ تھی، جو پشاور کے گرد و نواح اور ملک بھر میں مختلف مقامات پر آباد ہو گئے۔ یہ حقیقت ہے کہ جب بھی افغانستان پر مشکل وقت آیا پاکستان نے اپنے افغان بھائیوں کی تکلیف کو اپنی تکلیف سمجھتے ہوئے ان کے لیے دروازے کھول دیے لیکن افغان مہاجرین نے پاکستان کو اپنا مستقل ٹھکانہ بنا لیا اور کئی افغان مہاجرین تو جرائم میں بھی ملوث پائے گئے، ایسی صورتحال یقیناً کسی بھی ملک کے لیے ناقابل قبول ہے۔ اب ایک بار پھر افغانستان میں 2001ء جیسے حالات پیدا ہونے جا رہے ہیں اور خدشہ ہے کہ افغان مہاجرین کی بڑی تعداد پاکستان کا رخ کرے گی، تو ایسے حالات میں ضروری ہے کہ ٹیکنالوجی کو استعمال میں لا کر مہاجرین کا مکمل ریکارڈ رکھا جائے اور اسے مہاجر کارڈ جاری کیا جائے، اس کے دو فائدے ہوںگے، افغان مہاجرین اس کارڈ کو دکھا کر اقوام متحدہ سے امداد حاصل کرسکیں گے، اسی طرح انہیں پاکستان میں نقل و حمل میں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا اور جب افغانستان کے حالات معمول پر آجائیں گے تو افغان مہاجرین کی باعزت واپسی یقینی بنائی جا سکتی ہے لیکن اگر اس بار بھی افغان مہاجرین کی پاکستان آمد پر پرانی غلطی دہرائی گئی تو پاکستان میں امن و امان کی صورتحال بگڑ سکتی ہے، اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ افغان مہاجرین کے پاکستان آنے کی صورت میں تمام ضروری دستاویزی امور کا خیال رکھا جائے۔
چینی شہریوں کی سکیورٹی بڑھانے کی ضرورت
چینی سفارت خانے نے گوادر میں پیش آنے والے ناخوشگوار واقعے کی مذمت کرتے ہوئے پاکستانی حکام سے اپنے شہریوں کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے سیکورٹی بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ سی پیک سمیت متعدد ترقیاتی منصوبے چینی انجینئرز کی سرپرستی میں تعمیراتی مراحل میں ہیں، پاکستان کی ترقی کے بدخواہ نہیںچاہتے کہ زیرتعمیر منصوبے تکمیل کو پہنچیں، اس لیے وہ نت نئی سازشیں کر کے چین کو پاکستان سے متنفر کرنا چاہتے ہیں تاکہ پاکستان میں بدامنی کو جواز بنا کر چین پاکستان میں سرمایہ کاری سے کنارہ کشی اختیار کر لے، یہی بدخواہ بلوچستان میں دراندازی کر رہے ہیں، ان عوامل کے پیش نظر چینی شہریوں کی فول پروف سیکورٹی فراہم کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ بدامنی کی وجہ سے ترقیاتی منصوبوں پر کوئی منفی اثر نہ پڑے، پاکستان نے اپنے تئیں چینیوں کو سیکورٹی فراہم کر کے ان کی حفاظت کی بھرپور کوشش کی مگر دشمن کمزور ہدف کو تاک کر اکا دُکا حملے کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے ، اس تناظر میں ضروری معلوم ہوتا ہے کہ چینی شہریوںکی فول پروف سیکورٹی کے انتظامات کیے جائیں تاکہ دشمنوں کے مذموم ارادے خاک آلود ہوں اور چینی شہری پرامن فضا میںکام کر سکیں۔ چینیوں کو تحفظ فراہم کرنا اس لیے بھی ضروری ہے کیونکہ ہمارے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور پاکستان کا معاشی مستقبل ان منصوبوں سے جڑا ہوا ہے۔
باجوڑ میں کورونا کی شرح میں خوفناک اضافہ
باجوڑ میں کورونا مثبت کیسوں کی شرح 30فیصد تک بڑھ گئی ہے، باجوڑ میں کورونا کی شرح خیبر پختونخوا کے کسی بھی ضلع سے زیادہ ریکارڈ کی گئی ہے، حالانکہ باجوڑ گنجان آباد علاقہ نہیں ہے۔ اس کے باوجود باجوڑ میں کورونا کے مریضوں میں اضافہ اس امر کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ خیبر پختونخوا کے محکمہ صحت کو باجوڑ کی خبر لینی چاہیے۔
طبی ماہرین کی طرف سے کہا جا رہا تھا کہ گنجان آباد علاقوں میں کورونا کا پھیلائو زیادہ شدید ہوتا ہے ، اگر اس تھیوری کو درست مان لیا جائے تو پھر باجوڑ میں کورونا کے مریضوں کی شرح میں اضافہ نہیںہونا چاہیے تھا، چونکہ باجوڑ میں رہنے والے بڑی تعداد میں عرب امارات اور بیرون ممالک میں محنت مزدوری کرتے ہیں ، عین ممکن ہے کہ کراچی یا عرب امارات سے کوئی کورونا زدہ مسافر آیا ہو، جسے خود بھی معلوم نہ ہو کہ وہ کورونا سے متاثر ہے اور اس نے لوگوں سے ملنے ملانے میںاحتیاط نہ برتی ہو، یوں کورونا کئی افراد اور بعد ازاں کئی گھرانوں تک پھیل گیا ہو۔
کوئی دوسری وجہ بھی ہو سکتی ہے لیکن محکمہ صحت کی ذمہ داری ہے کہ وہ باجوڑ میں متاثرہ علاقے کا تعین کر کے مقامی لوگوں کے زیادہ سے زیادہ ٹیسٹ کرے اور جب تک کورونا مثبت کیسز کی شرح میں نمایاں کمی نہیں آ جاتی تب تک طبی ماہرین کی ٹیم باجوڑ میں موجود رہے۔