Mashriqyat

مشرقیات

بلا سے آپ پہلے جیسے نہ رہے ہوں دنیا نے آپ کا ایک ہی روپ دیکھا ہے اور وہ جو کہتے ہیں کہ پہلا تاثر ہی آخری تاثر ہوتا ہے اسی کے مصداق دنیا کو آپ کی ذات شریف میں برائی ہی برائی دکھائی دیتی ہے۔آپ یہ سمجھتے ہیں کہ مغربی دنیا یا ان کا انکل سام جمہوریت پر سو جان سے فدا ہیں تو یہ آپ جناب کی بھول ہے ،اپنے عرب شہزادوں کے دیس میں کون سی جمہوریت ہے۔ان کے بادشاہوں کے در پر پھر جمہوریت پسند کیوں ماتھا ٹیکتے ہیں ؟پس ثابت ہوا کہ دنیا سکہ رائج الوقت کی بات سمجھتی ہے ،آپ اپنے ہاں کے خزانوں کی چابیاں ان کے حوالے کر دیں اور مزے سے جمہوریت کا منہ کالا کرتے رہیںناک بھوں چڑھانے والے کم اور داد دینے والے زیادہ ہوں گے۔دیکھ لیں ہمارے عرب شہزادے کس طرح اسی جمہوریت پسندوں کی ناک کا با ل بنے نظر آتے ہیں۔
ہاں یہ بات الگ ہے کہ ہم جیسے غریب غربا کی بات آئے تو جمہویت پسندوں نے صدقہ خیرات کرتے ہوئے بھی سو سو شرطیں لگانی ہوتی ہیں۔ان کی بات مان لی جائے تو پھر تیسری دنیا کے ممالک میں بھی آمریت کی وہ پرورش کرنے لگتے ہیں۔اپنے ہاں کے ایک چھوڑیں تین آمروں کی تین عشروں تک سب سے اہم حمایتی کوئی اور نہیں یہ جمہوریت پسند ممالک ہی رہے ہیں۔بڈھ بیر میں اڈہ ملا تو سب کچھ بھول کر ایوب خانی قصیدے پڑھے گئے۔افغانستان میں روس کو گھیرکر مارنے کا فیصلہ ہواتو مردمومن کے نعرے تک امپورٹ کئے گئے اور تو اور جب نائن الیون کے بعد ضرورت پڑ گئی تو مشرف بہ آمریت ہونے میں دیر نہیں لگائی گئی۔تو مطلب یہ کہ جمہوریت سے غرض ہے کس روسیاہ کو۔۔۔انہیں صرف اپنے مفاد سے غرض ہے۔رہی بات خواتین کے حقوق کی تو بھی ایک نرالا فلسفہ ہے دیار مغرب کے رہنے والوں کا۔آپ لاکھ اجازت دیں کہ خواتین کو برقعہ نہیں صرف سکارف پہن کر بھی کام کرنے کی اجازت ہوگی۔ان کو وراثت میں پورا پورا حق دیا جائے گا،دیار مغرب کے رہنے والے کچھ اور ہی کی توقع لگائے ہوئے ہیںاور سچی بات یہ ہے کہ ان توقعات پرکسی صورت افغان معاشرہ پورا اتر ہی نہیں سکتا۔خواتین کو اشتہار ی پارٹیوں کے سپرد کرنا ہی مغربی ممالک کے نزدیک آزادی کی معراج ہے اس لئے گمان غالب ہے کہ افغانستان کے طالبان کی خواتین کے حوالے سے تمام تر نرمی کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
قصہ مختصر جمہوریت اور خواتین کے حقوق کو مغربی ممالک اوران کا انکل سام صرف تب ہی بھلا سکتے ہیں جب افغان طالبان ان کی چین ،روس،ایران اور پاکستان کے حوالے سے شرائط کو تسلیم کرتے ہوئے امریکہ کے پکے اتحادی بن جائیں۔ہمارا تجربہ گواہ ہے کہ اس کے بعد امریکا بہادر اور اس کے ہمنوا سب کچھ بھول جاتے ہیں۔بس یا د رکھتے ہیں تو اپنے مفاد کو۔۔