ون فائیو سے رسپانس کیوں نہیں ملتا؟

مینار پاکستان کے گریٹر اقبال پارک میں خاتون کے ساتھ پیش آنے والے ناخوشگوار واقعے میں ملوث سینکڑوں افراد پولیس کی حراست میں آ چکے ہیں، چودہ اگست کو رونما ہونے والا واقعہ ہر اعتبار سے پاکستان کی بدنامی کا ذریعہ بنا ہے تاہم وزیراعظم عمران خان اور آئی جی پنجاب کے نوٹس لینے سے سینکڑوں افراد قانون کی گرفت میں ہیں، اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جب قانون حرکت میں آتا ہے تو ملزمان کیلئے بچ نکلنا آسان نہیں ہوتا، لاہورانویسٹی گیشن پولیس نے 300 سے زائد افراد سے پوچھ گچھ کی ہے جن میں سے 100 سے زائد افراد کو ابتدائی تفتیش کے لیے تحویل میں لیا گیا ہے، اس مقصد کیلئے انویسٹی گیشن پولیس اپنے تمام وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے تفتیش کر رہی ہے، پہلے مرحلے میں ڈیجیٹل موبائل فرانزک سے ملزمان کی موجودگی کا تعین کر کے 66 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، یہ وہ افراد تھے جن کے بارے میں نادرا کے ریکارڈ اور دیگر تحقیقات کے ذریعے واقعے میں ملوث ہونے کے حوالے سے تصدیق کی گئی ہے۔ ملزمان کو ٹریس کرنا آسان نہیں تھا کیونکہ سینکڑوں افراد کی دھندلی ویڈیوز میں اس بات کا پتا لگانا کہ ان میں سے بچانے والا کون تھا اور خاتون کو ہراساں کرنے والا کون تھا یہ واقعی مشکل کام تھا لیکن پولیس نے تحویل میں لیے گئے افراد کی جیو فینسنگ اور فیس میچنگ کروائی ہے اور 40 گرفتار ملزمان کو عدالت میں پیش کر کے شناخت پریڈ کے لیے بھیجا جا رہا ہے۔مینار پاکستان واقعہ یا ملک کے دیگر حصوں میں پیش آنے والے ایسے ہی ناخوشگوار واقعات صرف مجرمانہ ذہن رکھنے والی اقلیت کی قانون سے بے خوفی کا نتیجہ ہیں۔ باقی ساتھ مل جانے والے گروہی نفسیات کا شکار ہو جاتے ہیں اور بہتے دھارے میں بہہ جاتے ہیں۔ مہذب ترین معاشروں سے قانون کا احترام اور اس کی گرفت ڈھیلی کر دیں، ایک بڑی تعداد ایسی ضرور نکل کھڑی ہوگی جو اپنی تربیت کے برعکس مجرمانہ افعال انجام دے گی اور دوسرے لوگ بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے لگیں گے۔ لوگوں کو بنیادی اخلاقیات سکھانے کے لیے کسی تربیت کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر ضرورت ہے تو اس بات کی کہ قانون کی گرفت مضبوط کر دی جائے، قانون کہ عمل داری اوپر سے نیچے کی طرف مؤثر ہوتی ہے۔ ریاستی نمائندے اور ریاستی ادارے جب تک اپنی گردنیں قانون کے آگے جھکا نہیں دیتے، ہر چھوٹے بڑے گروہ کو جب بھی موقع ملے گا وہ قانون شکنی کرے گا، جان مال عزت و آبرو سے کھیلے گا۔
چند ایک واقعات میں ریاست نے مستعدی دکھائی تو اسی پولیس نے مشکل کیس کے ملزمان پکڑ کر دکھا دیئے، اگر یہی رویہ ہر کیس میں دکھایا جائے تو جرائم کی شرح صفر ہو جائے، متاثر لڑکی کی جانب سے کی جانے والی ون فائیو پر کال پر پولیس مستعدی کا مظاہرہ کرتی تو عین موقع پر ملزمان کو گرفتار کیا جا سکتا تھا لیکن آزما کر دیکھ لیں ون فائیو پر کال کرنے کا آپ کو کوئی رسپانس نہیں آئے گا، اگر جواب آ بھی گیا تو اس میں اس قدر تاخیر ہو چکی ہو گی کہ مدعی کو کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔اس کے برعکس جب ہم مہذب معاشروں کی بات کرتے ہیں تو برائی وہاں پر بھی موجود ہے ایسا نہیں ہے کہ وہاں پر خواتین کو ہراساں نہیں کیا جاتا ہے، حقیقت یہ ہے کہ وہاں پر ہراساں
کرنے والا جانتا ہے کہ اگر شہری نے ان کے خلاف شکایت درج کرا دی تو پولیس اسے فوری گرفتار کر لے گی اور شہری بھی بخوبی جانتے ہیں کہ اگر ان کی جان و مال کو خطرہ ہے تو انہوں نے پولیس کو کال کرنی ہے اور پولیس نے فوری پہنچ جانا ہے۔ کال پر شہری کی حفاظت کیلئے پہنچنا تو دو کنار یہاں صورتحال یہ ہے کہ متاثرہ شہری جب تھانے جا کر انصاف طلب کرتا ہے اور ایف آئی آر درج کرانے کی کوشش کرتا ہے تو پولیس کسی صورت شہری کی ایف آئی آر درج نہیں کرتی، ہاں اگر متاثر فریق کے پاس پولیس کو دینے کیلئے پیسے یا تگڑی سفارش ہے تو پھر ایف آئی آر درج کر لی جائے گی۔ پولیس کے عوام کے ساتھ عدم تعاون کا نتیجہ ہے کہ عوام تھانے کچہری کے نام سے ہی خوفزدہ ہو جاتے ہیں، حالانکہ پولیس کا رویہ عوام کے ساتھ دوستانہ ہونا چاہئے، عوام پولیس کے پاس آ کر جان ومال کا تحفظ محسوس کریں۔ مینار پاکستان کے گریٹر اقبال پارک میں پیش آنے والے واقعے کو پاکستان کے خلاف سازش بھی قرار دیا جا رہا ہے، یہ بعید از قیاس بھی نہیں ہے، یوم آزادی کے موقع پر اس طرح کے گھٹیا فعل سے کسے فائدہ ہو سکتا ہے ہمارے سکیورٹی اداروں کے حکام کی ذمہ داری ہے کہ ان کرداروں کو بھی سامنے لائیں، اس واقعے کے بعد پاکستانی سماج کا جو چہرہ دنیا کے سامنے پیش کیا گیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ معمولی نوعیت کا واقعہ نہیں ہے اس کے سکرپٹ رائٹر کو تلاش کر کے کٹہرے میں لانا ہی اصل کامیابی ہو گی۔