یارب زمانہ مجھ کو مٹاتا ہے کس لیے

محاورے اور ضرب الامثال صدیوں کے تجربات ،سوچ وفکر اور عقل وفکر کا نچوڑ ہوتے ہیں ،لیکن آج ہم جس ماحول میں زندہ ہیں وہاں ان محاورات اورضرب الامثال کے پس منظر اور صحیح تناظر میں دیکھنے اور پرکھنے کے بجائے ہم جیسے کم علم،کم فہم اور کج بحث ان کے الفاظ کو کسی اور تناظر میں پرکھتے ہوئے فوراً ”فتوے”جاری کرنے لک پڑتے ہیں۔اس لئے وزیر خزانہ شوکت ترین کے تازہ بیان کو ہم ایک پشتو محاورے کے حوالے سے پرکھنے کی جسارت کرتے ہوئے درخواست گزار ہیںکہ پشتو محاورے یاضرب المثل کو اس کے درست تناظر میں دیکھا جائے اور اسے (خدانخواستہ )کسی اور نقطہ نظر سے نہ پرکھا جائے ،تو پشتو کے الفاظ ہیں کہ ”ہندو ستڑے خدائے ناراضہ”ان الفاظ کا سلیس اردو ترجمہ یہ بنتا ہے کہ ہندو تھک جاتا ہے مگر اللہ پھر بھی ناراض رہتا ہے ۔ویسے ان الفاظ میں ایسی کوئی بات ہے بھی نہیں جن پر کچھ لوگوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑے ،اور واضح مطلب یہ ہے کہ ہندو سجدے کرتے کرتے تھک جاتا ہے مگر اللہ کی خوشنودی پھر بھی حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکتا ،کیونکہ اس کے سارے سجدے تو یوں رائیگاں جاتے ہیں کے وہ خالق کائنات کو نہیں اپنے ہی ہاتھوں سے بنائے ہوئے بتوں کے آگے ماتھا ٹیکتا ہے جو ظاہر ہے بت پرستی کے زمرے میں شامل ہے ،اور ہندو آکر ساری زندگی بھی ان بتوں کو سجدے کرتا پھرے تو رب العزت کیسے خوش اور راضی ہو سکتا ہے ،اس لئے تو کہا گیا ہے کہ بتوں سے تجھ کو امیدیں خدا سے نو میدی ،توشہ آخرت کیسے بن سکتی ہے ،ایک بھارتی فلم کا گانا بھی تو کچھ یوں ہے نا کہ
میرے ہاتھوں کے تراشے ہوئے پتھر کے صنم
آج بت خانے میں بھگوان بنے بیٹھے ہیں
یہ چند جملہ ہائے معترضہ بہ امر مجبوری مقطع میں سخن گسترانہ بات کی ماند در آئے ،اب آتے ہیں اصل موضوع کی جانب یعنی وزیر خزانہ شوکت ترین کے تازہ بیان کی جانب جس میں انہوں نے کہا ہے کے بجٹ میں کیے گئے بعض فیصلوں سے آئی ایم ایف خوش نہیں ،ٹیکس نیٹ بڑھانے کیلئے ڈیڑھ کروڑ افراد کا ڈیٹا حاصل کرلیا ہے ،ٹیکس ادا کئے بغیر ترقی نہیں کرسکتے، معاشی پالیسیاں بہتر ہوں گئی تو سرمایہ کاری ہوگئی ،تاجروں کے ساتھ مل کرملک کو آگے لے جانا ہے ،ہم نے جس پشتو ضرب المثل کاحوالہ دیا ہے وہ اس عالمی مہاجن ادارے آئی ایم ایف کے کردار کو پوری طرح واضح کرتا ہے ،دنیا میں دوقوموں کے بارے میں یہ بات بالکل واضح ہے کہ وہ سود کو نئی شکلوں میں ڈھال کر دنیا کے چھوٹے ممالک اور انفرادی سطح پر ضرورتمند، غریب لوگوں کا استحصال کرتی ہیں ،ایک تو یہودی ہیں جن کے حوالے سے سود کی حرمت بیان کرتے ہوئے قرآن مجید فرقان حمید میں جابجا سود کو حرام قرار دیا گیا ہے ، اور دوسری قوم ہندئوںکی ہے جو ضرورت مندوں سے ان کا سونا، جائیداد وغیرہ رہن رکھوا کر بھاری سود کے عوض قرضے دیتے تو بیاج (سود) کی قسط پہلے ہی کاٹ لیتے ‘ یوں لوگ اُن کے چنگل میں پھنس کر بالآخر تمام جمع پونجی سے ہاتھ دھو بیٹھتے، کچھ یہی حال آئی ایم ایف کا ہے جو بنیادی طور پر یہودیوں کے قبضے میں ہے ، اور عالمی سطح پر ملکوں کو سودی قرضوں کے جال میں پھنسا کر ”غلام” بنا دیتا ہے، مختلف ملکوں میں ترقیاتی منصوبوں کے نام پر جو قرضے دیے جاتے ہیں ، ۔ ان منصوبوں کی تکمل کے بعد ان میں اپنے حصہ وصول کرنے کے لیے یہ ڈکٹیشن دیتے ہیں اور اصل زر سے زیادہ سود کی قسطیں وصول کرتے ہوئے قرض لینے والے ممالک اس شیطانی مایا جال میں ایسے جکڑا جاتا ہے کہ قرضے ختم نہیں ہوتے، اور قرضوں کے سود کی ادائیگی کے لیے یہ ممالک مزید قرضے حاصل کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، اس عذاب سے جان چھڑانے کے لیے متعلقہ ممالک اپنے عوام پر ٹیکسوں کے نفاذ کے ایک ایسے گورکھ دھندے میں پھنس جاتے ہیں کہ عوام کی کھل تک ادھیڑ لی جاتی ہے مگر ”ہل من مزید” کی صدائیں بلند ہوتی رہتی ہیں، اس وقت ہماری صورت حال یہ ہے کہ ہم نے سٹیٹ بینک پر اسی ادارے آئی ایم ایف کے مسلط کردہ ”سربراہ” کو قبول کر رکھا ہے جو کسی کے آگے جواب دہ نہیں ہے۔ ملک کی شاہراہیں گروی رکھی جا چکی ہیں ، بجٹ سے پہلے ”عوام دوست” کا بیانیہ سامنے لایا گیا ۔ مگر بجٹ منظور ہونے کے بعد اصل
حقائق سامنے آنے شروع ہوئے اور ہر شعبے میں آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن کے تحت نت نئے ٹیکس لاگو کر کے عوام سے ان کے کپڑے تو اُتارے جا چکے ہیں جب کہ اب ان کی چمڑے ادھیڑنے کی تیاری ہو رہی ہے ۔ ایک جانب بجلی ، گیس ، پٹرولیم کے نرخوں میں مسلسل اضافہ کیا جا رہا ہے ، اوپر سے بجلی کے بلوں کی رقم 25ہزار روپے ہونے پر ساڑھے سات فیصد ٹیکس بھی لاگو کر دیا گیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب نرخوں میں اسی طرح اضافہ ہو گا تو وہ کون لوگ ہوں گے جو گزشتہ مہینوں کے مقابلے میں سابقہ خرچ شدہ یونٹوں کی قیمت میں اضافے کے بعد اتنے ہی یونٹ خرچ کرنے کے باوجود ساڑھے سات فیصد اضافی ٹیکس سے بچ پائیں گے؟ اسی لیے تو ہم نے پشتو کے ضرب المثل ”ہندو سجدے کرتے تھک جاتا ہے مگر خدا پھر بھی ناراض” رہتا ہے ، کو مثال کے طور پر استعمال کیا ہے، کہ پاکستان تو قرضے ادا کرتے کرتے تھک گیا ہے مگر آئی ایم ایف پھر بھی خوش نہیںہوتا۔ اور سارا زور عوام کو برداشت کرنے پڑے گا ، جو پہلے ہی بڑھتی ہوئی مہنگائی ، بے روزگاری اور غربت سے تنگ آ چکے ہیں۔ صورت حال خدا نخواستہ انقلاب فرانس تک نہ چلی جاتے ،جبکہ اس حوالے سے پرانی کلاسیک فلموں اور کامک کہانیوں میں خود مغرب ہی کے ممالک کی کہانیاں موجود ہیں جو ظالم حکمرانوں کے سپاہوں کے ہاتھوں لٹتے رہتے تھے۔ وہ ہر سال فصل کے مواقع پر آ کر غریب عوام کی کمائی لوٹ کرچلے جاتے تھے۔اس دور کے حکمرانوں کے خزانے تو بھرے جاتے جبکہ عام لوگ محرومیوں کا شکار ،بھوک اور پیاس سے تڑپتے رہتے اور پھر زمین جوتنے میں لگ جاتے ،یہ کامک کہانیاں کارٹون فلموں کی صورت میں بھی موجود ہیں اور حالات کے اس جبرنے وہاں رابن ہڈ اور زورو جیسے کردار جنم دیے جو حکمرانوں ،جاگیرداروں اور اعلیٰ طبقات کو لوٹ کر غریبوں کی داد رسی کرتے ہوئے ان میں لوٹی ہوئی رقوم تقسیم کر دیتے تھے، اب آئی ایم ایف نے وہ کردار سنبھالا ہوا ہے جو اس زمانے کے ظالم حکمرانوں اور اعلیٰ طبقات کا ہوا کرتا تھا، اس لیے اس عالمی مہاجن ادارے اور اس کے سرپرستوں کو سوچنا پڑے گا کہ وہ غریب ،ترقی پذیر ممالک کو کب تک اور کس حد تک لوٹتے رہیں گے۔بقول مرزا غالب
یارب زمانہ مجھ کو مٹاتا ہے کس لیے
لوح جہاں پہ حرف مکرر نہیں ہوں میں