WikiLeaks

سویڈن جنگی طیاروں کی مارکیٹنگ کےلئےافغانستان پربمباری چاہتاتھا،وکی لیکس

ویب ڈیسک :وکی لیکس کی جانب سے سامنے آنے والی ایک حالیہ دستاویز کے مطابق سویڈن کی مسلح افواج اپنے لڑاکا طیاروں کی مارکیٹنگ بڑھانے کے لیے افغانستان پر بمباری کرنا چاہتی تھیں۔

اس بات کا انکشاف سویڈن میں تعینات امریکی سفیر رابرٹ سلورمین نے نیٹوکو لکھے ایک مراسلے میں کیا تھا۔

مراسلے کےمطابق سویڈن کی خواہش تھی کہ وہ اپنے بمبار طیاروں ( JAS GRIPEN) کی مارکیٹنگ کےلئےافغانستان میں فضائی آپریشن میں حصہ لیناچاہتا ہےدوسرے الفاظ میں اپنےطیاروں کی فروخت کےلئےسویڈن نےافغانستان کےلوگوں پر بمباری کرنے کےتجربےکی اجازت مانگی تھی۔

مراسلےکےمطابق اس تجربےکےلئےسویڈن نےلابنگ بھی کی تھی،سویڈش فوج کا خیال تھا کہ اس جہاں افغانستان پر فضائی حملوں سےاس کی فضائیہ کوجنگی تجربہ حاصل ہوگاوہیں اس کے ہاں بنائےگئےجنگی طیاروں کی مارکیٹنگ بھی بڑھےگی۔

امریکی سفیر نےناٹوسے کہاتھا کہ سویڈن پردبائوڈالیں کہ وہ افغانستان کےلئے اضافی دستےاورجنگی وسائل فراہم کرے۔واضح رہےکہ جنگی تجربات دفاعی صنعت سےوابستہ کمپنیوں کےلئےاہم ہوتے ہیں ان کےذریعےثابت کیاجاتاہےکہ جنگی ہتھیارحقیقی جنگ میں کتنےموئثرہوتے یں۔