Shazray

رنگ روڈ کی تکمیل ضروری ہے

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمودخان نے ورسک روڈ تا ناصر باغ رنگ روڈ کے باقی کام کو مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ پشاور میں ٹریفک کے بڑھتے ہوئے مسائل پر قابو پایا جا سکے ‘ گزشتہ روز منعقدہ ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے ورسک روڈ تا ناصر باغ رنگ روڈ کے باقی ماندہ حصے کی تعمیر کے لئے نظر ثانی شدہ ڈیزائن اور پی سی ون سے اتفاق کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو منصوبے کا ٹینڈر جلد جاری کرنے اوراسے مکمل کرنے کی ہدایت کی ‘ رواں سال اکتوبر میں منصوبے کا باضابطہ سنگ بنیاد رکھنے کا عندیہ دیتے ہوئے اس سلسلے میں تمام لوازمات بروقت مکمل کرنے کی ہدایت کی۔ جہاں تک محولہ منصوبے کا تعلق ہے اس کی افادیت اپنی جگہ مسلمہ ہے کیونکہ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ شہر میں بڑھتی ہوئی آبادی کو ٹریفک کے حوالے سے جن مسائل کا سامنا ہے ان میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے ‘ اصولی طور پر ورسک تاناصر باغ رنگ روڈ کا یہ حصہ بہت پہلے تعمیر ہونا چاہئے تھا جس کی تعمیر کے بعد نوشہرہ ‘ چارسدہ اور دیگر متعلقہ علاقوں سے ٹریفک بغیر اندرون شہر داخل ہوئے بغیر باہر کے باہر ہی آسانی کے ساتھ یونیورسٹی ٹائون ‘ حیات آباد اور خاص طور پر جمرود روڈ تک آسانی سے پہنچ سکے گی جبکہ اس وقت یہ ساری ٹریفک شہر کے اندر داخل ہو کر رش میں اضافے کا باعث بن رہی ہے ،تاہم ”ہوئی تاخیر تو کچھ باعث تاخیر بھی تھا ”کے مصداق اب اس منصوبے میں جو تبدیلیاں سامنے آئی ہیں ان سے متعلقہ قریبی علاقوں کے لوگوں کو آسانیاں فراہم ہوں گی ۔اور 8.7کلو میٹر سڑک کے چھ لینز ہوں گے ‘ سڑک کے علاوہ سروس روڈ ‘ دوفلائی اوورز ‘ چار پل ‘ ایک انڈر پاس اور ایک انٹر سیکشن بھی منصوبے کا حصہ ہے جن سے نواحی علاقوں کے عوام کوبھی سہولت ملے گی۔
حکمت یار کا انتباہ!
حزب اسلامی افغانستان کے سربراہ انجینئر گلبدین حکمت یار نے بھارت کو متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف افغان سرزمین استعمال کرنے سے باز رہا جائے ‘ کشمیریوں کی جدوجہد کا بدلہ افغانستان کے ذریعے نہ لیا جائے ‘ بھارت افغان صورتحال پر بیان جاری کرنے کے بجائے اپنے داخلی مسائل پر توجہ دے ،دوسری جانب مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھارت کی مودی سرکار کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ مودی افغانستان سے سبق لے جہاں طالبان نے اقتدار پر قبضہ کرتے ہوئے امریکہ کو بھگا دیا ہے ‘ محبوبہ مفتی نے بھارت سرکار کو خبردار کیا کہ ہمارا امتحان نہ لیا جائے اور اپنے طریقے درست کریں ‘ صورتحال کوسمجھیں اور دیکھیں کہ آپ کے پڑوس میں کیا ہو رہا ہے ‘ انہوں نے قابض حکومت سے مقبوضہ کشمیر میں مذاکرات اور اس کی خصوصی حیثیت واپس کرنے پر بھی زور دیا ‘ گلبدین حکمت یار کا انتباہ نہ صرف بھارت بلکہ افغانستان کے ان سابق حکمرانوں کے لئے بھی چشم کشا ہونا چاہئے جوطالبان کے اقتدار سنبھالنے سے پہلے ایک جانب افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف تخریبی سرگرمیوں کے لئے استعمال کرتے تھے مگر حقائق سے چشم پوشی اختیار کرکے اس قسم کے الزامات کو تسلیم کرنے سے انکاری تھے ‘ افغانستان کے مختلف صوبوں میں متعدد بھارتی قونصل خانے بظاہر تو صرف افغانستان میں جاری بھارتی منصوبوں کی تکمیل پر نظر رکھنے اور افغان باشندوں کو ویزوں کی ”آسان” فراہمی کا فرض اداکر رہے تھے لیکن درپردہ یہ قونصل خانے پاکستان مخالف عناصر کو ہر قسم کی سہولیات فراہم کرکے پاکستان پر پراکسی وار مسلط کرکے اسے نقصان پہنچانے میں مصروف تھے ‘ جس میں افغانستان کی خفیہ ایجنسی این ڈی ایس بھی بھر پور مدد کر رہی تھی ‘ اور گلبدین حکمت یار کے انتباہ نے ان تمام الزامات کو درست ثابت کر دیا ہے ‘ اس لئے اب بھارت کوپاکستان کے خلاف پراکسی وار سے ہاتھ کھینچ لینا چاہئے بلکہ محبوبہ مفتی کی نصیحت کو اہمیت دیتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں بھی اپنے مظالم بند کرکے کشمیری قیادت سے گفت و شنید کے ذریعے مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے پر آمادہ ہو جانا چاہئے۔
القاعدہ کے وجود سے انکار؟
طالبان کے ترجمان نے کہا ہے کہ القاعدہ کاافغانستان میں کوئی وجود نہیں ہے اور طالبان کا ان کی تحریک سے کوئی رابطہ نہیں ہے ۔ سعودی عرب کے الحدیث چینل کو ایک انٹرویو میں طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان محمد نعیم نے کہا ہے کہ القاعدہ افغانستان میں موجود نہیں ہے اور ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے ‘ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی تحریک کے کابل پر قبضہ کے بعد امریکہ سمیت دیگر ممالک کے ساتھ افغانستان کی صورتحال پر بات چیت جاری ہے ‘ ادھر طالبان کے سربراہ ملا ہیبت اللہ اخونزادہ نے پاکستان کے کالعدم تحریک طالبان پاکستان(ٹی ٹی پی) سے متعلق تحفظات پر اعلیٰ سطحی کمیشن قائم کردیا جس نے کام کا آغاز بھی کر دیا ہے ‘ وائس آف امریکہ کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ طالبان کمیشن نے کالعدم ٹی ٹی پی کے رہنمائوں کو پاکستان کے ساتھ معاملات حل کرنے اور پاکستان حکومت کی جانب سے عام معافی کی صورت میں خاندانوں کے ہمراہ واپس جانے پر زور دیا ہے، دوسری جانب ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چوہدری نے بھی جمعہ کو ہونے والی ہفتہ وار بریفنگ میں بتایا تھا کہ کالعدم ٹی ٹی پی کی جانب سے پاکستان مخالف سرگرمیوں کے لئے افغان سرزمین استعمال کرنے کا معاملہ سابق افغان حکومت کے سامنے بھی اٹھاتے رہے ہیں اور آنے والی افغان حکومت کے سامنے بھی یہ معاملہ اٹھاتے رہیں گے ۔ طالبان انتظامیہ کی جانب سے داعش کے وجود سے انکار اور طالبان سربراہ ملا ہیبت اللہ کی جانب سے کالعدم ٹی ٹی پی کے معاملے پر کمیشن کے قیام کا اعلان خطے میں جاری کشیدگی کے حل میں اہم پیش رفت قرار دی جا سکتی ہے اور امید ہے کہ اس ضمن میں پاکستان کے تحفظات دور کرنے میں عملی اقدامات سامنے آئیں گے۔