جمہوریت کا ”مشروبِ مغرب”

افغانستان میں طالبان کے کنٹرول کے بعد ایک نظام حکومت کی بناپڑنے کو ہے ۔صاف نظر آرہا ہے کہ یہ نظام مغربی جمہوریت کے اصولوں کے مطابق نہیں بلکہ افغانستان کی داخلی ضرورتوں ،آبادی کے تنوع اور تہذیب وثقافت اور قبائلی مزاج کو سامنے رکھ کر ترتیب دیا جائے گا ۔طالبان کے نمائندوں نے نئے نظام کے خدوخال بڑی حد تک واضح بھی کر دئیے ہیںگویا کہ مستقبل کا نقشہ اسلام کے تصور شورائیت اورافغان جرگہ سسٹم یعنی اجتماعی دانش کے اصول پر مبنی ہوگا اور اس میں مغرب کی جمہوری اصطلاحات اور علامتوں کا بہت کم ہی گزر ہوگا۔ایک طرف افغانستان کے مستقبل کے منظر کے اُبھرتے ہوئے یہ خدوخال تو دوسری طرف مغرب کے باوسیلہ ملک جو عالمی اقتصادی اداروں اور اقوام متحدہ کے ذریعے افغانستان کی کلائی بہت آسانی سے مروڑ سکتے ہیں۔مغربی ممالک کا اصرار خود اپنی تراشیدہ جمہوریت پر ہوتا ہے۔ملکوں کی حمایت اور ان کی اقتصادی مشکلات کو کم کرنے یا بڑھانے کے تمام فیصلے وہ اسی معیار پر کرتے ہیں۔جوں جوں افغانستان میں نئے نظام کے اس انداز کے خدوخال واضح ہوتے جائیں گے مغرب کی معاندانہ مہم اضافہ ہوگا ۔اسی صورت حال کو بھانپتے ہوئے چین نے مغربی جمہوریت کے نقائص اور ناکامیوں پر ایک مکمل پالیسی بیان جا ری کیا ہے ۔شنید ہے کہ چین افغانستان کے نیا اور عوامی پسند کانظام اپنانے کے حق کا بھرپور دفاع کرے گا ۔روسی صدر پیوٹن نے بھی اشارتاََ مغربی ملکوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ افغانستان میں مداخلت نہ کریں۔ چینی دفتر خارجہ کی ترجمان ہیو چنگ ین نے اپنی ہفتہ وار بریفنگ میں بہت جامع بیان دیا یہ بہت احتیاط سے اپنا گیا ریاستی موقف ہے جس کی اصل وجہ افغانستان کانیا بننے والا منظر نامہ ہے۔یہ بیان من وعن کمونسٹ پارٹی آف چائنہ کے ترجمان گلوبل ٹائمز نے شائع کیا ۔اس کی بنیاد افغانستان میں جہاز سے گرکر جاں بحق ہونے والا انیس سالہ نوجوان ذکی انوری ہے۔یہ خوبرو نوجوان اپنے معاشی حالات سے نجات کی امید پر جہاز کے ٹائر سے لٹک کر افغانستان سے باہر نکلنا چاہتا تھا مگر اپنی زمین کی کشش ثقل نے اسے واپس زمین کی بانہوں میں پٹخ دیا ۔چین نے اس واقعے کو مغربی جمہوریت کے خلاف چارج شیٹ کی بنیاد بناتے ہوئے کہا کہ جمہوریت کا صرف ایک فارمولہ نہیں اور نہ ہی اس کی تعریف پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی اجارہ داری ہے ۔جمہوریت کیا ہے ؟کون اس کی تشریح کا اختیار رکھتا ہے ؟ اور کون سا ملک جمہوری نہیں؟اس فیصلے کا حق امریکہ اوراس کے اتحادیوں کو نہیں۔اس کے ساتھ ہی چینی جمہوریت کو حقیقی عوامی جمہوریت اور امریکی جمہوریت کو محض بیلٹ باکس کی جمہوریت قراردیا جس میں سیاسی ضرورتوں کا خیال رکھا جاتا ہے اور جس میں سرمایہ دار پیسے کے زور سیاسی جماعتوں پر اثر انداز ہو کر فیصلے کراتے ہیں۔ مغربی جمہوریت پر چین کی یہ چارج شیٹ اس لحاظ سے اپنے اندر وزن رکھتی ہے کہ نائن الیون کے بعد فوری بعد امریکی میڈیا میں یہ بحث چل پڑی کہ امریکہ نے مسلم دنیا میں حکمت عمل کی غلطی کہاں کھائی کہ اسے یہ دن دیکھنا پڑا؟امریکی دانشوروں اور تجزیہ نگاروں کی متفقہ رائے تھی کہ امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں وقت گزیدہ بادشاہتوں کو بیساکھی فراہم کرکے اور ان ملکوں میں جمہوریت کو متعار ف کرانے سے غفلت برت کر مار کھائی ۔صدام حسین کے بعثی اور شخصی اقتدار کو جدید مغربی جمہوریت اور انسانیت کے احترام پر مبنی ایک نظام حکومت سے بدلنے کا نعرہ بلند ہوا۔افغانستان کا زخم ابھی رس ہی رہا تھا کہ عراق کا وجود بھنبھوڑ ڈالا گیا اور جمہوریت کا یہ ٹھیلا ملکوں ملکوں گھومتا چلا گیا ۔افغانستان ،عراق ،شام ،لیبیا ،مصر ہر منڈیر کے آگے سے گزرتا چلا گیا ۔جمہوریت او رتہذیب تو کہیں نہ آئی مگر سول سٹرکچر کی تباہی نے خانہ جنگی کی دلدوز تاریخ رقم کی ۔اس وقت امریکہ جمہوریت کی دکان بڑھا کر جا رہا ہے تو کوئی ایک ملک بھی امن اور جمہوریت سے آشنا نہیں ۔چین کا یہ کہنا غلط نہیں کہ امریکہ نے جمہوریت کو کوکا کولا کی طرح فروخت اور متعارف کیا ۔گویا کہ ایک مخصوص کلچر،میعار اور وضع قطع کی حامل جمہوریت ہے تو قبول وگوار اگر جمہوریت میں مقامی رواج ،تہذیب عوامی مزاج کی پیوندکاری ہے تو اس کو ترازوسے اُٹھا کر دور پھینک دیا جاتا ہے، یہ الجزائر اور مصر کے جمہوری تجربوں کے ساتھ ہوتا رہا ۔جو اپنے معیار اور پروسیس کے اعتبار سے مغربی جمہوریت کے پیمانے پر پورا اترتے تھے مگر یہاں جمہوریت کے چہرے امریکہ کو ناپسند تھے۔کوکا کولا کا جو ذائقہ لندن اور واشنگٹن میں مقبول اور مروج تھا فطرت کی تنوع کونظر انداز کرتے ہوئے وہی ذائقہ وہی رنگ ،وہی نشہ وسرور قاہرہ اور بغداد میں تلاش کرنے کی خواہش نے مغربی جمہوریت کو پہلی بار سنجیدہ چیلنج سے دوچار کیا ہے اور آج طالبان اس سے قطعی الگ راہ پر چلنے کو تیار ہیں اورچین اس تصور پر تابڑ توڑ حملے کر رہا ہے۔