اگر مگر چونکہ چنانچہ

پچھلے چند دنوں میں چند ایسے ایسے واقعات رونما ہوئے جنہوں نے ہر صاحب اولاد خصوصاً بیٹیوں کے والدین کو خون کے آنسو رونے پر مجبور کر دیا لیکن اس سے زیادہ ستم بلکہ غم یہ ہوا کہ تاویلات کی تلواریں تھامے ہجوم امنڈ آئے ۔ جتنے منہ اتنی باتیں کسی المیہ یا سانحہ کا پس منظر اور حالات کو سمجھنے کا ہمارے یہاں رواج ہی نہیں۔ کھٹ سے کچھ اصول نکال کر بھاشن دینے لگتے ہیں ۔ ٹھنڈے دل سے اگر مینار پاکستان کے ساتھ واقعہ گریٹر اقبال پارک میں ایک ہفتہ کے دوران پیش آئے تین واقعات(یہ تین بھی وہ جن کی ویڈیو وائرل ہوئے) کا جائزہ لے کر ذمہ دار تلاش کئے جائیں تو یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ صورتحال کے ہم ہی ذمہ دار ہیں۔ والدین ‘ نظام تعلیم ‘ اساتذہ ‘ سماج ‘بدقسمتی سے ہم ایک دوسرے پر الزامات اچھال کر چسکے لے رہے ہیں۔ کچھ چسکے باز تو کہتے ہیں لڑکیاں گھروں سے نکلیں کیوںیعنی مرد ذات کا کوئی جرم نہیں۔ لڑکی کا گھر سے نکلنا جرم ہے ۔ فقیر راحموں کہتے ہیں ۔ اولاً تو لوگوں کو لڑکیاں پیدا ہی نہیں کرنی چاہئیں۔ اگر پیدا ہو ہی جاتی ہیں تو گھروں سے باہر نہ نکلنے دیں۔ ظاہر ہے یہ دونوں کام ممکن نہیں۔ ایک ذاتی مثال عرض کئے دیتا ہوں۔ میری صاحبزادی ڈیڑھ مہینے قبل مزید تعلیم اور اچھے مستقبل کے لئے امریکہ چلی گئی۔ پچھلے سال جب کورونا کی پہلی لہر آئی تو اس نے اپنے ماں باپ کے گھر سے نکلنے پر پابندی لگا دی ۔ کچھ ایپس تلاش کیں جو ضروریات زندگی کا سامان گھر کی دہلیز پر فراہم کرتی ہیں۔ اشیاء معیاری بھی ہوتی ہیں اور نرخ بھی کھلی مارکیٹ سے کم ،مثال کے طور پر پچھلے سال جب سبزی فروش آلو 80 روپے ‘ ٹماٹر 120 روپے اور پیاز 70 روپے کلو فروخت کر رہے تھے تو آن لائن اشیائے ضروریہ فروخت کرنے والے ٹماٹر 40 روپے ‘ آلو 50 روپے اور پیاز 45 روپے میں گھر تک پہنچا کر جاتے تھے ،شرط یہی ہوتی ہے کہ آپ کا مجموعی آرڈر کم از کم 300 روپے کا ہو ورنہ 20سے 30 روپے ایکسٹرا سروس چارجز کے نام پر لئے جاتے ہیں ۔ فروری 2020ء کے بعد سارے امور صاحبزادی نے سنبھال لئے ،کسی مجبوری میں بازار جانے کی ضرورت پڑی تو اپنی معاونہ کو لے کر وہ خود گئی وہ سمجھتی تھی کہ اس کے والدین اس عمر میں ہیں جہاں طبی ماہرین کے مطابق کورونا وباء سے انسان جلد متاثر ہوتا ہے ،ایک بیٹی نے والدین کی صحت و سلامتی کو مقدم سمجھا۔ اب مجھے وہ دانسو مبلغ بتائیں کہ صاحبزادی نے کیا غلط کیا؟ اب آتے ہیں اصل موضوع کی طرف ۔ یہ ٹک ٹاک کیوں مقبول ہوئی؟ آمدنی کا ایک ذریعہ بنی اس لئے اسے زیادہ تر سفید پوش گھرانوں کے بچوں اور بچیوں نے اپنایا ،لاریب کچھ غلط بھی ہوا مگر سو فیصد غلط نہیں غلط ہوتا تو پھر اس سے اہل دھرم وعقائد فائدہ نہ اٹھاتے ۔ مینارپاکستان میں ایک ٹک ٹاکر بچی کے ساتھ جو ہوا ،وہ تو شرمناک تھا ہی اس سے بڑھ کر بے شرمی یہ ہوئی کہ غول در غول لوگ ان ”مجاہدین” کی حمایت میں امنڈ آئے جو بدتمیزی سے آگے کے معاملات کے مرتکب ہوئے ۔ وہی وزیر اعظم عمران خان والی بات ”مرد روبوٹ تو نہیں ہے” یہ اس المیہ سے لوگ سنبھل نہیں پائے تھے کہ تین مزید ویڈیوز سامنے آئیں ۔ دو اس اقبال پارک کی ہیں اور ایک مال روڈ لاہور کی ۔مال روڈ والی ویڈیو پر کہا گیا یہ تو دو تین سال پرانی ہے ۔ مان لیا دو تین سال پرانی ہے لیکن پرانی ویڈیو سے جرم کی سنگینی کم ہو جاتی ہے؟ اور وقتی مذہبی بخار میں مبتلا ہو جانے والے یہ تو بتائیں کہ ان کے گھر کی خواتین کو مال روڈ جیسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا تب ان کا موقف یہی ہوتا یا کچھ اور؟
عرض کرنے کا مقصد ہے اگر مگر چونکہ چنانچہ یوں ہے تو ایسا ہوا کی دھمکیوں سے جی بہلانے اور سچ سے منہ موڑنے کی بجائے اخلاقی جرأت کیجئے ۔ مان لیجئے کہ یہ ا فسوسناک واقعات نیہیں ہونا چاہئیں تھے اور یہ بھی کہ ہمیں از سر نو سارے معاملات کا جائزہ لینا چاہئے ۔ خاندانی ماحول ‘والدین کی تربیت ‘ نظام تعلیم ‘ اساتذہ کے علم و ظرف اور خود سماج کے عمومی رویوں کا ۔ اس کے بغیر اصلاح احوال ممکن نہیں۔ یہ جووالدین اولاد کی پہلی غلطی یا ہم سے غلطی پر فقط یہ کہہ دیتے ہیں ”جوان بچہ ہے جی خود ہی سمجھ جائے گا” ان والدین سے بڑا ظالم او اولاد کا دشمن کوئی نہیں ،اصولی طور پر یہ والدین بگاڑ کے ذمہ دار ہیں صرف اپنی اولاد کے بگاڑ کے نہیں بلکہ معاشرے میں پنپنے والے بگاڑ کے بھی ۔ ہمارے نصاب تعلیم میں انسان سازی کے اسباق کتنے ہیں؟ کسی دن غور کیجئے کہ یہ نصاب تعلیم انسانی سازی میں معاون ہے بھی یا کاٹھ کے بندر بناتا ہے جن کی زندگی کا مقصد بعد از تعلیم ‘ نوکری ‘ شادی ‘ اولاد اور گاڑی و گھر بن کر رہ گیا ہے ؟ سچ کہوں تواولاد کے حوالے سے کچھ زیادہ جذباتی ہوں۔ وجہ یہ ہے کہ میں بیٹیوں کا باپ ہوں مجھے یہ اعتراف کرنے میں کوئی امر مانع نہیں کہ اس تھکے ہوئے رجعت پسند معاشرے میں میں بھی ان چند خوش قسمت لوگوں میں شامل ہوں جو بیٹیوں پر ملال نہیں فخر کرتے ہیں۔ میری بیٹیاں ہی میرا فخر ہیں یہی وارث بھی ‘ ہمارا فرض انہیں اچھی تربیت ‘اچھا ماحول اور وقت کی ضرورت کے مطابق تعلیم دلوانا تھا ،سو ہم نے وہ پورا کیازندگی کے ڈھب اونچ نیچ ۔ خاندانی اور سماجی روایات کی تعلیم انہیں دے دی اب زندگی انہیں گزارنی ہے ۔ فیصلے کا حق انہیں ہے ۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے چار اور بچیوں کے والدین اور خود بچیوں میں عدم تحفظ کا جو احساس بڑھتا جارہا ہے اس کا علاج کیا ہے؟ مکرر عرض ہے ۔ ہمیں اپنے گھریلو اور خاندانی ماحول کے ساتھ نظام تعلیم’ سماجی رویوں اور دیگر معاملات کا ازسر نو جائزہ لینا ہو گا۔ ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ کسی بچی پر الزام کی دھول کو بھی ہم سچ سمجھ لیتے ہیں ،اصولی طور پر ہمیں الزام کی دھول کو نہیں اپنی بیٹی کو اہمیت دینی چاہئے ،اس کا اعتبار کرنا چاہئے ۔ لاہور میں گزشتہ دنوںرونما ہونے والے افسوسناک واقعات پر سوشل میڈیا پر اٹھائی گئی بحثوں میں ہوئی جگی افشانیاں دیکھ ،پڑھ کر ماتم کرنے کو جی کرتا ہے ۔ کیا لوگ ہیں ،درندوں کی مذمت کی بجائے وہ اگر مگر چونکہ چنانچہ کے رزق سے پیٹ بھرتے ہوئے ۔ اچھا اس بھونڈی تاویلات پسند شعور سے محروم نسل کا فرمایا آسمانی صحیفہ ہوا ‘ اب کیا کریں ہم بیٹیوں کے والدین ۔ اپنی بیٹیوں کی قبریں گھر کے صحن میں کھودیں انہیں زندہ دفنا کر دیں؟ وہ جو سندھ میں ایک بچی کی لاش قبر سے نکال کر بے حرمتی کی گئی ،اس کابھی یہی قصور مانا جائے کہ محرم کے بغیر قبر میں کیوں تھی؟