پاکستان میں سائنسی علوم کی ناقدری

ایک عرصہ ہوا کہ ہمارے ملک سے ڈاکٹر، انجینئراور دیگر سائنسی علوم سے وابستہ شعبوں کے ماہرین مسلسل بیرون ملک جا رہے ہیں۔ اول تو یہاں ملکی تعمیر و ترقی میں بہت کم دلچسپی پائی جاتی ہے بلکہ ہماری قومی ترجیہات میں اسے کبھی اولیت ہی نہیں دی گئی۔ جس سے پسماندگی کے ساتھ ساتھ بے روزگاری میں اضافہ ہواہے۔ان سائنسی اور تکنیکی علوم کے حصول میںنوجوانوں کو اپنی قابلیت اورمحنت سے کئی کڑے مراحل طے کرنے پڑتے ہیں۔جب انہیں اپنی صلاحتیوں کو بروئے کار لانے کے مواقع نہیں ملتے تو پھر دیار غیر کا رخ کرتے ہیں اور کئی ہنر مند مجبوراً اپنا پیشہ چھوڑ کر یہاں غیر متعلقہ شعبوں اور اپنی ذہنی استعداد سے کم تر اسامیوں پہ ملازم ہو کر معاشی ضروریات پوری کرتے ہیں۔ سائنس کی افادیت سے بے خبری اوراس کے شعبوں میں رعب داب اور عوام پر دھاک جمانے کے روایتی رنگ ڈھنگ نہ ہونے سے اِن سائنسدانوں کی جہاں قدرومنزلت نہیں وہاں ان کی درسگاہوں کو بھی کم اہمیت دی جاتی ہے۔
ماضی میں امت مسلمہ نے سائنس کی ترویج و ترقی میں شاندار کارنامے انجام دئیے ہیں۔ مسلمان سائنسدانوں ہی نے دنیا کو پہلی بار اس خیال سے روشناس کیا تھا کہ سائنس اول و آخر ایک عملی اور تجربی علم ہے۔یہ سائنس ہی ہے جو آج ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک میں وجہ امتیازبن گئی ہے اوراس علم سے استفادہ حاصل کرنے والے ممالک اقتصادی طور پر بالا دست ہیں۔ ہم نے اپنے ہاں سائنس اور ٹیکنالوجی میں کوئی دلچسپی نہ لی اور یہ اجتماعی احساس ہی نہ رہا کہ قوم کے اقتصادی اور ترقیاتی مسائل حل کرنے کے لیے سائنس کے علمی اطلاق سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔پاکستان میں سائنسی علم کے حصول اور ترقی کی کوئی پہچان نہ ہو سکی۔سیاسی بنیاد پر سائنس کی درس گاہوں کا قیام عمل میں لایا گیا مگران میں بھی حکومتی بے توجہی کے باعث تحقیق اور تجرباتی علم و مہارت کا فقدان ہے۔سائنس اور ٹیکنالوجی کے فروغ کی بنیاد جدید تعلیم اور ہر شعبہ میں تحقیق ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں یونیورسٹی کی سطح پر تعلیم حاصل کرنے والوں کی تعداد پاکستان کے مقابلہ میں بیس گنا زیادہ ہے ۔ اس پر ستم یہ ہے کہ ہمارے ملک میں سائنس کی تعلیم حاصل کرنے والوں کی تعداد آرٹس کی تعلیم پانے والے طلبا سے بہت کم ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان میں کارگر اور عملی سائنس کا نظام نوجوان، فعال اور تجربہ کار سائنسدانوں کے ہاتھ میں نہیں ہے جیسا کہ ترقی یافتہ ممالک میں یہ عام روایت ہے ،چند مستثنیات سے قطع نظر ہماری یونیورسٹیوں میں بھی سائنس کا تخلیقی و تحقیقی معیار کم ہوتا جا رہاہے۔ اِن اداروں کی جانچ اورنصاب کو پرکھنے والے سرکاری ادارے بھی اپنے لگے بندھے اصولوں پہ کاربند ہیں جو محض منظور شدہ جرائد میں تحقیقی مضامین کی اشاعت اور مقررہ تعداد کو ہی محقق کا کارنامہ سمجھتے ہیں۔ یونیورسٹیوں سے باہر پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر میںبہت سے کاغذی قسم کے تحقیقی ادارے اور تنظیمیں صرف بیرونی فنڈ کے حصول میںقائم ہو چکی ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ان اداروں کے سربراہوں کا سائنسی علوم سے کوئی تعلق نہیں۔ سائنس اپنی ترقی کے لیے بلند خیال اور پیشہ ورانہ صلاحتیں رکھنے والی شخصیات کی محتاج ہے۔ اُن کے لیے ایسے حالات اور آسانیاں پیدا کی جائیں کہ یہ لوگ کبھی اپنا مُلک چھوڑ کر نہ جائیں اور یہاں رہ کر ملکی تعمیر و ترقی میں کردار ادا کرتے رہیں۔ یہ دیکھ کر افسوس ہوتا ہے کہ ملکی ترقیاتی منصوبوں کی پلاننگ میں کوئی ڈاکٹر،انجینئر اورسائنسدان شامل نہیں ہوتا۔ اس سے بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ہمارے ارباب، اقتدار ملک کی تعمیر و ترقی میں کس درجہ سنجیدہ ہیں۔ مجھے نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر عبدالسلام کا وہ مکالمہ یاد آ جاتا ہے جب انہوں نے پلاننگ کمیشن کے ایک سابق چیئرمین سے کہا کہ سائنس پر مبنی صنعتوں کی منصوبہ بندی کرتے وقت سائنسدانوں سے ضرور مشاورت کر لیجئے گا ۔ چیئرمین نے تنک مزاجی سے جواب دیا کہ میںاپنا گھر چلانے کے لیے اپنے باورچی سے مشورہ نہیں لیا کرتا۔ ڈاکٹر صاحب کا کہنا تھا کہ مجھے اس بابو نے پھر یہ جواب نہ دیا کہ وہ کون سے قدرتی حق کی بنا پر پلاننگ کمیشن کے سربراہ بنے بیٹھے ہیں۔ یہ صرف ایک بابو کی بات نہیں بلکہ اب تو ہسپتالوں کے انتظامی سربراہ، سائنس سے وابستہ محکموں کے سیکرٹری اور سائنسی تجربہ گاہوں یا پراجیکٹ کے حکام وہ لوگ ہیں جنہوں نے کبھی سکول میں بھی سائنس نہیں پڑھی۔ یہی وجہ ہے کہ اب تک ہم سائنس و ٹیکنالوجی میں خود اعتمادی پیدا نہ کر سکے اور ترقیاتی منصوبوں کی کوئی واضح پالیسی موجود نہیں۔ اخبار کے ایک عام قاری کے لیے تو سائنس سے مراد کمپیوٹر،جہاز،سٹی سکین اور اس قسم کی دیگر سنسنی خیز مشینیں ہیںلیکن ہمیں کامیابی تب ہوگی جب یہاں دانشوری کی عزت وتوقیر ہو۔تعصب و تنگ نظری کی بجائے رواداری کا ماحول ہو۔ہمارے لوگ سائنسی علوم میں اعلیٰ درجے کی قدرتی صلاحیت رکھتے ہیںلہٰذا قوم کی سوچ میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی اہمیت و افادیت جتانے کی ضرورت ہے ۔ سائنس پڑھنے والے اگر اس کے جملہ امکانات کو محسوس کریں تو اعلیٰ ذہنی خوبیوں اورعادتوں کو پروان چڑھایا جا سکتا ہے۔ ذہن کا اعلیٰ معیار تشکیل پانے سے ہی تسخیرکائنات کی راہیں آسان ہوں گی۔