دس ویلرنشہ

دس ویلرنشہ کے خلاف قانون سازی کا فیصلہ

ویب ڈیسک :خیبر پختونخوا میں پھیلنے والے مہلک اور خطرناک نشے دس ویلر کو صوبائی حکومت نے نشے کے زمرے میں شامل کرتے ہوئے اس کیخلاف قانون میں ترامیم لانے کا فیصلہ کر لیا ہے اس سلسلے میں محکمہ ہائے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن اور قانون وپارلیمانی امور کو ترامیم لانے کا ہدف حوالے کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ صوبائی اسمبلی میں6اگست کوتحریک التوا بحث کیلئے متفقہ طو رپر منظورکی گئی تھی تحریک التوا جماعت اسلامی کے رکن عنایت اللہ خان نے مشرق اخبارمیں شائع ہونے والی خبر کی بنیاد پر پیش کی تھی اورایوان کوآگاہ کیاتھا کہ پشاور اور اسلام آبادمیں مختلف قسم کی ممنوعہ ادویات اور کوکین سے دس ویلرکے نام سے ایک نیاجان لیوانشہ ڈرگ مافیا نے متعارف کرایا ہے جس کی وجہ سے قلیل عرصہ میں درجنوں کی تعداد میں نوجوان دل کا دورہ پڑنے اور شریانیں پھٹ جانے کی وجہ سے جاں بحق ہوئے ہیں۔

شوکت یوسف زئی نے اس بارے میں ایوان کو بتایا کہ معاملہ پر کمیٹی قائم کرتے ہیں لیکن سپیکر نے بتایا کہ کمیٹی بنانے میں بہت وقت ضائع ہوگا اس لئے فوری طور پر اپوزیشن کے ممبران کی مشاورت کے ساتھ اس حوالے سے قانون کا مسودہ اسمبلی میں پیش کیا جائے تاکہ اس نشہ کو روکا جاسکے۔